میزائل تیار کرنے کے راستے میں ایران کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں، جنرل بلالی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے کہا: آج اسلامی جمہوریہ کے نظام کی میزائل اور ڈرون کے شعبے میں طاقت، مستحکم اور دائمی ہے۔ اس طرح کہ اگر ہمارے ملک کے گرد کنکریٹ کی دیوار اور خاردار تار لگا دی جائے، تب بھی وہ ہماری میزائل اور ڈرون کی تیاری کو نہیں روک سکتے۔
خبر کا کوڈ: 6229
تاریخ اشاعت: 08 September 2026 - 22:31 - 29November 2647

دفاع پریس کے دفاعی اقر سیکیورٹی گروپ کے مطابق، سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر جنرل علی بلالی نے آج سہ پہر ’’شاہد ۱۳۶‘‘ دستاویزی فلم کے اہلکاروں کی تقریبِ پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مجھے صوبہ لُرستان کے غیرت مند لوگوں کے درمیان موجود ہونے پر خوشی ہے۔ لُر قوم کے غیرت مند افراد نے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس، ۱۲ روزہ جنگ اور جنگِ رمضان میں ثابت کیا کہ ان کے وجود میں اصالت اور ثابت قدمی موجود تھی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

جنرل بلالی

جنرل بلالی نے انقلاب کے شہید رہبر کے اس فرمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ لُر قوم کی جنگ سننے سے زیادہ دیکھنے کے قابل ہے، مزید کہا: شہید طاہرپور جو لُرستان کے فرزند تھے اور جن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہم آج سپاہ کی یرو اسپیس فورس میں موجود ہیں، نے اپنی شہادت تک انقلاب اور نظام کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔

سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان موجود ہم آہنگی اور اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان دنوں اس ملک کے فرزندوں نے ٹیلی ویژن، بجلی، شاہراہوں اور دیگر تمام شعبوں میں ثابت کیا کہ وہ ملک کے لیے جان کی بازی لگانے تک کھڑے ہیں اور انہوں نے ایک متحد ایران کو تشکیل دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ان اقوام کے اس قوس قزح میں سے ہر ایک کا اپنا مخصوص رنگ اور اپنی خاص خوشبو ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایسا اتحاد قائم کیا ہے جسے کسی بھی صورت ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

جنرل بلالی نے کہا کہ لُرستان میں خدمات انجام دینا میرے لیے باعثِ فخر رہا ہے، انہوں نے کہا: لُرستان میں میری ملازمت کے بہترین ادوار میں سے ایک ۷۰ کی دہائی کے اواخر میں تھا اور مجھے اس صوبے اور لُرستان کے گرم جوش اور ولایت کی پیرو عوام کی ناقابلِ فراموش یادیں حاصل ہیں۔

سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے کہا: شہید طاہرپور نے ایرو سپیس کے شعبے میں قابلِ قدر کام انجام دیا، ڈرون ۱۳۶ ان کی کاوشوں میں سے ایک تھا جبکہ تدریس کے شعبے میں بھی انہوں نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کی۔

انہوں نے کہا: کئی سال قبل ہم ان دو لانچنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے میزائل مشقیں کیا کرتے تھے جو بیرونِ ملک سے لائے گئے تھے لیکن آج ہم نے آپریشن "وعدۂ صادق ۱ اور ۲" میں دیکھا کہ ایک ہی وقت میں کئی سو میزائل ملک سے داغے جا رہے تھے۔

سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے کہا: آج ہم شہداء کی کوششوں کی بدولت پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔ آج اسلامی جمہوریہ کے نظام کی میزائل اور ڈرون کے شعبے میں طاقت, مستحکم اور دائمی ہو چکی ہے، اس طرح کہ اگر ہمارے ملک کے گرد کنکریٹ کی دیوار اور خاردار تار لگا دی جائے، تب بھی وہ ہماری میزائل اور ڈرون کی تیاری کو نہیں روک سکتے کیونکہ یہ طاقت اندرونی طور پر پیدا ہونے والی ہے۔

جنرل بلالی نے شہید تہرانی مقدم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا: اگر اس شہید کی کوششیں نہ ہوتیں تو معلوم نہیں آج ہم کس صورتحال میں ہوتے۔ اسی طرح آج ہم اس یقین تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کر سکتے ہیں اور ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔

سپاہ کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے کہا: وہ ملک جو ایک وقت میں خاردار تار بھی درآمد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، آج اس بات کا پابند قرار دیا جا چکا ہے کہ برآمدات نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن نے کئی مرتبہ ایران کی جانب سے داغے گئے ڈرونز کی نقل تیار کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شہید طاہرپور جیسے افراد پورے ایران میں موجود ہیں، مزید کہا: ایران ایک زرخیز سرزمین ہے اور اس کے لوگ، ملک کو چوٹی تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جنرل بلالی نے شہداء کے خاندانوں، بالخصوص ایرو

سپیس فورس کے شہداء کے خاندانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے تاکید کی: ان خاندانوں نے ایک محفوظ اور پُرسکون ماحول پیدا کر کے کمانڈرز کے لیے ذہنی اطمینان فراہم کیا جس کے نتیجے میں آج ہم نظام کی سربلندی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں