اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایران کی مسلح افواج کا منہ توڑ جواب

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے عہد شکنی کرتے ہوئے پھر سے جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور ان جرائم اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں پر ایران کی مسلح افواج کا سخت جواب ناگزیر ہے۔
خبر کا کوڈ: 6019
تاریخ اشاعت: 01 July 2026 - 20:35 - 23September 2647

تحریر: محمد زرچینی (دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)

اسلام آباد ایم او یو پر دستخط ہوئے تقریباً 10 روز گزر چکے ہیں اور اس دورانیے میں امریکہ متعدد بار عہد شکنی کا مرتکب ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، لبنان میں جنگ بندی کی ضرورت کے باوجود جو ماہ اپریل کی جنگ بندی کے ایم او یو اور اسلام آباد ایم او یو کی شقوں میں شامل ہے، امریکہ نے گرین سگنل دے کر صیہونی حکومت کو جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں جرائم کے ارتکاب کی اجازت دی ہے حالانکہ اس قابض حکومت کی افواج کو جنگ کے خاتمے کے ساتھ لبنان کے تمام مقبوضہ علاقوں سے نکل کر اس ملک کی سرکاری سرحدوں کے پیچھے واپس جانا چاہیے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کے معاملے میں، جو جنگ بندی کی ایک اور اہم شق ہے اور جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اس آبی گذرگاہ کا انتظام ایران کے ذمہ ہے، امریکہ آبنائے پر نافذ سیکیورٹی انتظامات کو اپنی خواہشات اور مقاصد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس معاملے میں اسے اب تک ایران کی شدید عملی مزاحمت کے باعث ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایران

امریکہ 40 روزہ جنگ کے بعد بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے خطے میں اپنے مقاصد کے حصول اور ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن میدانِ جنگ میں یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج ہیں جو مغربی ایشیاء کی حقیقی صورتحال دشمنوں پر مسلط کر رہی ہیں۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ نے کئی مرتبہ ایران کے جنوبی ساحلوں پر حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے بھی امریکی شرارتوں کے جواب میں خطے میں موجود اس دہشت گرد ملک کی فوج کے اڈوں، جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت شامل ہیں، کو اپنے بھاری میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی فوج نے جنگ بندی کی اپنی تازہ ترین خلاف ورزی میں جزیرہ سیریک میں اپنے اہداف پر حملہ کیا جس کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قیادت میں) نے بھرپور کارروائی کی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں اعلان کیا: "سپاہ پاسداران کی بحریہ اور فضائی اور خلائی فورس نے اتوار 07 تیر کی علی الصبح 2 سے 3 بجے کے درمیان مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کے دوران کویت میں علی السالم اڈے اور بحرین کے سلمان بندرگاہ میں موجود پانچویں بحری بیڑے میں بچوں کے قاتل امریکی فوج کے آٹھ اہم بنیادی ڈھانچوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیا اور امریکہ کی حالیہ جارحیتوں کا فیصلہ کُن جواب دیا۔ اسی طرح متجاوز دشمن، جس کی فطرت ہی عہد شکنی اور معاہدہ توڑنا ہے، نے سپاہ کی بحریہ کی جانب سے ایک خلاف ورزی کرنے والے جہاز کے خلاف کارروائی کو جواز بنا کر آج علی الصبح اسلامی جمہوریہ ایران کی پانچ ساحلی چوکیوں پر حملہ کیا تھا"۔

اس انقلابی ادارے نے مزید کہا: "اسلام آباد ایم او یو کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے کنٹرول کے انتظامات اسلامی جمہوریہ ایران کے اختیار میں ہیں اور آئندہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت کارروائی کی جائے گی۔ دشمن کی ممکنہ جارحیت کا، چاہے وہ کسی بھی بہانے سے ہو، حتیٰ کہ گزشتہ رات اور آج رات کی طرح کم اہم اہداف پر ہی کیوں نہ ہو، تباہ کُن جواب دیا جائے گا"۔

 

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا یہ دوٹوک بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران، اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور ہر قسم کی معاہدہ شکنی کا عملی میدان میں مضبوط اور فیصلہ کُن جواب دے گا۔

اسی طرح سفارتی میدان میں بھی اس معاملے کو اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزارت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے خطے میں سینٹکام کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں کہا: "یہ وحشیانہ حملے (امریکہ کی جانب سے)، جو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کی کھلی خلاف ورزی اور 18 جون 2026 کو جنگ کے خاتمے کے مفاہمتی یادداشت کے پہلے بند کی صریح خلاف ورزی ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی حکومت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی کوئی قدر نہیں کرتی اور عہد شکنی اس حکومت کی فطرت کا حصہ ہے”۔

اس سفارتی ادارے نے مزید کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی امن و سلامتی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اس تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریوں کی یاددہانی کراتے ہوئے، اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے مطابق امریکہ کی فوجی جارحیت کے مقابلے میں ایران کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے اپنے عزم پر زور دیتا ہے”۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ نے عہد شکنی کے ذریعے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی کارروائی ناگزیر ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد امریکی حکام کے طرزِ عمل سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ ملک نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کا پابند نہیں بلکہ لبنان میں بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی، ایران کے ساحلوں پر براہِ راست حملوں اور آبنائے ہرمز کے سیکیورٹی انتظامات کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے ذریعے عملی طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشیدگی اور بالادستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے ان حملوں کے مقابلے میں عسکری میدان میں فوری اور فیصلہ کُن جوابات دیے ہیں؛ تاہم ضروری ہے کہ سفارتی میدان میں بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے دوٹوک اعلان کرے کہ وہ عہد شکنی برداشت نہیں کرے گا اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ اسی طرح ایران، دشمن کو اپنی ذمہ داریوں کی پابندی پر مجبور کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کی مکمل بندش اور ضرورت پڑنے پر باب المندب کی بندش کے آپشن سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد ایم او یو کو ایک لازمی اور پابند دستاویز سمجھتا ہے اور اس سے کسی بھی انحراف کا عملی، میدانی اور قانونی جواب دے گا کیونکہ قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور ایرانی قوم کے حقوق ایسی سرخ لکیر ہیں جن پر کسی دباؤ یا جارحیت کے مقابلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً