فوج کے چیف نے ایک پیغام کے ذریعے ایران کی شریف عوام کو دعوت دی ہے کہ وہ انقلاب کے شہید رہبر کے مقدس جسدِ خاکی کی رخصتی کی تقریب میں شرکت کریں۔
حضرت خاتم الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آبنائے ہرمز جارح امریکہ کے کھیل کا میدان نہیں ہے، تاکید کی: مسلح افواج کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکہ کی کسی بھی مداخلت کا جواب فیصلہ کُن اور فوری طور پر دیا جائے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے عہد شکنی کرتے ہوئے پھر سے جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور ان جرائم اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں پر ایران کی مسلح افواج کا سخت جواب ناگزیر ہے۔
کمانڈر انچیف کے نظریاتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے ملکی دفاعی صلاحیت کی ترقی میں انقلاب کے شہید رہبر کے ناقابلِ تردید کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک خریداری کی بجائے مقامی پیداوار پر ان کے اصرار نے آج ایران کی میزائل اور ڈرون انڈسٹری کو بلند مقام پر پہنچا دیا ہے۔
ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی، میزائل اور ڈرون طاقت قومی سیکیورٹی کی سرخ لکیر ہے جس کے بارے مذاکرات ممکن نہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت دفاع اور مسلح افواج کی معاونت کے نائب سربراہ نے قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ہماری انگلیاں ٹریگر پر موجود ہیں اور ہم جنگ بندی کی شقوں کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں بلا تردد ضروری اور متناسب اقدام اور ردعمل ظاہر کریں گے۔
وزارت دفاع اور مسلح افواج کی معاونت کے نائب سربراہ کا اکاؤنٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ایکس (سابقہ ٹوئیٹر) پر چالو کر دیا گیا۔
بری فوج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ملک کی سرحدوں پر فوری ردعمل دینے والے یونٹس، خصوصی فورسز اور حملہ آور دستوں کی تعیناتی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف زمینی کارروائی کے لیے دشمن کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
فوج کی ایئر ڈیفنس فورس کے نائب کمانڈر نے دشمن کی جانب سے ایئر ڈیفنس سسٹمز کی تباہی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے، آج ہم ایئر ڈیفنس سسٹمز میں مسلسل ترقی اور تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔
مسلح افواج نے آج علی الصبح مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کے ذریعے امریکی جارحیت کا جواب دیا۔ سیکیورٹی اور عسکری امور کے ماہر مرتضیٰ سیمیاری نے اس تصادم کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے ان امریکی مراکز اور ساز و سامان کا ذکر کیا ہے جنہیں سپاہ نے تباہ کیا۔