مقامی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے امریکہ اور صیہونی حکومت کو اسٹریٹجک شکست سے دوچار کیا، ایرانی قوم نے دشمنوں کی حیثیت خاک میں ملا دی، جنرل ابنالرضا
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ جنرل سید مجید ابنالرضا نے آج (ہفتہ) تہران میں مقیم مختلف ممالک کے فوجی اتاشیوں کے ایک وفد سے ملاقات میں جو یومِ دفاعی صنعت کے موقع پر تہران میں منعقد ہوئی، کہا کہ شہید نصیرزادہ، شہید چمران، شہید نامجو، شہید فکوری اور شہید شمخانی کے بعد شہید ہونے والے پانچویں وزیرِ دفاع ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حالیہ عرصے کے دوران امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ تعزیتی پیغامات بھی ارسال کیے اور اپنے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کیا۔

جنرل ابنالرضا نے مزید کہا: 22 اگست ایران میں ’’قومی یومِ دفاعی صنعت‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ قومی کیلنڈر میں ’’دفاعی صنعت‘‘ کے نام سے ایک دن مختص کرنا محض ایک علامتی تقریب کا انعقاد نہیں بلکہ دفاعی صنعت کے ان سائنس دانوں اور ماہرین کی جدوجہد اور اقدامات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی کوشش ہے جنہوں نے مقامی اور اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے قومی طاقت پیدا کرنے، ڈیٹرنس کی سطح بلند کرنے اور مسلح افواج کی معاونت کے لیے بے مثال اقدامات انجام دیے ہیں۔
ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے مزید کہا: یہ دن اس قوم کے عزم کی بھی یاددہانی ہے جس نے کئی ماہ کی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت کو خود انحصاری، علمی استعداد اور قومی ترقی کی بنیاد پر استوار کیا ہے۔ ایران کی دفاعی صنعت، دفاعی نظریے کے اصولوں کی حمایت اور دفاعی ڈیٹرنس کے اصول کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کئی دہائیوں کی جدوجہد، خود اعتمادی اور پابندیوں اور محدودیت کے سامنے ثابت قدمی کا نتیجہ ہے اور اس کا بنیادی مقصد امن، استحکام اور قومی آزادی کا تحفظ اور جارحین پر پشیمان کُن لاگت عائد کرنے کی قومی صلاحیت میں اضافہ ہے۔
جنگی حالات میں نئے جارحانہ اور ڈیفنس سسٹمز کی شمولیت
انہوں نے کہا: آج ایران کی دفاعی صنعت نے مشکلات اور پابندیوں کے باوجود مسلح افواج کے طاقتور بازوؤں کو مضبوط اور بااقتدار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور دشمن کے اس دعوے کے باوجود کہ حالیہ جنگوں کے دوران دفاعی صنعت کو تباہ کر دیا گیا ہے، تدبر اور دوراندیشی کے ذریعے مسلح افواج کی مطلوبہ ساز و سامان اور ہتھیاروں کی پیداوار کی لائنوں کو ایکٹیو رکھا اور اس سے بڑھ کر جنگی حالات میں نئے جارحانہ اور ڈیفنس سسٹمز کو میدانِ جنگ میں داخل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی جبکہ یہ عمل بدستور بھرپور انداز میں جاری ہے۔
جنرل ابنالرضا نے مزید کہا: اس حوالے سے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صنعت کے تمام ماہرین اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں اور ان کے لیے کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ اسی طرح وزارتِ دفاع کے شہید وزراء، شہید سائنس دانوں اور شہید کارکنوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بلند درجات کا طلب گار ہوں۔
وزارتِ دفاع کے نائب سربراہ نے مزید کہا: آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ عدم استحکام، پیچیدگی، غیر یقینی صورتِ حال، پیچیدہ خطروں، جغرافیائی سیاسی مسابقت، تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسی دنیا میں ممالک کے درمیان تعمیری تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ایران اپنی تاریخ میں ہمیشہ خطے اور بین الاقوامی نظام میں اپنی اسٹریٹجک حیثیت اور جغرافیائی سیاسی اہمیت کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ اور طمع کا مرکز رہا ہے اور گزشتہ دو جنگوں نے بھی اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے۔ ایران ایک تہذیب ساز ملک ہے جو اپنی گہری تاریخی، ثقافتی اور سماجی جڑوں کا حامل ہے اور اس کے لوگوں نے اپنی قدیم تاریخ میں کبھی بھی بیرونی جارحیت کے مقابل اپنی قومی بقا، حیثیت اور شناخت کے دفاع سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
جنرل ابنالرضا نے ایران میں مقیم غیر ملکی فوجی اتاشیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آپ کی ذمہ داریوں کے باعث یقیناً آپ نے ایرانی قوم کے خلاف امریکی-صیہونی دشمن کی جارحیت اور جرائم سے متعلق واقعات کا قریب سے مشاہدہ کیا ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک سال کے دوران دو مرتبہ، مذاکرات کے دوران، امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اور ناجائز فوجی حملے اور جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے مزید کہا: دشمن کا خیال تھا کہ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت اور بعض کمانڈرز کو نشانہ بنا کر اور اس کے نتیجے میں اندرون ملک انتشار اور انہدام پیدا کر کے ایران کے فیصلہ ساز ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے اندر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گا لیکن ایرانی قوم نے ایمان، مضبوط اور دانشمند قیادت، قومی اتحاد اور مزاحمت کی پشت پناہی سے، اپنے ساز و سامان کے عدم توازن کے باوجود، دشمنوں کی ساکھ اور حیثیت کو اس انداز میں چیلنج کیا کہ اس کا ازالہ ممکن نہیں۔
انہوں نے یاد دلایا: 40 روزہ مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی دشمن نے ایرانی مسلح افواج کی عظیم دفاعی طاقت کو دیکھ کر حیرت کے عالم میں خطے میں اپنے اڈے خالی کرنا شروع کر دیے اور ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے مطالبات کے سامنے مذاکرات اور تسلیم ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ پر مکمل عدم اعتماد کے باوجود، متعدد ممالک کی درخواست کے احترام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر یقین کی وجہ سے ہم ایسے دشمن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر آمادہ ہوئے جو بین الاقوامی مسائل میں پیشگی حملے اور طاقت اور دباؤ کے استعمال کا قائل ہے۔
جنرل ابنالرضا نے کہا: ابتدا ہی سے امریکہ نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے مطالبات اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کرنے کی کوشش کی جن میں سب سے اہم بحری محاصرے کا قیام اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے نئے انتظامات نافذ کرنے کی کوشش تھی جو مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق کے برخلاف تھی۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اپنے مطلوبہ راستے سے آمد و رفت کے لیے ممالک پر دباؤ ڈال کر اور درحقیقت بحری جہازرانی کے راستے میں خلل ڈال کر اور جنگ کو دوسرے طریقوں سے جاری رکھ کر وہ ہماری قوم کے عزم کو کمزور کر سکتا ہے۔
ایران کبھی دباؤ کے سامنے تسلیم نہیں ہوگا
وزارتِ دفاع کے نائب سربراہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی بھی دباؤ کے سامنے تسلیم نہیں ہوگا اور اب تک اس مزاحمت کے نتیجے میں ٹرمپ حکومت کے لیے اسٹریٹجک کے تعطل ٹوٹنے اور الجھن کی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے، کہا: آج بعض بین الاقوامی فکری حلقے اور تھنک ٹینکس اس جنگ کے بارے میں متعدد سوالات کے جوابات تلاش کر رہے ہیں۔ سب سے اہم سوالات میں سے ایک ایرانی قوم اور مسلح افواج کی ثابت قدمی اور مزاحمت کی وجوہات ہیں نیز یہ بنیادی سوال کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی جنگی مشین اور بعض علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں کی حمایت کے باوجود ان کی پالیسیاں اور فوجی منصوبے اسٹریٹجک شکست سے دوچار کیوں ہوئے؟
انہوں نے مزید کہا: اس سوال کے جواب میں، جنگ سے قبل ایران کی اندرون ملک صورتِ حال میں ہونے والی تبدیلیوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ثابت قدمی کے بارے میں دشمنوں کے غلط اندازے کی یاددہانی کے علاوہ، میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ اس جنگ میں ایران کی دفاعی اور ڈیٹرنٹ قوت ایسی عملی صلاحیتوں پر مبنی تھی جن میں سے بہت سی امریکیوں اور صیہونیوں کے سابقہ محاسبات میں شامل ہی نہیں تھیں۔
درحقیقت، اس جنگ میں مسلح افواج کی کارکردگی کو جدید جنگوں کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دینا چاہیے۔
جنرل ابنالرضا نے زور دے کر کہا: اس جنگ میں ایران کے دفاعی اقدامات جارحانہ اور دفاعی امتزاجی نمونوں کے استعمال، بحرانی حالات میں کمانڈ سسٹم کے اندر عملی اور حکمتِ عملی کے ماڈلز کے نفاذ اور کمانڈ کے سلسلے میں تعطل کی صورت میں نچلی سطح کے یونٹس کو ذمہ داریاں منتقل کرنے نیز مقامی ہتھیاروں کی صلاحیتوں پر مبنی تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور عسکری قیادت کی دانشمندانہ تدابیر اور رہنمائی کے باعث ایرانی مسلح افواج نے اس جنگ کے لیے کافی عرصہ قبل ہی متعدد اہم جارحانہ اور دفاعی منظرنامے اور منصوبے تیار کر رکھے تھے۔
حقیقی ڈیٹرنس کا انحصار اندرون ملک ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہے
ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے دفاعی صنعت اور ایران کے فوجی نظریے کے باہمی تعلق کے بارے میں کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاعی نظریے کے اصولوں میں یہ پختہ یقین موجود ہے کہ دفاعی ڈیٹرنس کی طاقت میں اضافہ، جائز دفاع کی ضمانت اور مسلح افواج کے لیے ہتھیاروں کی دوڑ میں داخل ہونے سے گریز ترجیحات میں شامل ہیں۔ البتہ اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقی ڈیٹرنس غیر ملکی سپلائرز پر انحصار سے نہیں بلکہ اندرون ملک ٹیکنالوجی، مضبوط اور لچک دار صنعتی صلاحیت اور اپنی حاکمیت کے دفاع کے لیے پر عزم قوم کے ارادے سے حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا: ہمارا یقین ہے کہ مؤثر ڈیٹرنس جارحیت کے ذریعے نہیں بلکہ جارح پر ناقابلِ برداشت لاگت عائد کرنے اور فیصلہ کُن جواب کی ضمانت اور اس کے دوبارہ دہرائے نہ جانے کے ذریعے قائم ہوتی ہے اور ہم نے اس جنگ میں اسی تصور کو عملی جامہ پہنایا۔
جنرل ابنالرضا نے مغربی ایشیا کے خطے میں بحران اور جنگ کے تشکیل پانے کے اسباب و عوامل کے حوالے سے صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ، دہشت گردانہ اور توسیع پسندانہ
اور جارحانہ فطرت اور امریکہ اور مغرب کی جانب سے اس حکومت کی بطور نیابتی فریق حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: یہ حکومت اپنی منحوس حیات کے دوران ہمیشہ تشدد، دہشت گردی اور فتنہ کا منبع رہی ہے اور ہمیں پختہ یقین ہے کہ جب تک یہ حکومت موجود ہے، یہ خطہ کبھی امن و سکون حاصل نہیں کر سکے گا۔
دنیا مشکلات اور خطرات میں اضافے کی راہ پر گامزن
ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے حالیہ ایران مخالف مسلط کردہ جنگوں سے حاصل ہونے والے بعض اسباق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خطے، مغربی ایشیا اور دنیا کے دیگر علاقوں میں جنگ اور کشیدگی کے موجودہ اور مستقبل کے رجحانات کی خصوصیات کے بارے میں کہا: عالمی برادری اپنی تاریخ کے ایک حساس مرحلے میں ہے کیونکہ ماضی کی سامراجی طاقتوں کے محرکات ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی محور پر مبنی جنگوں کی صورت میں واپس آ رہے ہیں۔ بلاشبہ اس طرح کا رجحان ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافے کے ذریعے آج کی دنیا کو بحرانوں اور خطرات میں اضافے کی سمت لے جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا: بلاشبہ ایران پر امریکی حملہ، اس نئے سیکیورٹی ڈھانچے کو وسعت دینے کی امریکہ کی خواہش کی واضح ترین علامات میں سے ایک ہے۔ اسی بنیاد پر مغربی طاقتیں اور نیٹو تیزی سے دنیا میں نئے فوجی انتظامات تشکیل دے رہے ہیں جس کا نتیجہ نئے بحرانوں کے مراکز کا قیام اور توسیع اور جغرافیائی سیاسی ماحول میں عدم تحفظ اور انتشار کا استحکام ہے۔
جنرل ابنالرضا نے کہا: حالیہ جارحیتوں نے ظاہر کیا کہ بدقسمتی سے طاقت اور زور کی منطق، حتیٰ کہ اس کی ناجائز شکل بھی، بین الاقوامی تعلقات میں ایک کلیدی عنصر بن چکی ہے۔ یقینی طور پر علاقائی نظم و استحکام یک طرفہ طاقت اور دباؤ کے استعمال کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔ استحکام اور سلامتی باہمی مفاہمت، ہم آہنگی، اقوام کے حقوق اور حاکمیت کے احترام، اندرون ملک امور میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی پابندی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے مزید کہا: جنگی جرائم، نسل کشی، غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد کا قتلِ عام، خود ساختہ بہانے کی بنیاد پر کسی ملک کے قانونی صدر کے اغوا پر فخر، دنیا کے مختلف علاقوں پر قبضے کی دھمکیاں، جن میں گرین لینڈ، کیوبا اور کینیڈا بھی شامل ہیں اور دیگر ممالک کے مادی وسائل کی چوری، ایک ایسی بین الاقوامی روایات اور قانون کے منافی طور طریقوں میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں جارحیت کو جائز قرار دینے اور عالمی اخلاق اور نظم میں عدم استحکام جیسے اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا: اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف گزشتہ دو جنگیں اور تمام اخلاقی، انسانی اور انسانی حقوق کے اصولوں اور قواعد کو پامال کرنا بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے انہدام اور ناکارآمد ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان واقعات نے واضح طور پر بین الاقوامی اداروں، تنظیموں اور انسانی حقوق کے نظام کی بے اثر اور ناکارآمد ہونے کو نمایاں کر دیا۔ بلاشبہ ایسی صورتِ حال عالمی برادری کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔
جنرل ابنالرضا نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مقامی دفاعی صنعت پر انحصار حالیہ جنگ سے حاصل ہونے والے ایک اور بڑے سبق میں شامل ہے، کہا: آج قومی دفاعی صنعت پر انحصار کے بغیر خطروں کے مقابل کھڑا ہونا ممکن نہیں۔
ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے تاکید کی: حکومتوں اور اقوام کو باہمی تعاون، علاقائی تعمیری تعاون اور تعمیری اجتماعی سیکیورٹی کے انتظامات کی تشکیل کے عمل کو مزید مضبوطی کے ساتھ اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ اسی تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران سخت ترین پابندیوں اور سخت، نیم سخت اور نرم نوعیت کے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے گزشتہ دو جنگوں سے سربلند اور کامیاب نکلنے کے بعد، اپنے اصولوں اور مؤقف پر قائم ہے۔
قومی مفادات کے حصول اور خطرات کے مکمل خاتمے کی ضرورت
انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اللہ تعالیٰ پر ایمان، حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای کی قیادت، قومی اتحاد، تاریخی شناخت اور مسلح افواج کی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے ہر قسم کے خطرے کے مقابل اپنی قومی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کا مکمل عزم کے ساتھ دفاع کرتا ہے اور اس قابلِ فخر اور تاریخ ساز راستے کو خطرات کے مکمل خاتمے اور قوم کے مفادات اور حقوق کے حصول تک پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا۔
جنرل ابنالرضا نے یاددہانی کی: ایرانی قوم نے پوری تاریخ میں ثابت کیا ہے کہ جارحین کی جانب سے خطرات کے مقابلے میں وہ تیزی سے متحد ہو کر اور اختلافِ رائے سے قطع نظر اپنی شناخت، تاریخ، تہذیب، ثقافت، نظریے اور سرزمین کا دفاع کرے گی۔
ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اپنے بعض ہمسایہ ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے باہمی تعاون اور تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے فراموش نہیں کرے گا۔ اپنی نیک نیتی کے اظہار کے لیے ہم جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کی غرض سے ہر قسم کے مثبت رابطے اور تعاون سے دریغ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا: اب وقت آ گیا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں نئے انتظامات خود خطے کے ممالک کی جانب سے تشکیل دیے جائیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے قابلِ اعتماد اجتماعی سیکیورٹی کے فریم ورک کے حصول کے لیے تعمیری خیالات اور منصوبوں کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کی خواہش کا اعلان کرتا ہے۔
جنرل ابنالرضا نے کہا: مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ہمارے باہمی تعاون کے عمل میں ہم اپنے مشترکہ اہداف اور مفادات کے حصول کا مشاہدہ کریں گے۔ دنیا کے تمام ممالک کے لیے امن، خوشحالی، ترقی اور پیش رفت کی دعا کے ساتھ۔
