کیا امریکی دہشت گرد فوج ایران پر زمینی حملہ کرے گی؟
تحریر: محمد زرچینی (دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)
تقریباً چھ ماہ سے مختلف اوقات اور مختلف محاذوں پر ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف محوِ جنگ ہیں اور ذرائع ابلاغ میں اس دوران ایران کے خلاف امریکہ کی جنگی حکمتِ عملیوں کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔
اس عرصے کے دوران امریکی دہشت گرد فوج کی جانب سے ایران پر ممکنہ زمینی حملے کے بارے میں بھی مختلف مواد سامنے آئے ہیں اور بعض ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران کے خلاف زمینی حملہ شروع کرے گا۔ اس بنیاد پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر زمینی حملے کا امکان کس حد تک موجود ہے اور اگر یہ حملہ ہوتا ہے تو اس میں کامیابی کے امکانات کس حد تک ہوں گے؟
پہلے سوال کے بارے میں کہنا چاہیے کہ امریکی دہشت گرد فوج نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران کے فوجی بنیادی ڈھانچے اور اس کے بعد پُلوں، ریفائنریز اور ہوائی اڈوں جیسے معاشی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے اور ان کارروائیوں کے ذریعے ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور شاید زمینی حملے کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
لہٰذا امریکہ کی خبیث حکومت اور اس ملک کے متکبر لیکن شکست خوردہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے زمینی حملے کے امکان کو بعید قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی صدر نے اپنی حالیہ بیان بازی میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران میں اپنا ’’کام تمام کرنے‘‘ کے لیے تیار ہیں؛ تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ مستقبل میں کیا صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

دوسرے سوال کے بارے میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکی حکومت بالآخر اپنے ان محاسبات کو جو اس نے انجام دیے ہیں، میدانِ عمل میں کس حد تک نافذ کر سکتی ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی وجوہات کی بنا پر امریکہ کو زمینی جنگ میں سخت شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہگسٹ کی قیادت میں اس ملک کی فوج کے لیے ویتنام کی جنگ سے بھی بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق بھاری انسانی اور سیاسی لاگت، ایران کا پیچیدہ جغرافیہ، ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت اور خطے میں امریکی اڈوں کی کمزوری جیسے عوامل کے باعث ایران پر امریکی فوجی حملے کی صورت میں مغربی ایشیا میں امریکی فوج کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھاری انسانی اور سیاسی لاگت
امریکی فوج کے مغربی ایشیا کے خطے میں دسیوں ہزار فوجی موجود ہیں اور فیلڈ رپورٹس کے مطابق کم از کم ۵۰ ہزار امریکی جنگی فوجی ایران کے ساتھ جنگ کے لیے خطے میں تیار کیے گئے ہیں؛ تاہم بظاہر ایک مکمل زمینی جنگ کے لیے ان فوجیوں کی موجودگی محض ایک دھمکی یا فریب معلوم ہوتی ہے اور بالآخر امریکی فوجیوں کا صرف ایک حصہ جنگ کے لیے جنوبی ایران میں داخل ہو سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں ایران کی جانب سے فیصلہ کُن ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو خطے میں موجود دسیوں ہزار امریکی فوجی، مزاحمتی طاقتوں کے لیے جائز اہداف بن سکتے ہیں جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔
ایران کا پیچیدہ جغرافیہ
ایک اور وجہ جو امریکہ کے لیے زمینی جنگ کو مشکل بنا سکتی ہے اور اس کی دہشت گرد فوج کو ایران میں پھنسنے پر مجبور کر سکتی ہے، ایران کا جغرافیہ ہے۔
ایران وسیع اور پیچیدہ جغرافیے کا حامل ملک ہے اور یہاں بلند پہاڑی سلسلے موجود ہیں جو امریکی زمینی فوج کے لیے حالات کو انتہائی مشکل بنا دیں گے۔
اس کے علاوہ ایران رقبے کے لحاظ سے عراق سے دو گنا سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جغرافیے کا خطے کے کسی بھی دوسرے ملک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا اور یہی صورتحال امریکی فوج کے لیے ایک مکمل دلدل ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت
ایران نے گزشتہ مہینوں میں ظاہر کیا ہے کہ وہ مغربی ایشیا کے خطے میں امریکی مفادات اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے اور یہی امر امریکی حکام کے لیے ایک چیلنج بنے گا۔
اگر ہم اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کا جائزہ لیں تو دیکھتے ہیں کہ امریکہ واقعی طور پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور یقیناً ایران کی سرزمین کے اندر امریکی ممکنہ ٹھکانوں پر راکٹس اور ڈرونز کی فائرنگ بہت آسان ہوگی، بشرطیکہ دشمن اتنی حماقت کرے کہ زمینی حملہ کر دے۔

خطے میں امریکی اڈوں کی کمزوری
امریکی فوج کو زمین پر کسی بھی کارروائی سے پہلے تمام ضروری امکانات کو اپنے مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ غلط محاسبات کی صورت میں امریکی دہشت گرد فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
فیلڈ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ہزاروں بری فوجی تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی جزیروں، بشمول تین ایرانی جزیروں اور جزیرہ خارگ پر حملے کی بھی کوشش کر رہا ہے تا کہ اس ذریعے سے ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صفر تک پہنچایا جا سکے۔
یہ ایک احمقانہ منظرنامہ ہے کیونکہ اگر امریکہ اپنے فوجیوں کو ہیلی بورن آپریشن کے ذریعے وہاں اتارنے کی کوشش کرے تو ہزاروں امریکی فوجی ہلاک ہو جائیں گے۔
کویت میں امریکی فوج کے بعض فوجی اڈے جن میں احمد السالم اور عریفجان شامل ہیں اور بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بحری اڈہ ایران کے اتنے قریب ہیں کہ ان دونوں مقامات پر ایرانی مسلح افواج کی جانب سے علاقائی قبضے کا امکان بھی موجود ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بری فوج قیمتی جنگی تجربات کی حامل ہیں اور امریکہ کے خلاف کاری ضربیں لگانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ زمینی سرحدوں کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر قبضہ بھی کر سکتی ہیں۔
اسی طرح اگر متحدہ عرب امارات میں الظفرہ اڈے اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں اڈے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بری یونٹس ساحلی علاقوں سے تیزی سے ان اڈوں میں داخل ہو کر ان پر قبضہ کر سکتی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی فوجی صلاحیتوں نے امریکہ میں وسیع تشویش پیدا کر دی ہے۔ معروف امریکی سینیٹرز نے اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایران خطے پر برتری رکھتا ہے اور زمینی جنگ کی صورت میں انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی جنگ میں داخل نہ ہونے کے لیے ضروری انتباہات دیے ہیں۔
ان میں سے ایک اہم انتباہ کمالا ہیرس کی جانب سے دیا گیا ہے۔ معروف ڈیموکریٹ سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار ہیرس اس حوالے سے کہتی ہیں: ’’ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی صورت امریکی عوام کے بارے میں نہیں سوچتے اور انہوں نے امریکہ کو ایسی جنگ میں داخل کر دیا ہے جس میں امریکی عوام کسی بھی صورت شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔‘‘
ان تمام تفصیلات کے باوجود فرض کر لیتے ہیں کہ امریکی ایران میں داخل ہو گئے؛ تو ایران کے ساتھ تنازع میں ان کے انخلا کا راستہ اور اگلا منصوبہ کیا ہوگا؟ کیا وہ جنوبی ایران میں طویل عرصے تک قیام کر سکتے ہیں؟
آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران سپاہ کے کمانڈر انچیف رہنے والے میجر جنرل محسن رضائی اس حوالے سے کہتے ہیں: ’’فرض کر لیتے ہیں کہ امریکی جنوبی ایران میں اتر گئے؛ وہ ان علاقوں سے فرار کیسے ہوں گے؟‘‘
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بھی اس حوالے سے فوجی کمانڈرز کو تاکید کی ہے کہ دشمن کے زمینی حملے کی صورت میں ایک بھی امریکی زندہ نہیں بچنا چاہیے۔
لہٰذا ایرانی فوج اور سپاہ کی بری افواج امریکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر تیار ہیں اور یہی تیاری اب تک دشمن کو ایران کے خلاف عملی طور پر زمینی کارروائی سے باز رکھے ہوئے ہے جبکہ فی الحال بیشتر امکانات صرف کاغذ کی حد تک موجود ہیں۔
