ایرانی قوم دین اسلام کے نشر اور ثابت قدمی میں تمام اقوام سے برتر ہے، جنرل آتانی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، آئی آر جی سی کی بری فورس میں سپریم کمانڈر کی نمائندگی کے کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر **جنرل ابراہیم آتانی** نے **15 جون 1963** کی تحریک کی سالگرہ کے موقع پر قرچک کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کو امام خمینیؒ کی تحریک کے آغاز اور دینی مرجعیت کی توہین کرنے والوں کے خلاف ایک دوٹوک جواب قرار دیا اور ایرانی قوم کی دین اسلام کی اشاعت کی کاوشوں اور ثابت قدمی کو دیگر اقوام کے لیے ایک نمونہ عمل قرار دیا۔

انہوں نے بارہویں امام کی غیبت کا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کی ثابت قدمی کا موازنہ اس دور کے یہودیوں سے کیا جب ان کے نبی غائب ہوئے تھے۔ انہوں نے شہداء کے خون کا انتقام لینے کے حتمی مقصد کو عالمی طاغوت کے خاتمے اور عدل و انصاف کے فروغ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا:
ورامین اور پیشوا کے عوام کی تحریک، امام کی نہضت کا پیش خیمہ تھی اور مرجعیت کی توہین کرنے والوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ثابت ہوئی۔
جنرل آتانی نے دینی مرجعیت کے دفاع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:
اگر ہر دور میں خواص اور عوام، دینی مرجعیت کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہیں تو طاغوت اور کفر کے سرغنے کبھی بھی علمائے دین کو دھمکی دینے کی جرأت نہیں کر سکیں گے۔ ایرانی قوم دین کی اشاعت اور صبر و استقامت میں دنیا کی تمام اقوام اور مختلف ادیان کے پیروکاروں میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔
انہوں نے ایک تاریخی موازنہ کرتے ہوئے کہا:
یہودی قوم نے اپنے نبی کی صرف دس روزہ غیبت کے بعد، باوجود اس کے کہ ان کے درمیان جانشینِ نبی موجود تھا، خدا پرستی چھوڑ کر بچھڑے کی پرستش اختیار کر لی۔ لیکن اس کے برعکس ملتِ ایران نے اپنے امام کو 1400 برس سے نہیں دیکھا اور اب اپنے امام کے نائب کو بھی 90 دن سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے کہ عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں، اس کے باوجود یہ ملت اپنے موقف پر ثابت قدم اور استوار کھڑی ہے۔
آئی آر جی سی کی بری فورس میں سپریم کمانڈر کی نمائندگی کے کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر نے کہا کہ رہبر اور میناب کے شہداء کے خون کا انتقام صرف آبنائے ہرمز یا خطے سے امریکی افواج کے انخلا جیسے علاقائی مسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا حتمی مقصد عالمی طاغوت کا خاتمہ اور پوری دنیا میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔
