ایران کے بغیر، خطے کے نئے سیکیورٹی انتظامات قابلِ عمل نہیں ہوں گے؛ یمن کے ساتھ ہمارے مشترکہ مفادات ہیں؛ آئندہ جنگ میں نیا محاذ کھولیں گے، میجر جنرل صفوی

سپریم کمانڈر انچیف کے معاون اور اعلیٰ مشیر نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس اور مغربی ایشیاء کے سیکیورٹی انتظامات ایران کے محور کے ساتھ تشکیل پائیں گے، کہا: ایران کے بغیر نئے سیکیورٹی انتظامات کا کوئی معنی نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ قابلِ عمل ہوں گے۔
خبر کا کوڈ: 6278
تاریخ اشاعت: 24 September 2026 - 23:20 - 15December 2647

محمد زرچینی:

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ: مغربی ایشیاء کے خطے کی سیکیورٹی صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوبچکی ہے اور مختلف ممالک اس حسّاس اسٹریٹجک خطے میں کشیدگی کے اضافے پر مختلف حالات کے ساتھ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دہشت گرد امریکی فوج خلیج فارس میں اپنے مطلوبہ سیکیورٹی انتظامات مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا سامنا اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردعمل کے ذریعے سے ہوا ہے۔ اسی لیے خطے کی صورتحال اور خلیج فارس کی جغرافیائی سیاست کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے سپریم کمانڈر انچیف کے معاون اور اعلیٰ مشیر اور شہید قاسم سلیمانی تحقیقی مرکز برائے علوم و معارف دفاعِ مقدس کے سربراہ میجر جنرل «یحییٰ صفوی» سے گفتگو کی، جس کا حاصلِ گفتگو ذیل میں پیش ہے۔

میجر جنرل صفوی

میڈیا کی جنگ اور ایران کا بیانیہ

دفاع پریس: چونکہ حالیہ دونوں جنگیں صرف فوجی جنگیں نہیں تھیں بلکہ بیک وقت میڈیا کے میدان میں بھی ایران اور مغربی محاذ کے درمیان جنگ جاری رہی۔ ان جنگوں میں ملکی میڈیا کی کارکردگی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور اس میڈیا مقابلے نے ایران کے بارے میں عالمی بیانیے، خطے کے لوگوں کی رائے اور ایران کے بارے میں دنیا کے لوگوں کے  بدلتے ہوئے نقطۂ نظر پر کیا اثر ڈالا؟

میجر جنرل صفوی: میں ہفتۂِ دفاعِ مقدس کی آمد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جو ہمارے عظیم الشان شہداء کی شجاعتوں اور جدوجہد کی یاد کو تازہ کرتا ہے اور تمام ملکی میڈیا، بالخصوص دفاعِ مقدس نیوز ایجنسی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے حالیہ دونوں مسلط کردہ جنگوں میں ذہانت اور اعلیٰ توجہ کے ساتھ خبر پہنچانے کی ذمہ داری انجام دی۔

حالیہ دونوں جنگیں محض فوجی جنگیں نہیں تھیں بلکہ ایران کے محاذ اور امریکہ کی سربراہی میں مغربی محاذ کے درمیان میڈیا جنگیں بھی تھیں۔ ایرانی میڈیا نے پیش قدمی کرتے ہوئے پہلا راوی بننے میں کامیابی حاصل کی اور دشمن کے میڈیا محاذ کو شکست دی۔ حالیہ جنگ میں ملکی میڈیا تیزی اور دیانت داری کے ساتھ خبریں پیش کر رہا تھا اور اس نے دشمن کے لیے معلوماتی میدان میں کام کرنے کو مشکل بنا دیا تھا۔

ایران کے خلاف مغرب کی میڈیا حکمتِ عملی ایک «پیچیدہ میڈیا کا کھیل» ہے۔ دشمن نے اس حکمتِ عملی کو جانبدارانہ خبر پہنچانے اور نفسیاتی جنگ کے لیے استعمال کیا۔ غیر ملکی میڈیا یہ جنگ جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا یا اسے ایران کی جوہری طاقت کے خلاف دفاع کے لیے ایک پیشگی اقدام کے طور پر پیش کر رہا تھا۔ اسی طرح مغربی میڈیا اور بعض فارسی زبان کے میڈیا ادارے شدید سنسرشپ کے ذریعے مغرب کے معلوماتی معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔ بعض فارسی زبان کے میڈیا ادارے مثال کے طور پر انٹرنیشنل، حتیٰ کہ اسرائیلی فوج کی مدد کر کے صیہونی حکومت کے معلوماتی معاون کا کردار ادا کر رہے تھے اور اس کی حکومت کو پہنچنے والے نقصانات کو سنسر کر رہے تھے۔

دفاعِ مقدس نیوز ایجنسی اور ٹیلیویژن سمیت ملکی میڈیا نے تیزی اور پیش قدمی کے ساتھ امریکہ کی میڈیا اجارہ داری کو توڑا اور خبروں کو توجہ اور تیز رفتاری کے ساتھ نشر کیا۔ ملکی میڈیا نے ایران کے میزائل حملوں اور سمندر میں ایران کی فیصلہ کُن ضربوں کی فوری اشاعت،ل نیز جنگ کی کامیابیوں کی وضاحت کے ذریعے دشمن کے ساتھ میڈیا مقابلے میں اہم کردار ادا کیا۔

جنگ کے بارے میں ایرانی میڈیا کی درست روایات، امن پسندی کے کلیدی تصورات کی وضاحت، ایران کو دفاع کرنے والے فریق کے طور پر متعارف کرانا اور جائز دفاع کے تصور کی وضاحت، جنگ کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے میں ملکی میڈیا کی اہم خصوصیات میں شامل تھیں۔ ہم نے جنگ شروع نہیں کی تھی؛ یہ دشمن تھا جس نے ہم پر جنگ مسلط کی۔ ایران کی مظلومیت کو اجاگر کرنا، عالمی سطح پر ملک کے ساتھ ہمدردی پیدا کرنا اور میناب کے سانحے میں دشمن کے جرائم کو بے نقاب کرنا، ان سب عوامل نے ایرانی قوم کے دشمنوں کی مذمت کا پیش خیمہ فراہم کیا۔

دفاعِ مقدس نیوز ایجنسی جیسے میڈیا ادارے «جنگی محاذ کے سپاہی اور کمانڈر» ہیں۔ ان میڈیا اداروں نے جنگ کی خبروں اور امریکہ کے جرائم کی عکاسی کرتے ہوئے ایران کی مظلومیت کو دنیا کے لوگوں تک پہنچایا۔ ہسپتالوں اور پُلوں پر حملوں سے لے کر غیر فوجی مراکز اور حتیٰ کہ نیوز ایجنسیز کے مراکز تک۔ محاذِ مزاحمت کی وضاحت، قومی ثابت قدمی میں اضافہ اور فتح کے بیانیے کو اپنے ہاتھ میں لینا وہ خصوصیات ہیں جو ملکی میڈیا کو کامیاب میڈیا کے طور پر متعارف کراتی ہیں۔

اس جنگ نے واضح کیا کہ میزائل اور ڈرون بھی میڈیا بیانیے میں کردار ادا کرتے ہیں، تاہم دشمن آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور حقائق کو جعلی بنانے کے ذریعے اپنے لیے فتح کا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔

جنگِ رمضان نے دنیا کے لوگوں کے ایران کے بارے میں نقطۂ نظر کو تبدیل کر دیا۔ حتیٰ کہ غزہ کی جنگ میں بھی یورپ کے بعض لوگ، جو اس سے قبل صیہونی حکومت کے حامی تھے، اپنے مؤقف سے پلٹ گئے۔ بیرونِ ملک مقیم ۶ سے ۷ ملین ایرانیوں کی رائے بھی ایران کے بارے میں تبدیل ہوئی اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے ملک کے دفاع کے لیے آواز اٹھائی۔

بدقسمتی سے بعض لوگ ایران کے قومی میڈیا پر حملہ کرتے ہیں! میرا پیغام یہ ہے کہ حکّام کو دفاعِ مقدس نیوز ایجنسی جیسے ملکی خبر رساں اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ جس طرح ہم ایک کروز یا بیلسٹک میزائل پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، اگر میڈیا پر بھی اتنی ہی سرمایہ کاری کریں تو اس کا بھی اتنا ہی اثر ہوگا۔

صحافت اور خبر کی تصویرکشی ایک انتہائی جرأت مندانہ کام ہے اور یہ کہ آپ اور آپ کی ٹیم جنگ کے دوران خبر اور تصاویر تیار کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہیں، بہت زیادہ جرأت کا تقاضا کرتا ہے اور میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جنگ واقعی پیچیدہ تھی اور اللہ سپریم کمانڈر کو غریقِ رحمت فرمائے کہ وہ اس جنگ میں اپنے خاندان کے ایک گروپ کے ساتھ شہید ہوئے اور ان کی شہادت کے ساتھ عوام مبعوث ہو گئی۔

خطے کے نئے سیکیورٹی انتظامات

دفاع پریس: حالیہ دونوں جنگوں اور میدانی اور میڈیا کے میدان میں ایران کے مؤثر کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے، نئے سیکیورٹی نظام کی تشکیل میں ایران کے مقام کے بارے میں خطے کے ممالک اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے نقطۂ نظر کا آپ کیسے جائزہ لیتے ہیں اور ان تبدیلیوں نے علاقائی معاملات میں جنگ کے تصور کے لیے کیا مقام پیدا کیا ہے؟

میجر جنرل صفوی: بلاشبہ خلیج فارس اور مغربی ایشیاء کے سیکیورٹی انتظامات ایران کی محوریت کے ساتھ تشکیل پائیں گے اور ایران کے بغیر کوئی بھی نیا سیکیورٹی انتظام بالکل بے معنی ہوگا اور نہ ہی قابلِ عمل ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران ہی خطے کے ممالک، بشمول خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک اور دیگر ممالک کی شرکت کے ساتھ خطے میں کئی سالوں تک پائیدار سلامتی اور ترقی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

بلاشبہ امریکیوں کی وہ حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے جس کے تحت وہ ایک خطے کو صیہونیوں کے حوالے کرنا چاہتے تھے تا کہ صیہونی مغربیوں کے بقول، نیا مشرقِ وسطیٰ یا وسیع تر مشرقِ وسطیٰ تشکیل دیں۔ حتیٰ کہ بعض عرب ممالک جن میں قطر اور دیگر ممالک شامل ہیں، نے محسوس کیا کہ اسرائیل ان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ خطے کے سیکیورٹی انتظامات اور مستقبل کی تشکیل خطے کے ممالک اور ایران کی شرکت اور یقیناً غیر ملکیوں کی عدم موجودگی میں ہوگی۔ ایران بھی ان سیکیورٹی انتظامات میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

چونکہ ہمارے پاس اسٹریٹجک معلومات نہیں ہیں، اس لیے ہم نہیں سمجھ سکتے کہ «ٹرمپ» اور «نیتن یاہو» کے ذہن میں کیا چل رہا ہے لہٰذا ہماری مسلح افواج انتہائی دانشمندی سے مختلف منظرنامے تیار کرتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے بدترین ممکنہ حالات کے لیے بھی اپنے منصوبے تیار کر رکھے ہیں تا کہ اگر امریکی اور صیہونی کسی بھی طریقے سے دوبارہ ہمارے مراکز اور قومی مفادات پر حملہ کریں تو اس مرتبہ جنگ کے محاذ کو مزید وسعت دی جائے۔ اب جبکہ یہ محاذ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے بحیرۂ احمر تک پھیل چکا ہے، ممکن ہے کہ امریکہ کے ساتھ آئندہ ممکنہ جنگ کے اگلے مرحلے میں جواب دیتے ہوئے یہ محاذ مزید وسیع ہو جائے اور بحرِ ہند یا دیگر علاقوں تک بھی پھیل جائے۔

دفاع پریس: دشمن کے مقابلے میں ایران کی عظیم قوم کی ثابت قدمی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

میجر جنرل صفوی: آج ہماری تمام مسلح افواج جن میں مسلح افواج کا جنرل سٹاف، حضرت خاتم الانبیاءؐ سینٹرل ہیڈکوارٹر، طاقتور فوج اور مضبوط سپاہ شامل ہیں، مضبوطی کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ گزشتہ جمعہ ہی ہم نے دیکھا کہ تہران میں ۳۱۳ ہزار طاقتور بسیجی رضاکاروں نے رجسٹریشن کرائی اور فوجی مشق منعقد کی۔ اسی طرح جانفدا تحریک میں ۳۰ ملین سے زائد افراد نے رجسٹریشن کرائی اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کے درمیان ایک موزائیکی طاقت اور قومی مزاحمت موجود ہے۔

اپنی کمان کے دور میں، جب میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کمانڈر تھا، ہم نے «موزائیکی دفاع» کی بنیاد پر غیر متوازن جنگوں کی منصوبہ بندی کی تھی تا کہ خطرے کی صورت میں ہر شہر اور گاؤں میں موزائیکی انداز سے بیرونی دشمن کے حملوں کے مقابلے میں ملک کا دفاع کیا جا سکے۔ البتہ وہ دفاع، بری دفاع تھا اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بحری اور فضائی شعبوں میں بھی اس مزاحمت کو تشکیل دے سکیں۔

میرا خیال ہے کہ اگر امریکی، دانشمندی سے سوچیں تو وہ ایران کی تجاویز قبول کریں گے۔ اگرچہ ہم ہمیشہ امریکیوں اور اسرائیلیوں کو عدم اعتماد کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ امریکی انتہائی دھوکے باز ہیں۔ ان کے کام کا بنیادی اصول اچانک حملہ، دھوکہ دینا اور چالاکی ہے۔ تاہم حکومتی عہدیدار، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور ہماری مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں۔

ہمیں انتہائی اعلیٰ انٹیلیجنس برتری حاصل ہے اور ہم بحیرۂ روم سے بحیرۂ احمر اور بحرِ ہند تک امریکیوں کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں؛ ہمیں معلوم ہے کہ ان کے بحری بیڑے، طیارے اور افواج کہاں موجود ہیں اور ہم مکمل طور پر جنگ کے لیے تیار ہیں۔ البتہ ایران امن اور پائیدار سلامتی کا خواہاں ہے۔ ایران جنگ پسند نہیں؛ ہم ایک امن پسند قوم ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم جارحین کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے۔

قوم، حکومت اور اسلامی انقلاب کے رہبر «حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای» کو جنگ کا تجربہ حاصل ہے اور ہمارے عزیز رہبر آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں شرکت کر چکے ہیں۔ میں نے انہیں اس وقت، جب ان کی عمر ۱۶ یا ۱۷ سال تھی، حق و باطل کی جنگ کے مختلف محاذوں پر کم از کم تین مرتبہ دیکھا ہے۔ وہ ایسے شخص ہیں جنہوں نے جنگ کو قریب سے محسوس کیا، تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک انقلاب کے شہید رہبر کی خدمت میں رہے، کافی فوجی ٹریننگ حاصل کی اور جنگ کے معاملات سے واقف ہیں۔

میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی کمان کے دوران ۱۰ سال تک سید علی خامنہ ای اور حضرت سید مجتبیٰ خامنہ ای کی خدمت میں بھی حاضر ہوتا رہا اور مختلف معاملات اور سپاہ کے انتظام کے طریقۂ کار کے بارے میں ان سے مشاورت کرتا تھا۔ ہمیں ایک بہادر، عوام دوست اور ایسا رہبر حاصل ہے جو عوام پر مبنی دفاع کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہمارے پاس بہادر قیادت، مزاحمت کرنے والی قوم اور خدمت گزار حکومت ہے اور ہم دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی جنگی تیاری رکھتے ہیں۔ البتہ ہمیں امید ہے کہ نئی جنگ رونما نہ ہو اور ہم اس کوشش میں ہیں کہ جنگ کا سایہ اپنے ملک سے دور کریں تا کہ ہماری قوم کو سکون حاصل ہو اور حکومت عوام کے مسائل کو حل کر سکے۔ لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم ہمہ جہت دفاع کے لیے تیار ہیں۔

