خلیج فارس میں ایرانی مسلح افواج کی طاقت/ ٹینکرز کی جنگ سے لے کر موجودہ علاقائی جنگ تک

پہلی مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران اور عراق کی بعثی حکومت کے درمیان ٹینکرز کی جنگ جس میں ۵۰۰ سے زائد تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، خطے سے باہر کی طاقتوں اور خاص طور پر امریکہ کی فوجی مداخلت اور واشنگٹن کے ’’جائز دفاع‘‘ کے دعوے کو مسترد کرنے کے لیے عالمی عدالتِ انصاف کے تاریخی فیصلے نے توانائی کی سلامتی اور سمندری قوانین کی از سرنو تعریف میں ایک اہم موڑ پیدا کیا۔
خبر کا کوڈ: 6270
تاریخ اشاعت: 22 September 2026 - 20:56 - 13December 2647

دفاع پریس، بین الاقوامی گروپ کی رپورٹ: ٹینکرز کی جنگ موجودہ تاریخ میں بحری تنازعات کے سب سے کشیدہ اور وسیع ابواب میں سے ایک تھی جس نے عراق کی بعثی حکومت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران پیش آئی اور عالمی توانائی کی سلامتی، بحری جہاز رانی کی آزادی اور سمندری قوانین کو ایک بے مثال بحران سے دوچار کر دیا۔ یہ طویل المدت مہم جو 1984ء میں اپنے عروج پر پہنچی اور 1988ء میں جنگ کے اختتام تک جاری رہی، خلیج فارس کے وسیع سمندری علاقے میں 500 سے زائد تجارتی بحری جہازوں اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے ساتھ آگے بڑھی اور بالآخر خطے سے باہر کی طاقتوں اور خاص طور پر امریکہ کو براہِ راست فوجی محاذ آرائی میں لے آئی اور بین الاقوامی قانون کے طریقۂ کار اور عالمی عدالتِ انصاف ( (ICJمیں نئے فیصلوں اور مباحث کی بنیاد بنی۔

ٹینکرز

عراق اور ایران کے درمیان ٹینکرز کی جنگ

ٹینکرز کی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب عراقی حکومت نے ایران کی اقتصادی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مقصد سے جزیرۂ خارک میں ایران کی تیل تنصیبات اور برآمد کے مراکز کے ساتھ ساتھ خلیج فارس کے شمالی حصے میں ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے تجارتی بحری جہازوں پر فضائی حملے شروع کیے۔ عراق کی بعثی حکومت کی فوج نے جدید اسلحے کی خریداری، بالخصوص فرانسیسی جنگی طیاروں اور ’’اگزوسے‘‘ اینٹی شپ کروز میزائلوں پر انحصار کرتے ہوئے ایران کی تیل برآمدات کو صفر تک پہنچانے کی کوشش کی تا کہ تہران پر شدید معاشی دباؤ ڈالا جائے اور اسے جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

ان اقدامات کے جواب میں ایران نے بھی، جس کے لیے خلیج فارس سے تیل کی برآمدات زرِمبادلہ اور معاشی ضروریات کا سب سے اہم ذریعہ تھیں، جوابی کارروائی کی پالیسی اختیار کی اور عراق اور اس کو مالی اور لاجسٹک حمایت فراہم کرنے والے ممالک، بالخصوص کویت اور سعودی عرب کے ملکیتی تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے پانیوں میں روکنے یا نشانہ بنانے کی کارروائیاں کیں۔

تنازعات میں شدت آنے اور بین الاقوامی کلبز کی جانب سے بحری جہاز رانی کے انشورنس نرخوں میں بے مثال اضافے کے ساتھ عالمی توانائی کی سلامتی کو سنگین خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ خلیج فارس، جو دنیا میں توانائی کی منتقلی کی سب سے اہم شاہراہ ہے، انتہائی شدید خطرے والے علاقے میں تبدیل ہو گیا اور دونوں فریقوں کے باہمی حملوں نے تیل بردار جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کو شدید متاثر کیا۔

ایران نے غیر متوازن حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے آئی آر جی سی کی تیز رفتار کشتیوں، حسّاس آبی گزرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھانے اور ساحل سے سمندر تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کے ذریعے بحری طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ ظاہر کیا کہ اگر ایران کی تیل برآمدات روک دی جائیں تو خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی تیل کی برآمدات کی سلامتی یقینی نہیں رہے گی۔

خلیج فارس کا بحران 1987ء میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جب کویت کی حکومت نے بڑی عالمی طاقتوں سے درخواست کی کہ وہ باہمی حملوں کے مقابلے میں اپنے تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کریں۔ امریکہ نے خطے کی اسٹریٹجک اہمیت اور مداخلت کے موقع کو سمجھتے ہوئے ’’ارنِسٹ وِل‘‘ (Earnest Will) کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا جس کے تحت کویت کے 11 تیل بردار جہازوں کے پرچم تبدیل کیے گئے اور انہیں خلیج فارس میں امریکی جنگی بحری بیڑے کے سرکاری پرچم اور اسکواڈ کے تحت روانہ کیا گیا۔ امریکی افواج کی خلیج فارس کے پانیوں میں براہِ راست آمد سے بحران کم ہونے کی بجائے امریکی بحریہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی جھڑپوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔

پہلی باقاعدہ امریکی اسکواڈ کارروائی کے دوران تیل بردار جہاز ’’بریجٹن‘‘ کا بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانا، اپریل 1988ء میں جنگی بحری جہاز ’’ساموئل بی. رابرٹس‘‘ کا بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں نقصان سے دوچار ہونا اور ایران کی تیل تنصیبات کے خلاف امریکی بحری بیڑے کے جوابی حملوں جیسے واقعات نے جنگ کو مزید خطرناک رخ دے دیا۔

اسی عرصے میں امریکہ نے ’’آپریشن پریئنگ مینٹس‘‘ ( (Operation Praying Mantis کے نام سے ایک کارروائی میں ایران کے تیل کے پلیٹ فارمز جن میں رشادت، رسالت،

نصر اور سلمان کے پلیٹ فارم شامل تھے، پر حملہ کیا اور انہیں شدید نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔ ان کارروائیوں کے ساتھ ایرانی بحری جہازوں اور جنگی بحری جہازوں جن میں ’’جوشن‘‘ اور ’’سہند‘‘ شامل تھے، کی تباہی نے ٹینکرز کی جنگ کے جارحانہ اور خطے سے باہر کی طاقتوں پر مشتمل پہلوؤں کو عروج پر پہنچا دیا۔

1988ء میں جنگ کے اختتام کے ساتھ ایک مستقل قانونی مقدمہ بھی سامنے آیا جس نے بین الاقوامی عوامی قانون میں غیر معمولی اہمیت حاصل کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے نومبر 1992ء میں دونوں ممالک کے درمیان 1955 کے ’’معاہدۂ دوستی، معاشی تعلقات اور قونصلر حقوق‘‘ کی بنیاد پر عالمی عدالتِ انصاف میں امریکہ کے خلاف درخواست دائر کی اور ایرانی تیل پلیٹ فارمز کی تباہی کے لیے امریکی فوجی کارروائیوں کو غیر قانونی اور تجارت اور بحری جہاز رانی کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ امریکہ نے اس کے جواب میں جوابی درخواست دائر کی اور دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیج فارس میں فوجی کارروائیوں اور بارودی سرنگیں بچھا کر بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی سلامتی اور معاہدۂ دوستی کی خلاف ورزی کی ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف نے ایک طویل اور پیچیدہ قانونی عمل کے بعد 06 نومبر 2003ء کو اپنا حتمی فیصلہ جاری کیا جس میں سمندری قوانین اور جنگ کے اصولوں کے شعبے میں انتہائی اہم قانونی نکات سامنے آئے۔ عدالت نے امریکہ کے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کر دیا کہ ایرانی تیل پلیٹ فارمز پر حملے ’’جائز دفاع‘‘ کے تحت کیے گئے تھے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کا موضوع ہے اور بیان دیا کہ امریکہ ایران کی جانب سے اپنے خلاف براہِ راست مسلح حملے کے وقوع پذیر ہونے کو ثابت نہیں کر سکا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق امریکی اقدامات بین الاقوامی عرفی قانون کے دو بنیادی اصولوں یعنی ’’ضرورت‘‘ اور ’’تناسب‘‘ پر پورے نہیں اترتے تھے لہٰذا واشنگٹن کی جانب سے معاہدے میں موجود سیکیورٹی استثنیٰ کا حوالہ قابلِ قبول قرار نہیں دیا گیا۔

عدالت کے فیصلے کے علاوہ ٹینکرز کی جنگ نے سمندری بین الاقوامی قانون میں نئے تجربات اور قانونی طریقۂ کار بھی متعارف کرائے۔ ان تنازعات نے مسلح تنازعات کے دوران غیر جانب دار بحری جہازوں کے ’’معائنے اور قبضے کے حق‘‘ کی قانونی اہمیت اور حدود کو مزید واضح کیا اور 1994ء میں ’’مسلح بحری تنازعات میں قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون کے حقوق سے متعلق سان ریمو پروٹوکول‘‘ کے مرتب کیے جانے کی بنیاد فراہم کی۔ اس پروٹوکول نے غیر فوجی بحری جہازوں اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے ضوابط اور حدود کو واضح انداز میں متعین کیا تا کہ مستقبل میں عالمی تجارت کے خلاف اس نوعیت کے وسیع خطرات کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔

آخرکار، ایران اور عراق کی بعثی حکومت کے درمیان ٹینکرز کی جنگ علاقائی جنگوں کے جغرافیائی اور سیاسی توازن، بین الاقوامی قانون اور عالمی توانائی کی منڈی پر براہِ راست اثرات کی ایک نمایاں مثال تھی۔ اس مہم نے نہ صرف توانائی کی منتقلی کی سمندری شریانوں کی شدید کمزوری کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی جانب سے ’’جائز دفاع‘‘ کی آڑ میں طاقت کا استعمال، بین الاقوامی قانون کے معیاروں کی مکمل پابندی کے بغیر بین الاقوامی عدالتی اداروں کی جانب سے مسترد کیا جائے گا۔ یہ تاریخی جنگ آج بھی دنیا بھر میں بحری سلامتی اور سمندری بین الاقوامی قانون کے مباحث کے جائزے میں ایک اہم نمونے کے طور پر محققین اور قانون دانوں کی توجہ کا مرکز ہے اور اس کے تجربات موجودہ علاقائی جنگ میں ایران کی فوجی طاقت کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں