مضبوط ایران علم، ٹیکنالوجی اور انسانی سرمائے کی بنیاد پر تعمیر ہوتا ہے، جنرل ابن‌الرضا

ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ نے شہید چمران ٹاؤن کے ایک سکول میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی گھنٹی بجانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے مستقبل کی تعمیر میں نوجوان نسل کے کردار پر تاکید کی اور کہا: ایران کا مستقبل انہی کلاس رومز سے شروع ہوتا ہے۔
خبر کا کوڈ: 6272
تاریخ اشاعت: 23 September 2026 - 22:36 - 14December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ جنرل سید مجید ابن‌الرضا نے آج صبح شہید چمران ٹاؤن کے ایک سکول میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی گھنٹی بجانے کی تقریب میں طلبہ، والدین اور اساتذہ کو نئے تعلیمی سال کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا: یکم مہر (شمسی مہینہ) صرف ایک نئے تعلیمی سال کا آغاز نہیں بلکہ سیکھنے، تجربہ کرنے اور مستقبل کی تعمیر کے ایک نئے سال کا آغاز ہے۔ شاید آج طلبہ کے لیے سب سے اہم واقعہ سکول کے دروازے کا دوبارہ کھلنا اور اپنے اساتذہ اور دوستوں کو دیکھنا ہو لیکن ہماری نظر میں اس سے زیادہ اہم واقعہ رونما ہوبرہا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر طالب علم اپنے مستقبل اور ایران کے مستقبل کی تعمیر کے قریب پہنچ رہا ہے۔

جنرل ابن‌الرضا

جنرل ابن‌الرضا نے مزید کہا: آج جو بھی آپ میں سے سکول کی کرسی پر بیٹھا ہے، چند سال بعد ڈاکٹر، انجینئر، استاد، محقق اور سائنس دان بن سکتا ہے اور شاید آپ میں سے کوئی، ایک دن کسی لیبارٹری میں ایسی ٹیکنالوجی تیار کرے جس کا تصور کرنا آج ہمارے لیے بھی مشکل ہو اور جو ملک کے کسی اہم مسئلے کو حل کر دے۔

ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے سکول، یونیورسٹی اور دفاعی صنعت کے درمیان تعلق پر تاکید کرتے ہوئے کہا: ہم وزارتِ دفاع میں سکول اور یونیورسٹی کو دفاعی صنعت سے الگ نہیں سمجھتے۔ ہر ٹیکنالوجی، مصنوعات اور کامیابی کے پیچھے ابتدا میں ایک سائنسی سوال، ایک خیال اور ایک تخلیقی ذہن موجود ہوتا ہے۔

انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آپ صرف آج کے طلبہ نہیں ہیں بلکہ کل کے ایران کا انسانی اور سائنسی سرمایہ ہیں اور ایران کو ترقی کے لیے اپنے تمام بچوں کی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔

جنرل ابن‌الرضا نے سائنسی، تحقیقی، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، انتظامی اور دفاعی صنعت میں پیداوار کے شعبوں میں ایرانی خواتین اور لڑکیوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: کسی بھی قسم کی رکاوٹ اس سرزمین کے بچوں کی صلاحیتوں کے نکھرنے میں حائل نہیں ہونی چاہیے اور آپ خاندان اور معاشرے دونوں کی تعمیر کر سکتے ہیں، خاندان میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔

ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے مزید کہا: حالیہ جنگ کے دوران سکولوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے میں ان سکولوں کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا جو جنگ کے دوران علم اور مستقبل کی پناہ گاہ ہونے کی بجائے خود دشمن کے حملے کا نشانہ بن گئے۔ حالیہ جنگ کے دوران تلخ ترین واقعات میں سے ایک میناب میں شجرۂ طیبہ سکول پر امریکہ کا حملہ اور 168 طلبہ کی شہادت تھی جبکہ ۱۲ روزہ جنگ میں بھی ہمارے شہداء کے درمیان شہید طلبہ موجود تھے۔ ان میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو سکولوں اور اسی طرح شہید چمران ٹاؤن کے بلاک ۱۲ میں شہید ہوئے اور یہ شہداء وزارتِ دفاع کے سکولوں سے منسلک تھے۔

انہوں نے کہا: شہید ہونے والے طلبہ ایسے نوجوان تھے جو آج کے طلبہ ہی کی طرح تھے۔ ان کے بڑے خواب، بے شمار صلاحیتیں اور خوب صورت تمنائیں تھیں۔ وہ تعلیم حاصل کرتے تھے، ان کے بھی دوست اور خاندان تھے، اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے تھے اور اپنے مستقبل کے لیے خواب دیکھتے تھے۔ ہمیں زندگی گزارنے، امن و سلامتی کے قیام، علم اور سکول کے مقام کی قدر کرنی چاہیے اور ایسے مستقبل کی تعمیر کے لیے کوشش کرنی چاہیے جہاں کوئی بچہ یا نوجوان تعلیم حاصل کرنے اور خواب دیکھنے کے حق سے محروم نہ ہو۔

جنرل ابن‌الرضا نے ہر ملک کی حقیقی طاقت کو صاحبِ ارادہ، پُر امید اور پُر جوش انسانوں سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا: انسان علم و دانش، ٹیکنالوجی، تخلیق، امید اور عزم کے ذریعے ملک کی تقدیر رقم کر سکتے ہیں اور اسے تعمیر کر سکتے ہیں۔ جنگ کے تجربے نے ہمیں یاد دلایا کہ ہمیں ہمیشہ سیکھتے رہنا، جدت پیدا کرنا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور مستقبل کے خطروں کے لیے تیار رہنا چاہیے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم ایک نکتہ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں صرف مستقبل کے آنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں مستقبل کا تصور کرنا، اسے پروان چڑھانا اور تعمیر کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: مستقبل کی تعمیر آج ہی سے شروع ہوتی ہے اور ہم دفاعی صنعت میں صرف نشستیں پُر کرنے کے درپے نہیں ہیں۔ ہم مستقبل کی تعمیر چاہتے ہیں اور مستقبل کی تعمیر کے لیے ہمیں ایسے ذہنوں کی ضرورت ہے جو وہ کچھ دیکھ سکیں جو ابھی دوسروں نے نہیں دیکھا۔ یہ تخلیقی ذہن یہیں موجود ہیں؛ انہی سکولوں،

کلاس رومز اور طلبہ کے اجتماعات میں۔ آپ کی نسل کو نئے مسائل کا سامنا ہوگا اور نئے مسائل کے لیے نئے حل درکار ہوں گے لہٰذا سوال پوچھیں، تجسس کریں، تحقیق کریں، غلطیاں کریں اور دوبارہ کوشش کریں اور مختلف انداز میں سوچنے سے خوفزدہ نہ ہوں۔

جنرل ابن الرضا نے مزید کہا: مستقبل کے ایران کو ایسے بچوں کی ضرورت ہے جو مسئلے کو دیکھیں، سوال پوچھیں اور اس کا حل تلاش کریں۔ آپ کو صرف ایران کا مستقبل دیکھنا نہیں ہے، آپ کو ایران کا مستقبل تعمیر کرنا ہے۔

جنرل ابن‌الرضا نے مزید کہا: ایک کلیدی اصطلاح جس پر رہبرِ معظم انقلاب کے بیانات میں زور دیا گیا ہے، وہ «زیادہ سے زیادہ مضبوط ایران» ہے۔ زیادہ مضبوط ایران سے مراد ایسا ملک ہے جہاں اس کے لوگ عزت، سر بلندی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزاریں، اس کے نوجوان اطمینان کے ساتھ تعلیم حاصل کریں، اس کے سائنس دان علم اور ٹیکنالوجی پیدا کر سکیں اور کوئی طاقت اس سرزمین کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کی جگہ نہ کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا: یہ معاملہ براہِ راست آپ سے متعلق ہے۔ زیادہ مضبوط ایران صرف کارخانوں اور ساز و سامان سے تعمیر نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ مضبوط ایران ایک مضبوط طالب علم، مضبوط یونیورسٹی، مضبوط سائنس دان، باصلاحیت استاد اور تخلیقی انسانی قوت کے ذریعے تعمیر ہوتا ہے۔ لہٰذا زیادہ مضبوط ایران صرف ایک نعرہ نہیں، یہ ایک راستہ ہے اور اس راستے کا آغاز یہی کلاس روم اور یکم مہر کا یہی دن ہو سکتا ہے۔

ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے آخر میں عزیز شہداء، غازیوں اور ایثار گروں کی یاد اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے طلبہ کے لیے مضبوط ایران کی تعمیر کے راستے میں کامیابی کی دعا کی اور کہا: مجھے امید ہے کہ آپ اس خوب صورت راستے پر علم، امید، عزم اور محنت کے ساتھ اپنے اور ہمارے عزیز ملک کے لیے روشن مستقبل تعمیر کریں گے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں