آج مسلح افواج کی طاقت انقلاب کے شہید رہبر کی ڈلی گئی بنیادوں اور رہنمائیوں کی مرہونِ منت ہے، جنرل گلفام
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی امور کے گروپ کے مطابق، مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سابق نائب برائے کلچرل افیئرز اینڈ سافٹ وار، بریگیڈیئر جنرل ابراہیم گلفام نے دفاعی اور سیکیورٹی امور کے صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلح افواج کی طاقت میں انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کے افکار کے کردار کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا: ان کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی دنوں ہی سے فوجی امور کے میدان میں داخل ہو گئے تھے۔ وہ امام خمینیؒ کے نمائندے کی حیثیت سے اعلیٰ دفاعی کونسل میں موجود تھے اور فوری طور پر شہید «قرنی» کے ہمراہ فوج کے جنرل اسٹاف میں حاضر ہوئے، یوں وہ مسلح افواج اور انقلاب کے بانی کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا ذریعہ بن گئے۔
جنرل گلفام نے اپنی ٹریننگ اور گریجویشن کے زمانے کی یادیں بیان کرتے ہوئے مزید کہا: فوج کے ساتھ رہبرِ شہید کی سرگرمی اور وابستگی امام خمینیؒ کے براہِ راست حکم اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ اپنی صدارت کے زمانے میں وہ ذاتی طور پر فوج کی تمام گریجویشن تقریبات میں شرکت کرتے تھے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے 1981ء میں اپنے کندھے کے رینک اور 1985ء میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کا عہدہ ان کے دستِ مبارک سے حاصل کیا۔
مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سابق نائب برائے کلچرل افیئرز اینڈ سافٹ وار نے دفاع مقدس کے دوران شہید چمران اور فوج، سپاہ اور بسیج کے مختلف یونٹس کے ساتھ انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کے قیمتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس گہرے میدانی تجربے نے انہیں ایک اسلامی حکومت کی فوج کے جامع ماڈل کو تشکیل دینے اور منظم کرنے کے قابل بنایا۔ جب انہوں نے 1989ء میں مسلح افواج کی کمان سنبھالی تو اس عظیم تجرباتی پس منظر کے ساتھ انہوں نے ۳۶ سالہ کمان کے دوران اس ماڈل کو عملی جامہ پہنایا۔
انہوں نے انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کے منفرد معلوماتی احاطے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: اگر ہم یہ کہیں کہ کسی بھی دوسرے کمانڈر کو مسلح افواج کے مختلف شعبوں پر اتنا وسیع احاطہ حاصل نہیں تھا جتنا انہیں تھا تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ فوج کے لیے ان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے بلند پایہ الفاظ جیسے حزب اللہ، اور سپاہ و بسیج کے بارے میں ان کے قیمتی بیانات، سب اسی گہری شناخت اور علم کی بنیاد پر تھے۔
جنرل گلفام نے مزید کہا: انقلاب اسلامی کے شہید رہبر نے مسلح افواج کے ٹیکنالوجیکل مستقبل کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ تقریباً ۲۰ سال قبل یونیورسٹی آف کمانڈ اینڈ اسٹاف کے شہید ستاری یونیورسٹی میں فوج کے ممتاز ماہرین کے ایک اجتماع میں انہوں نے دو گھنٹے تک ان کے مسائل اور تشویشات کو سنا اور پھر ۴۵ منٹ تک رہنمائی فراہم کی۔ اسی اجلاس میں انہوں نے جن امور پر تاکید کی تھی، آج ہم ان کے نتائج میزائل، ڈرون اور دیگر ڈیفنس ہارڈویئر کی صنعتوں میں دیکھ رہے ہیں۔
فوج کی کمانڈ اینڈ اسٹاف یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن نے کہا: رہبرِ شہید نے آج کی مسلح افواج کے مستقبل کا نقشہ کئی دہائیاں پہلے ہی تیار کر دیا تھا۔ ملک سے غیر ملکی فوجی مشیروں کے انخلا اور فضائیہ میں پرزہ جات کی کمی کے بعد ان کا پہلا حکم یہ تھا کہ ’’جاؤ، خود تیار کرو اور مرمت کرو۔‘‘ یہی حکم مسلح افواج اور ایرانی فضائیہ میں خود کفیل ہونے کی جہاد کا نقطۂ آغاز بنا۔
مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سابق نائب برائے کلچرل افیئرز اینڈ سافٹ وار نے آخر میں کہا: عالمی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کی باوقار اور مقتدر ثابت قدمی اور حالیہ مسلط کردہ جنگوں میں دشمن کے محاسبات کی ناکامی، یہ سب رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی اسی دانشمندانہ طور پر ڈلی گئی بنیادوں کی مرہونِ منت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت کے بعد مسلح افواج کی طاقت بہترین کمانڈنگ یعنی انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کی قیادت کی مرہونِ منت ہے،ل تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ آج اور آنے والی نسلیں ان کی ان مجاہدانہ کاوشوں اور گراں قدر رہنمائیوں کی قدردان رہیں گی۔
