ایران کے دشمن پر حیران کُن کاری ضرب / جنگ بندی کا اصل مقصد آبنائے ہرمز پر قبضے کی راہ ہموار کرنا تھا

سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی دراصل آبنائے ہرمز پر قبضے کی کارروائی کے لیے ایک جال تھی جو ایرانی مجاہدین کی ثابت قدمی کے باعث ناکام ہو گئی جبکہ ایران کی ذہانت پر مبنی جارحانہ جوابی کارروائیوں نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
خبر کا کوڈ: 6110
تاریخ اشاعت: 28 July 2026 - 08:29 - 20October 2647

دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون جنرل رسول سنائی راد نے دفاع پریس کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے خطے کی حالیہ صورتحال اور امریکیوں کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی تشریح کرتے ہوئے کہا: آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پہلے سے تیار کیے گئے ایک منصوبے کا تسلسل ہے۔ امریکہ نے ایران پر حملے کے ابتدائی منصوبے میں بنیادی طور پر آبنائے ہرمز پر قبضے کا تصور نہیں کیا تھا لیکن اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش کے بعد اسے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

جنرل سنائی راد

جنرل سنائی راد نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے نہ صرف امریکی شہریوں بلکہ یورپی اتحادیوں اور دنیا کے انڈسٹریل اور غیر انڈسٹریل ممالک کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ انہوں نے مزید کہا: آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف تیل کی برآمدات تک محدود نہیں بلکہ پیٹرو کیمیکل مصنوعات سے لے کر کیمیائی کھادوں تک، جو براہِ راست عالمی زراعت پر اثر انداز ہوتی ہیں، اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ اس صورتحال کے ازالے کے لیے انہوں نے ایران کے خلاف بحری محاصرہ نافذ کیا جس سے مشکلات اور عالمی تجارت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔

سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے مزید کہا: امریکی اسی وقت سے مختلف طریقوں سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول ہمارے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے جنگ بندی اور مذاکرات کو اسی مقصد کے حصول کے لیے ایک جال بنایا اور اسی دوران مختلف بہانوں سے کئی مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر حملے کیے لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ امریکیوں نے فریب کی پالیسی بھی اختیار کی مگر وہ بھی ناکام رہی۔

انہوں نے کہا: آج جو چیز ٹرمپ کو سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے اور دنیا میں امریکہ کی ساکھ کے خاتمے کی علامت بن چکی ہے، وہ بار بار کیے گئے امریکی وعدوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا بند رہنا ہے۔ یہاں تک کہ اس مفاہمتی یادداشت کے بعد بھی، جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ پہلے ایران محفوظ راستہ کھولے گا اور اس کے بعد بارودی سرنگوں کی صفائی ہوگی، انہوں نے عمان پر دباؤ ڈال کر جنوبی ساحل پر ایک پیرالل راستہ کھولنے کی کوشش کی لیکن یہ منصوبہ بھی ناکام رہا۔

جنرل سنائی راد نے تاکید کرتے ہوئے کہا: اس وقت دشمن کی تمام تر کوششیں ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے پر مرکوز ہیں۔ اسی لیے ہمارے نگرانی، فضائی دفاع اور جارحانہ صلاحیت رکھنے والے مراکز جو آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، ان کے حملوں کی ترجیح بن گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور یہ پیغام دینا کہ وہ ملک کے اندر گہرائی میں موجود لاجسٹک مراکز اور مواصلاتی راستوں کو بھی منقطع کر سکتے ہیں، ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے؛ ایک حصہ عملی کارروائی کے لیے اور دوسرا اپنی سنجیدگی کا تاثر پیدا کرنے اور ایران میں خوف پھیلانے کے لیے۔

سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے کہا: ان تمام اقدامات کے باوجود ہمارے مجاہدین مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ ثابت قدمی برقرار رہے گی۔ دشمن کے مذموم منصوبے سے آگاہی کے باعث ہم نے ذہانت پر مبنی جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے ایسے مراکز کو نشانہ بنایا ہے جو مستقبل میں ان کی کارروائیوں کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتے تھے یا ہماری کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔

انہوں نے دشمن کے جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں کہا: امریکی عموماً اپنی ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبریں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن 13 زخمیوں، بعد ازاں دو ہلاک اور ایک لاپتا ہونے کی خبر کا اعلان، ہماری مؤثر اور کاری ضربوں کا ثبوت ہے۔ ہم نے حیرت کا عنصر استعمال کیا اور ایسے مقام کو نشانہ بنایا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔ ہماری دقیق نگرانی سے ہمیں معلوم تھا کہ وہ پہلے سے محفوظ سمجھے جانے والے اڈوں سے اپنی اکائیوں پر مشتمل طاقت اور ساز و سامان منتقل کر کے ایسے مراکز میں جمع ہو چکے ہیں جو ان کا اجتماع گاہ بن گئے تھے اور انہی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

جنرل سنائی راد نے مزید کہا: اسی وجہ سے اس مرحلے میں ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں کی تباہی سے لے کر امریکی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے تک کے واقعات پیش آئے، اس حد تک کہ ان کے لیے ان حقائق کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دشمن اپنے منصوبے میں ملک کے جنوب مشرق اور شمال مغرب میں موجود اپنے کرائے کے عناصر اور وطن فروش گروہوں سے بھی امید لگائے بیٹھا تھا، اسی لیے امریکی اڈوں پر متعدد حملوں کے ساتھ ساتھ انقلاب مخالفین کے مراکز بھی نشانہ بنائے گئے۔

سپریم کمانڈر کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے مزید کہا: تقریباً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسی مرحلے میں ان کے خلاف سب سے شدید اور تباہ کُن حملوں میں سے ایک انجام دیا گیا اور اس فوجی اڈے سے اٹھنے والے شعلے اور مسلسل ایمبولینسز کی آمد و رفت خود دشمن کے کرائے کے عناصر کو پہنچنے والے نقصانات کی شدت کا ثبوت ہیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں