علی الطاہر پہاڑی پر لبنانی حکومت کی خیانت اور نیتنیاہو کے انتخاباتی محرکات
تحریر: الناز رحمت نژاد (دفاع پریس، بین الاقوامی گروپ)
جنوبی لبنان میں میدانی پیش رفت اور صیہونی حکومت کے فوجی عہدیداروں کی جانب سے قابل توجہ اور ٹیکٹیکل اہمیت کے حامل علاقوں پر کنٹرول کے دعوؤں نے نئی اور پیچیدہ صورت اختیار کر لی ہے۔ بلند اور مرتفع علی الطاہر پہاڑی جو جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھنے کے باعث فوجی اور ٹیکٹیکل اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، گزشتہ دنوں اسرائیلی فوج کے میڈیا پروپیگنڈے اور دعوؤں کا مرکزی محور بن گئی ہے۔ ایسے دعوے جن کے بارے میں مبصرین کا ماننا ہے کہ میدانی کامیابیوں سے آگے بڑھ کر مقبوضہ علاقوں کے اندرونی سیاسی اور انتخاباتی ماحول سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسی حوالے سے دفاع پریس کے بین الاقوامی امور کے رپورٹر نے لبنانی بین الاقوامی امور کے ماہر عباس زلزال سے گفتگو کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
انہوں نے گفتگو کے آغاز میں کہا: میرے خیال میں ضروری ہے کہ ’’آپریشنل کنٹرول‘‘ اور ’’تنصیبات اور سرنگوں میں داخل ہونے‘‘ کے درمیان تفریق کی جائے۔ اسرائیل کا علاقے اور اس کے اطراف پر آپریشنل کنٹرول کچھ عرصے سے بمباری، علاقے کو الگ تھلگ رکھنے اور بلند مقامات اور ان مقامات پر قبضہ کرنے کے ذریعے تشکیل پا رہا تھا جو اسرائیل کو مانیٹرنگ، ٹارگٹ سیٹ اپ اور نقل و حرکت کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا اسرائیلی فوج نے حال ہی میں جس چیز کا اعلان کیا ہے، وہ بعض تنصیبات اور سرنگوں میں داخل ہو کر ان کی صفائی کرنا ہے نہ کہ لازماً علی الطاہر پر کنٹرول کے آغاز کا مرحلہ۔
زلزال نے مزید کہا: اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ سرنگوں میں داخل ہو گیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے پہاڑی کے نیچے موجود پورے نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اگرچہ جو کچھ ہوا وہ ایک مکمل اور غیر معمولی میدانی کامیابی تھی اور یہ فطری بات تھی کہ ہم ان تنصیبات کے ذریعے سے اسرائیلی جانب سے بڑے پیمانے پر دستاویزی مواد دیکھتے، خصوصاً اس لیے کہ نیتنیاہو اس مرحلے پر، انتخابات قریب آنے کے ساتھ، اسرائیلی عوام کو ٹھوس کامیابیاں پیش کرنے کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔ لہٰذا میرا ماننا ہے کہ اسرائیل کے اعلان کو اس کے لفظی ظاہر تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی ایک بتدریج فوجی پیش رفت کو علی الطاہر کے مکمل ’’زوال‘‘ میں تبدیل کرنا چاہیے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کہا جائے کہ اسرائیل کچھ عرصے سے علاقے پر آپریشنل کنٹرول رکھتا تھا اور اب اس نے اضافی مراحل، یعنی بعض تنصیبات میں داخل ہونے اور انہیں صاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔
زلزال نے مزید کہا: یقیناً علی الطاہر حزب اللہ کے لیے فوجی اعتبار سے ایک انتہائی اہم مقام ہے کیونکہ یہ بلند مقام پر موجود ہے اور جنوبی علاقے کے وسیع رقبے پر نظر رکھتا ہے لیکن اس مقام کی اہمیت کا یہ مطلب نہیں کہ حزب اللہ فوری طور پر اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوئی کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔ حزب اللہ کے لیے معاملہ ایک پہاڑی سے کہیں بڑھ کر ہے اور اس کا تعلق جنوب میں محاذ آرائی کو منظم کرنے اور اسرائیل کو آپریشنل کنٹرول کو ایک مستقل ٹیکٹیکل حقیقت میں تبدیل کرنے سے روکنے کے طریقۂ کار سے ہے۔ لہٰذا میرا نہیں ماننا کہ فوری طور پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی نہ کرنے کو مقام سے دستبرداری یا موجودہ صورتِ حال کو قبول کرنے سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ حزب اللہ کے پاس متعدد آپشنز موجود ہیں اور ممکن ہے کہ جواب دینے کے لیے وہ ایسے مقام، وقت اور طریقہ اختیار کرے جسے وہ مناسب سمجھتا ہے بجائے اس کے کہ ایسے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے براہِ راست اور مہنگی محاذ آرائی میں داخل ہو جسے اسرائیل پہلے ہی ایک نئی لڑائی کا عنوان بنانا چاہتا ہے۔
لبنانی بین الاقوامی امور کے اس ماہر نے کہا: اگر بنیامین نیتنیاہو انتخابات سے قبل ایک واضح فوجی کامیابی چاہتا ہے تو علی الطاہر کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حزب اللہ کا ایک بڑی لڑائی میں داخل ہونا اسے عین وہ تصویر فراہم کر سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے: ایک نئی محاذ آرائی اور فوجی کامیابی جسے وہ اسرائیلی ووٹر کے سامنے اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کر سکے۔ اسی لیے ممکن ہے کہ حزب اللہ کے مفاد میں یہ ہو کہ وہ نیتنیاہو کو اپنے لیے لڑائی کا مقام اور وقت طے کرنے کی اجازت نہ دے اور علی الطاہر کے ساتھ ایک وسیع تر مساوات کے دائرے میں معاملہ کرنا ترجیح دے تا کہ اسرائیل کا کوئی ٹیکٹیکل نقصان یا آپریشنل کنٹرول ایک ٹیکٹیکل اور سیاسی فتح میں تبدیل نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا: میرا ماننا ہے کہ نیتن یاہو جس انداز میں علی الطاہر کے معاملے سے نمٹ رہا ہے، اس میں ایک واضح سیاسی اور انتخاباتی پہلو موجود ہے لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ یہ پورا آپریشن صرف انتخابات کی وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل کے فوجی اور سیکیورٹی اہداف واضح طور پر موجود ہیں۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیتنیاہو اس پیش رفت کو فوجی، میڈیا اور سیاسی طور پر استعمال کر سکتا ہے اور اسے اسرائیلی عوام کے سامنے حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی میں ایک نئی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتا ہے اور انتخابات قریب آنے کے تناظر میں یہ معاملہ اس کے لیے انتہائی اہم ہے۔
زلزال نے کہا: نیتنیاہو آپریشنل کنٹرول کو، جو کچھ عرصے سے تشکیل پارہا تھا، ایک سیاسی اور انتخاباتی فتح میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے خصوصاً اس لیے کہ سرنگوں کے نظام کے اندر اسرائیل کے حقیقی کنٹرول کی حد اب بھی واضح نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں ممکن ہے کہ سیاسی اعلان کا حجم حقیقی میدانی کامیابی کے حجم سے زیادہ ہو۔
لبنانی حکومت کے بارے میں زلزال نے کہا: میں ’’خیانت‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے سیاسی ذمہ داری اور سرکاری بے بسی کی بات کرنے کو ترجیح دوں گا۔ اسرائیل کس طرح ایک ٹیکٹیکل اہمیت کے حامل لبنانی علاقے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا جبکہ لبنانی حکومت وہاں اپنی موجودگی اور خودمختاری مسلط کرنے میں ناکام رہی؟ اگر لبنانی حکومت چاہتی ہے کہ جنوبی علاقے میں لبنانی فوج بنیادی کردار ادا کرے تو اسے میدانی خلاء کو پُر کرنے اور اسرائیل کو اس سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے قابل ہونا چاہیے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ لبنان کی سیاسی اور سرکاری بے بسی نے اسرائیل کو اس خلاء سے فائدہ اٹھانے اور اسے ایک میدانی اور سیاسی حقیقت میں تبدیل کرنے کی اجازت دی۔ آخرکار، معاملہ صرف ایک پہاڑی کا نہیں، علی الطاہر جنوبی لبنان کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑی لڑائی کا حصہ ہے تا کہ یہ طے ہو سکے کہ اس حسّاس علاقے میں سلامتی کے اعتبار سے فیصلہ کرنے کی طاقت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ کیا اسرائیل کا آپریشنل اور عارضی کنٹرول برقرار رہے گا یا یہ ایک مستقل فوجی اور سیاسی حقیقت میں تبدیل ہو جائے گا؟
