اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے تباہ کُن حملوں نے دنیا بھر میں امریکہ کی عسکری ساکھ اور وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اب بیشتر امریکی سیاست دان بھی ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے خواہاں ہیں اور «ڈونلڈ ٹرمپ» سے کہہ رہے ہیں کہ اب بہت ہو چکا۔
آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دوران آئی آر جی سی کے کمانڈر رہنے والے میجر جنرل رضائی نے کہا ہے کہ نیا عالمی نظام تیزی سے ایسے قواعد مرتب کر رہا ہے جو اب امریکہ محور نہیں رہے۔
ہمارے شہید رہبر کے بیانات اور مؤقف، اس اسٹریٹیجک اصول کو مستحکم کرتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سادہ لوحی کو قومی سلامتی سے غداری تصور کیا جاتا ہے۔ جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے معاملے میں امریکہ اور صیہونی حکومت پر اعتماد کرنا، شہید رہبر کی واضح ہدایات کو نظرانداز کرنے اور ایران نیوکلئیر ایگریمنٹ جیسی تاریخی عہد شکنیوں کے تلخ تجربات کو دہرانے کے مترادف ہے۔
حال ہی میں چند غیرملکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی طیارے پاکستان کے نورخان ایئربیس میں تعینات کیے گئے ہیں، تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
میجر جنرل حاتمی، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر اِن چیف نے کہا ہے کہ ہم ایرانی قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ پوری طاقت، خون کے آخری قطرے اور مکمل فتح کے حصول تک، ملکی سالمیت، قومی خودمختاری اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے نظام کے دفاع کی مقدس ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔
حبیبالله سیاری، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے غیور جوانوں کی بہادری اور ثابت قدمی اور میدان میں ہمیشہ موجود ایرانی قوم کی بھرپور حمایت کے باعث امریکہ، ایران کے خلاف کسی بھی جنگ میں اپنی تمام تر نمائشی عسکری طاقت اور دفاعی ساز و سامان کے باوجود شکست سے دوچار ہوگا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اب ہم کسی صورت امریکی اسلحے کو آبنائے ہرمز سے گزر کر خطے کے فوجی اڈوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دیں گے؛ جو بھی ملک اس آبی گذرگاہ سے گزرنا چاہے گا، اسے ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں گزرنا ہوگا اور اس کی آمد و رفت سے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
آئی آر جی سی کے صوبہ تہران کے انٹیلیجنس نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں اور اسلحہ اور گولہ بارود کے اسمگلرز سے وابستہ پانچ منظم تخریبی نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
سپاہ محمد رسولالله (ص) کے کمانڈر نے «قائدِ شہید» مشق میں کوئیک رسپانس فورس، اسپیشل فورسز اور آئی آر جی سی اور بسیج کے رضاکاروں کے کمانڈو دستوں کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بسیج کی خصوصی جنگی مشق پانچ شب و روز تک جاری رہی اور اس کے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے گئے۔
آئی آر جی سی کی بحریہ کے سیاسی معاون نے کہا: اسلامی جمہوریۂ ایران خطے کی تمام نقل و حرکت پر مکمل توجہ اور اقتدار کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی بھی قسم کی جارحیت یا آنچ آنے کی اجازت نہیں دے گا۔