جنگ، ثابت قدمی اور ارادوں کی جنگ ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں زندگی کے اخراجات کی شرح میں اضافے نے اس ملک کے لوگوں کی معاشی ثابت قدمی کو متاثر کیا ہے۔ لہٰذا معاملہ صرف پیٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں بلکہ امریکہ میں ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، جس طرح ایران میں بھی ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔ اس بنیاد پر دیکھنا ہوگا کہ دونوں فریقوں میں سے کون ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ دیر تک مزاحمت کر سکتا ہے۔ اب تک ہماری قومی کارکردگی اور ثابت قدمی مناسب رہی ہے۔ البتہ حکومت کو کنٹرول اور نگرانی کرنی چاہیے لیکن جنگ اور دفاع کے معاملے میں ہم نے دکھایا کہ دفاعِ مقدس کے دوران ایرانی قوم ایک مزاحمت کرنے والی قوم ہے۔ اس مزاحمت نے ہمیں یہ بتایا کہ چونکہ ہم اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے ہم جانتے ہیں کہ شہادت مرنا نہیں بلکہ زندگی ہے۔ یہ جنگ قومی مزاحمت اور ارادوں کی جنگ ہے اور یہی وہ معاملہ ہے جس سے امریکی محروم ہیں۔

ہم اپنے دفاع کے لیے لڑتے ہیں۔ وہ کس لیے لڑتے ہیں؟ امریکیوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے کسی بھی مقصد تک نہیں پہنچ سکے۔ وہ آبنائے ہرمز کو کھول نہیں سکے، ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکے، ایران کی مسلح افواج اور ایران کی پر امن جوہری توانائی کو بھی ختم نہیں کر سکے اور ایران پر حملے میں کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر سکے۔ لہٰذا ہم آئندہ انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کے امکان کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ تاہم ہمیں دشمن کے بارے میں سادہ لوح نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں اس معروف شعر کے مطابق عمل کرنا چاہیے:

«اگر دنیا میں سکون چاہتے ہو تو مضبوط بنو؛ کیونکہ نظامِ فطرت میں کمزور روند دیا جاتا ہے۔»

اندرونی طاقت بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا ملک طاقتور ہو، عوام حکومت اور اپنی زندگی سے مطمئن ہوں اور ملک کی مسلح افواج تیار ہوں۔ اس وقت ہماری مسلح افواج تیار ہیں اور دشمن کی ہر حرکت کے مقابلے میں ذہانت اور ہوشیاری کے ساتھ طاقتور انداز میں کھڑی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ امریکی دوبارہ غلطی نہیں کریں گے کیونکہ بصورتِ دیگر ہم انہیں پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیں گے اور وہ اپنے کیے پر پشیمان ہوں گے۔

آبنائے ہرمز کا انتظام

دفاع پریس: ایران آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریقۂ کار کیسے چلاتا ہے اور کیا اس اسٹریٹجک آبنائے کی صورتحال پہلے کی طرح بحال ہو جائے گی؟

میجر جنرل صفوی: ایران ہمیشہ کے لیے اس آبنائے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کنٹرول اور منظم کرے گا۔ بین الاقوامی قانون کے حوالے سے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے معاملے پر ہم عمان کے ساتھ ایک طریقۂ کار تک پہنچے ہیں لیکن امریکی اس معاملے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون میں «بے ضرر گزرگاہ» کے عنوان سے ایک اصول موجود ہے، جس کے مطابق اگر ساحلی ریاستیں محسوس کریں کہ بعض بحری جہاز دشمن کے جہاز ہیں یا حتیٰ کہ ماحول کے لیے آلودگی پیدا کر رہے ہیں تو وہ ان جہازوں کو گزرنے سے روک سکتی ہیں۔

ہماری تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ سمندر کے ذریعے ہوتا ہے اور دشمن بحری محاصرے کے ذریعے ہمیں دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ ہمیں بھی آبنائے ہرمز کا سمارٹ کنٹرول اور انتظام اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے اور یہ ضروری ہے۔ ہم بہت سے ممالک، مثلاً عوامی جمہوریہ چین، کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمد و رفت کی اجازت دیتے ہیں لیکن دشمن کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ ایران کا حق ہے کہ اس آبنائے کی سلامتی برقرار رکھے جو اس سے متعلق ہے۔

امید ہے کہ ہمارے پاس موجود دباؤ کے آلے کے ذریعے ہم پابندیوں اور بحری محاصرے کو ختم کر سکیں گے اور لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے صیہونی حکومت پر دباؤ کو بڑھا سکیں گے کیونکہ اس وقت اسرائیل جنوبی لبنان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس لیے دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہونا چاہیے۔

اگر امریکی ایران کی پیش کردہ سات شقوں پر عمل کریں تو میرا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکّام آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے طریقۂ کار کو کسی اور شکل میں زیرِ غور لا سکتے ہیں۔

میجر جنرل صفوی

یمن اور انصار اللہ

دفاع پریس: یمنی عوام کے بارے میں کیا کہیں گے؟ اس وقت یمن کی صورتحال کا آپ کیسے جائزہ لیتے ہیں؟

میجر جنرل صفوی: دشمن یمنی عوام کو نہیں جانتے۔ پہلی بات تو یہ کہ یمن کئی ہزار سال پرانی تہذیبی تاریخ رکھتا ہے اور یہ صرف ایک سرزمین نہیں ہے؛ اس ملک کا رقبہ ۵۰۰ ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے اور اس وسیع رقبے کا ایک بڑا حصہ میدانی علاقہ ہے۔

گزشتہ ۱۰۰ سال سے زیادہ عرصے سے یمنی عوام ہر اس حملہ آور طاقت کے مقابلے میں کھڑے رہے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے ان کی علاقائی سالمیت پر دست درازی کرنا چاہتی تھی۔ اسی طرح برطانیہ اور مصر نے یمن پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ مثال کے طور پر مصر کے صدر «جمال عبدالناصر» نے ۶۰ ہزار سے زیادہ فوجی اہلکاروں کے ساتھ یمن پر حملہ کیا اور اپنی افواج کا ایک بڑا حصہ کھو دیا کیونکہ یمنی عوام نے تمام حملہ آور افواج کو ہلاک کر دیا۔

یہ وضاحت ضروری ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے وقت «سید عبدالملک بدرالدین حوثی» کے والد اپنے بھائی «حسین الحوثی» کے ساتھ قم میں مقیم ہوئے اور تین چار ماہ قم میں رہے۔ انہوں نے امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کے طرزِ زندگی کو اپنا نمونہ عمل قرار دیا۔ جب «بدرالدین حوثی» یمن واپس گئے تو انہوں نے دینی مدارس کی توسیع اور عوام کے روزمرہ امور کی دیکھ بھال شروع کی۔ اس کے بعد انہوں نے بتدریج انصار اللہ تحریک تشکیل دی اور یہ تحریک اس وقت آبنائے باب المندب پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور بحیرۂ احمر پر نگرانی رکھتی ہے۔

انصار اللہ تحریک کے اپنے اہداف اور حکمتِ عملی ہیں اور انہوں نے اسلحہ بنانے کے شعبے میں بھی بہت اچھی پیش رفت حاصل کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ خلیج فارس اور بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کا باہمی ربط جنگ کے میدان کو تبدیل کر دے گا۔

یہیں مجھے اعلان کرنا چاہیے کہ اگر امریکی نئی جنگ شروع کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کے محور کے ساتھ ایک نیا محاذ کھل جائے۔ کیا وہ اس محاذ پر جنگ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس پر انہیں زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

بہرحال ہم یمنی عوام کا دفاع کرتے ہیں، یمنی عوام ایران کا دفاع کرتے ہیں اور ایران اور یمن کی تقدیر مشترک ہے۔ مشترکہ مفادات کے حوالے سے بھی اور مشترکہ خطرات کے حوالے سے بھی۔ حقیقت میں یمن کو درپیش خطرہ ایران کو درپیش خطرہ ہے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ہیں۔

مجھے امید ہے کہ یمنی عوام سعودی عرب کے ساتھ جنگ میں کامیاب ہوں گے اور اپنی باقی سرزمین بھی واپس حاصل کر سکیں گے کیونکہ سعودی عرب نے یمن کی سرزمین کے ایک حصے پر جہاں تیل کے ذخائر بھی موجود ہیں، قبضہ کر رکھا ہے اور امید ہے کہ انصار اللہ سعودیوں سے اپنی مقبوضہ سرزمین واپس لینے میں کامیاب ہوگی۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں