حالیہ جنگ نے امریکہ کی محاسباتی غلطی آشکار کر دی/ تہران کی عوامی پناہ گاہوں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں ساز و سامان سے لیس کیا جائے، چمران
حالیہ پیشرفتوں، ۱۲ روزہ جنگ اور جنگِ رمضان کے وقوع پذیر ہونے کے بعد، دشمن کی دھمکیوں کے مقابلے میں ملک کی تیاری، متاثرہ افراد کو خدمات پہنچانے کی فراہمی کے طریقۂ کار اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اسی تناظر میں، تہران کی اسلامی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے دفاع مقدس نیوز ایجنسی کے شعبۂ معاشرہ کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے تیسری مسلط کردہ جنگ کے مختلف پہلوؤں اور حالیہ واقعات میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے کردار کی وضاحت کے علاوہ، متاثرین کو امداد فراہم کرنے، متاثرہ علاقوں میں رہائش کا انتظام کرنے اور ان علاقوں کی تعمیرِ نو کے حوالے سے شہری انتظامیہ کے اقدامات پر گفتگو کی، جسے ذیل میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے

دفاع پریس: دفاع مقدس نیوز ایجنسی کو وقت دینے پر آپ کا شکریہ۔ سب سے پہلے حالیہ جنگ اور اس جنگ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے کردار کے بارے میں وضاحت فرمائیے؟
چمران: میں آپ کے لیے دفاع مقدس اور مزاحمت کے آثار کے تحفظ اور اقدار کی اشاعت کے فاؤنڈیشن اور دفاع مقدس نیوز ایجنسی میں کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ دفاع مقدس کے آثار کے تحفظ اور اقدار کی اشاعت کا فاؤنڈیشن ایک ایسا ادارہ ہے جس کی ذمہ داری میں نے 1989ء میں شہید امام کے حکم سے سنبھالی تھی۔ ہم خدا کے شکر گزار ہیں کہ یہ ادارہ اس وقت ایک تناور درخت میں تبدیل ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے ذمہ داران کی کوششوں سے اس ادارے میں قابلِ قدر اقدامات انجام دیے گئے ہیں۔
لیکن جہاں تک گزشتہ دو جنگوں کا تعلق ہے، میرا ماننا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے ایک ہائبرڈ جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی جس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ فوجی حملے کر کے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو، حتیٰ کہ ایران کے وجود کو بھی ختم کر سکتے ہیں۔ ان کا ایسا ہی منصوبہ تھا لیکن جیسا کہ ہمارے عزیز اور شہید رہبر نے فرمایا تھا: بلی کے خواب میں چھیچھڑے!
۱۲ روزہ جنگ میں انہوں نے ہمارے ملک پر حملہ کیا تا کہ ہمیں آزما سکیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ہم مذاکرات کر رہے تھے اور وہ مذاکرات بھی دھوکے کے سوا کچھ نہیں تھے۔ دشمن نے دیکھا کہ ایرانی عوام، مسلح افواج اور حکومت، سب ایک دوسرے کے شانہ بشانہ پوری قوت اور ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے اور مزاحمت کرتے رہے۔
اس جنگ میں ہم نے اپنے عزیز اور عظیم کمانڈرز کو کھو دیا۔ ایسے کمانڈر جن میں سے ہر ایک، ایک قیمتی خزانہ تھا اور شاید کئی سال گزر جائیں تب کہیں ہم ان جیسے افراد تلاش کر سکیں۔ سردار رشید، سردار سلامی اور دیگر کمانڈرز اور عزیزان جو اس دوران شہید ہوئے، انہوں نے واقعی ایک بہت بڑا خلا چھوڑا۔
البتہ اسلامی جمہوریہ ایران کا فوجی اور سیاسی ڈھانچہ اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ وہ ایک یا دو افراد پر منحصر نہیں ہے اور بڑے کمانڈر، کی عدم موجودگی میں بھی اپنی سرگرمیاں تیزی سے جاری رکھ سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، ۱۲ روزہ دفاعِ مقدس کے دوران کمانڈرز کی شہادت کے صرف چند گھنٹوں بعد ہمارے شہید رہبر نے نئے کمانڈرز کو مقرر کر دیا اور انہوں نے بھی تیزی سے اپنا کام شروع کر دیا۔
مذاکرات کے کسی نتیجے تک نہ پہنچنے کے بعد دوسرے دور کے مذاکرات کا آغاز ہوا لیکن انہی مذاکرات کے دوران ایک بار پھر ہمارے ملک پر حملہ کر دیا گیا۔ یہ حملہ مکمل طور پر بزدلانہ تھا اور ایک بڑا جرم انجام دیا گیا۔ ہمارے عزیز رہبر جو ملک کے سیاسی، فوجی اور مذہبی رہنما اور ہمارے مرجعِ تقلید تھے، اپنے دفتر میں شہید کر دیے گئے۔ یہ اقدام ایک بڑا تاریخی قتل اور سنگین جرم تھا۔
امریکہ کا خیال تھا کہ جس طرح اس نے وینزویلا میں اس ملک کے صدر کو اغوا کر کے قید کر دیا تھا، اسی طرح ایران میں بھی ایسی کارروائیاں کر سکتا ہے لیکن چونکہ اس کے لیے ایسی کارروائی ممکن نہیں تھی، اس لیے اس نے قتل اور ٹارگٹ کلنگ کا سہارا لیا۔ انہوں نے ہمارے عزیز رہبر اور ہمارے متعدد عہدیداروں، کمانڈرز اور حتیٰ کہ وزراء کو بھی نشانہ بنایا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ ان اقدامات کے بعد ایران میں کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔
یہی وہ خوش فہمی ہے جو ٹرمپ کو لاحق ہے اور وہ بار بار دہراتا ہے کہ ’’میں نے ایران کو شکست دے دی‘‘۔ اگر تم نے ایران کو شکست دے دی ہے تو مبارک ہو! لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور یہ معاملہ خود ان کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے۔
ٹرمپ حتیٰ کہ اپنے دوستوں اور عرب اور اسلامی ممالک کے صدور کی بھی توہین کرتا ہے اور نامناسب رویے اختیار کرتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی شہادت اور زخمی ہونا، شادی کی تقریبات پر حملہ کرنا، بچوں اور عام شہریوں کو قتل کرنا اور پلوں کو معدوم کرنا فوجی مہارت ہے حالانکہ ان اقدامات کی کوئی فوجی قدر و قیمت نہیں اور یہ جنگی جرم کے سوا کچھ نہیں۔
تیسری جنگ اور حالیہ دفاعِ مقدس میں انہوں نے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا اور اس عرصے کے دوران جو کچھ وہ کر سکتے تھے، انہوں نے کیا لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ نہ صرف ہماری مسلح افواج ان کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی رہیں بلکہ وہ مذاکرات کار بھی، جنہیں بات چیت کے لیے مدعو کیا گیا تھا، جب انہوں نے دیکھا کہ ٹرمپ انتہائی بے شرمی کے ساتھ مذاکرات سے پھر جاتا ہے اور حتیٰ کہ معاہدوں کو کاغذ کے ایک ٹکڑے میں تبدیل کر دیتا ہے، تو فطری طور پر ان کا اعتماد بھی ختم ہو گیا۔
ہمارے مذاکرات کار سمجھ دار اور چوکس ہیں اور ایرانی عوام کو بھی امریکہ اور ٹرمپ پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ہمارے بچے بھی جانتے ہیں کہ امریکہ اور بالخصوص ٹرمپ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
نیتنیاہو اور صیہونی حکومت کے دیگر سربراہان بھی پیشہ ور مجرم اور دہشت گرد ہیں۔ وہ خود کو دیگر اقوام سے برتر سمجھتے ہیں اور تصور کرتے ہیں کہ انہیں دوسروں کو قتل اور تباہ کرنے کا حق حاصل ہے تا کہ وہ خود باقی رہ سکیں۔ وہ اس عقیدے کا کھلے عام اظہار کرتے ہیں اور اسے بیان کرنے سے بھی نہیں گھبراتے۔
ایرانی قوم نے اسی وقت میدان میں قدم رکھ دیا جب اسے ہمارے عزیز رہبر کی شہادت اور ٹارگٹ کلنگ کی خبر ملی۔ یہ جرم ان کے دفتر اور رہائش گاہ میں پیش آیا اور عوام اسے برداشت نہیں کر سکی۔ عوام پہلی رات سے ہی میدان میں موجود تھی اور آج تک ڈٹی ہوئی ہے اور اپنے پروگرام جاری رکھے ہوئی ہے۔
ہماری مسلح افواج بھی حاصل ہونے والے تجربات کی بدولت زیادہ باصلاحیت، زیادہ مضبوط اور زیادہ تیار ہو کر میدان میں موجود ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہمیں ’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کی حکمتِ عملی ترک کر دینی چاہیے اور اگر ہمیں محسوس ہو یا ہم یہ تشخیص دیں کہ دشمن حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہمیں پیشگی کارروائی کرنی چاہیے۔
ہمارے فوجی ساتھی ایک عرصے سے پیش گوئی کر رہے تھے کہ امریکہ نے خطے میں جو فوجی آرائش اختیار کی ہے، وہ حملے کی تیاری ہے۔ میں اپنے فوجی ساتھیوں سے کہتا تھا کہ اگر یہ آرائش حملے کی تیاری ہے تو ہمیں اس پر ضرب لگانی چاہیے اور دشمن کو اپنے حملے کو منظم کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔
مجھے یاد ہے کہ صدام کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں، شہید ڈاکٹر چمران اپنے ساتھ تشکیل دیے گئے "بے قاعدہ جنگی دستے" کے ہمراہ، رہبر معظم کے ساتھ وہاں موجود تھے۔
شہید چمران کا عقیدہ تھا کہ ہمیں ہر رات دشمن پر حملہ کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہم حملہ نہیں کریں گے تو دشمن کو اپنی صف بندی منظم کرنے کا موقع مل جائے گا اور وہ ہم پر حملہ کرے گا۔
اس وقت ہمیں اکائیوں کی کمی، وسائل اور ٹریننگ کی کمی کا سامنا تھا۔ سپاہ ابھی مکمل طور پر منظم نہیں ہوئی تھی اور فوج بھی انقلاب اور بغاوت کے بعد مطلوبہ یکجہتی حاصل نہیں کر پائی تھی۔ اس کے باوجود، اگر ہمارے پاس صرف ۱۵ اہلکار بھی ہوتے تو ہم دشمن کے ٹھکانوں پر ضرب لگاتے اور صدام کی فوج کی صف بندی کو درہم برہم کر دیتے تا کہ وہ اگلے روز حملہ نہ کر سکے۔
آج بھی میرا ماننا ہے کہ جب ہمیں یقین ہو جائے کہ دشمن حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہمیں ان کی جنگی صف بندی کو درہم برہم کر کے پیش قدمی کرنی چاہیے۔ یہ اقدام ایک طرح کا دفاع اور ڈیٹرنس کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ہمارے فوجی ساتھی اس معاملے میں ماہر ہیں اور مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ڈیٹرنس کا مطلب صرف نان ایکٹیو دفاع نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ڈیٹرنٹ حملہ بھی دفاع کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ہم نے جنگ شروع نہیں کی اور کسی پر حملہ نہیں کیا لیکن اگر ہم پر حملہ کیا جائے یا ہمیں محسوس ہو کہ دشمن حملے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہمیں بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کرنا چاہیے۔ نتیجتاً، ان کے منصوبے اور خوش فہمیاں خاک میں مل گئیں اور اب بھی وہ مایوس کوششیں کر رہے ہیں۔ فارسی کے ایک محاورے کے مطابق، وہ ایسی صورتِ حال میں پھنس گئے ہیں جہاں ان کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
امریکہ کا خیال ہے کہ تمام مسائل کو طاقت اور فوجی زور کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ امریکہ کے قیام سے لے کر اب تک بہت کم عرصہ ایسا گزرا ہے جب یہ ملک جنگ میں ملوث نہ رہا ہو۔ انہوں نے ویتنام، افغانستان، عراق اور دنیا کے دیگر علاقوں میں جنگیں شروع کیں اور لوگوں کو خاک و خون میں نہلا دیا۔
امریکہ نے صرف ایران میں ہی شادی کی تقریبات کو ماتم میں تبدیل نہیں کیا۔ افغانستان میں بھی اس نے ایسی کارروائیاں کیں۔ وہ عام لوگوں، طالب علموں اور بے گناہ افراد پر حملے کو اپنی طاقت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں۔ میناب میں جس طالب علم کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، اس کا کیا قصور ہے؟ اس کے پاس کون سی فوجی قوت یا جارحانہ صلاحیت موجود ہے کہ اس پر جدید میزائلوں سے حملہ کیا جاتا ہے؟
کچھ دیر بعد بھی جب لوگ زخمیوں اور متاثرین کو بچانے کے لیے جائے وقوعہ پر جمع ہوتے ہیں تو وہ ان لوگوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں اس بارے میں معلوم نہیں تھا۔ یہ دعویٰ ایک واضح جھوٹ ہے اور دنیا کے لوگ بھی اس بات کو جانتے ہیں۔
بدقسمتی سے خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک میں سے بعض اب بھی امریکہ کے زیرِ اثر یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ ملک ان کی حمایت اور حفاظت کر سکتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے اس انحصار کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ نے ان کی سرزمین پر اڈے قائم کر رکھے ہیں اور جب ہم ان اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں تو فطری طور پر میزبان ملک بھی متاثر ہوتا ہے۔
ان ممالک کو غیرت اور عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور صیہونی حکومت اور ٹرمپ کی خاطر امریکی پالیسیوں کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ ہمیشہ خطے میں موجود نہیں رہ سکتا اور امریکہ اور صیہونی حکومت کی حمایت ان کے لیے کوئی روشن مستقبل پیدا نہیں کرے گی۔
جنگ کے متاثرین کی رہائش اور نقصانات کے ازالے کے لیے تہران میونسپلٹی کے اقدامات
دفاع پریس: حالیہ جنگ میں دشمن کے اہداف میں سے ایک لوگوں کو بے گھر کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا تھا۔ تہران میونسپلٹی نے متاثرین کی رہائش، نقصانات کے ازالے اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے کیا اقدامات کیے؟
چمران: ہم سمجھتے ہیں کہ ہم لوگوں کی جتنی بھی مدد کریں، پھر بھی یہ مدد عوام کی توقعات اور ان کے شایانِ شان نہیں ہے۔ جس شخص کا گھر متاثر یا تباہ ہو گیا ہو اور جس کی زندگی بکھر گئی ہو، کسی بھی مالی امداد کے ذریعے اس کے روحانی، نفسیاتی اور مالی نقصانات کی مکمل تلافی نہیں کی جا سکتی۔
اس کے باوجود ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ایسے حالات میں جب ہم بجٹ کی منظوری یا دیگر اداروں کے آنے کا انتظار کر سکتے تھے، ہم نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی اور اپنی استطاعت اور دستیاب وسائل کے مطابق عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ عوام کو اس سے زیادہ نقصان نہ پہنچے اور انہیں مزید پریشانی برداشت نہ کرنا پڑے۔
البتہ اب بھی کچھ مسائل موجود ہیں۔ گزشتہ رات ہی جب میں شہر کے ایک چوراہے پر موجود تھا، ایک شخص میرے پاس آیا اور بتایا کہ اس کے گھر کا شیشہ ابھی تک درست نہیں کیا گیا۔ علاقے کے میئر بھی موقع پر موجود تھے اور وہیں اس معاملے کا جائزہ لیا گیا اور ذمہ دار شخص کو اس معاملے کو نپٹانے کے لیے مقرر کیا گیا۔ ممکن تھا کہ دستاویزات یا بلوں میں کوئی کمی موجود ہو، جسے دور کرنے کے لیے ضروری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تاہم میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ یہ اقدامات کرنا ہماری ذمہ داری تھی اور ہم نے کوئی غیر معمولی کام انجام نہیں دیا۔ ہمارے عزیز لوگ، بالخصوص ہمارے گرانقدر شہداء نے جو قربانیاں دیں، ایثار کیا اور نقصانات اٹھائے، ان کے مقابلے میں کوئی بھی اقدام قابلِ موازنہ اور مکمل تلافی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
انہی ابتدائی گھنٹوں میں ضروری فیصلے کر لیے گئے تھے۔ شہری کونسل نے بھی ایک قرارداد منظور کی اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے میونسپلٹی کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کی راہ ہموار کی۔ کونسل کے ارکان بھی تقریباً ان تمام مقامات پر موجود ہوئے جہاں حملے ہوئے تھے اور انہوں نے موقع پر جا کر حالات کا معائنہ کیا۔
ہم نے کوشش کی کہ شہر سے جنگی صورتحال اور جنگ کے آثار کو مٹا دیں۔ بعض مقامات پر واقعے کے صرف چند گھنٹوں بعد ہی ملبے سے بھری سڑکوں کی صفائی کی جا رہی تھی۔ متاثرہ عمارتوں کو بھی مناسب طریقے سے ڈھانپا جاتا تھا، پرچم نصب کیے جاتے تھے یا شہری منظرنامے کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتے تھے۔
امدادی اور ریسکیو آپریشن بھی ابتدائی لمحات ہی سے شروع ہو گئے تھے۔ میونسپلٹی، فائر بریگیڈ اور دیگر اداروں کے اہلکار ان اولین گروہوں میں شامل تھے جو جائے وقوعہ پر پہنچے۔ بعض مقامات پر تو آپریشن کی کمان بھی میونسپلٹی کے حوالے کر دی گئی کیونکہ میونسپلٹی کے پاس آپریشن کی نگرانی کے لیے زیادہ وسائل، صلاحیت اور تیاری موجود تھی۔
اس دوران میونسپلٹی کے بہت سے منتظمین کو اپنے گھروں کا چکر لگانے یا رات کو آرام کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ وہ شہر کے مختلف علاقوں میں موجود رہے اور حتیٰ کہ ایسے حالات میں بھی جب خود میونسپلٹی بھی میزائل حملے اور بمباری کی زد میں تھی، انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔
ہم نے متاثرہ عمارتوں کی بھی گریڈنگ کی۔ کچھ عمارتوں کو مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کرنا ضروری تھا، کچھ کو مضبوط بنانے کی ضرورت تھی اور کچھ میں صرف شیشے، دروازوں اور کھڑکیوں کی تبدیلی درکار تھی۔ ان امور سے متعلق اقدامات تیزی کے ساتھ شروع کر دیے گئے۔
کچھ غیر ضروری منصوبوں، جیسے سڑکوں کے کرب اسٹونز کو رنگ کرنا، نئے کرب اسٹونز لگانا اور حتیٰ کہ ان مقامات پر بجری بچھانا جہاں فوری ضرورت نہیں تھی، کو ترجیحات میں سے نکال دیا گیا۔ میں نے تاکید کی کہ وسائل کو ضروری تعمیراتی منصوبوں اور شہری عوامی خدمات کی جانب منتقل کیا جائے۔
بسیج رضاکار فورس کے جہادی کارکُن بھی مدد کے لیے آگے آئے؛ نہ صرف تہران بلکہ دیگر شہروں سے بھی امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں۔ ان کی مدد انتہائی مؤثر، مخلصانہ اور بے لوث تھی۔ سب نے مل کر کام کیا تا کہ دشمن کا وہ منصوبہ کامیاب نہ ہو جس کا مقصد عوامی بے اطمینانی پیدا کرنا تھا۔
ٹرمپ مسلسل پوچھتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے اور ہنگامہ آرائی کیوں نہیں کرتے۔ یہ بھی اس کی ایک اور محاسباتی غلطی ہے۔ ایرانی عوام پر جتنا زیادہ دباؤ ڈالا جائے گا، عوام اتنی ہی زیادہ متحد اور منظم ہوگی اور ٹرمپ، اس کے ٹولے اور نیتنیاہو جیسے مجرموں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ہوگی۔
مجھے امریکی عوام کے لیے افسوس ہے کہ ان کے پاس ایسا صدر ہے؛ ایک ایسا شخص جو نیتنیاہو اور ایک مجرم گروہ کی خاطر اپنے ہی ملک کے لوگوں پر شدید معاشی، نفسیاتی اور سیاسی دباؤ ڈال رہا ہے جبکہ امریکہ کے بہت سے لوگ ان پالیسیوں کے مخالف ہیں۔
ہم نے ابتدائی لمحات ہی سے میدان میں قدم رکھ دیا تھا اور اب بھی ہمارے اقدامات جاری ہیں۔ البتہ مالی، انتظامی اور تنظیمی مسائل کے ساتھ ساتھ ساز و سامان کی کمی بھی موجود ہے۔ بجٹ میں مطلوبہ ساز و سامان کی خریداری کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں؛ ایسے ساز و سامان جن کے بارے میں ہمیں ۱۲ روزہ جنگ کے دوران احساس ہوا کہ اگر یہ ہمارے پاس ہوتے تو ہم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔
جنگِ رمضان کے دوران ایک حملہ میرے گھر کے قریب ہوا تھا اور جب میں خود میزائل لگنے کے مقام پر پہنچا تو فائر بریگیڈ چھ منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی؛ بسیج کے اہلکار بھی فوری طور پر وہاں موجود ہو گئے اور لوگوں کی مدد کی۔
اگر لوگ ناراض تھے یا حتیٰ کہ سخت لہجے میں بات کرتے تھے تو ہم ان کے حالات کو سمجھتے تھے اور انہیں اس بات کا حق دیتے تھے کیونکہ یہ فطری بات ہے کہ کوئی شخص کسی حادثے کے نتیجے میں متاثر ہوا ہو تو اس کی ذہنی اور نفسیاتی حالت مناسب نہ ہو۔
مرمتی امور کے لیے میونسپلٹی کے منصوبے اور پناہ گاہوں کو ساز و سامان سے لیس کرنا
دفاع پریس: ہنگامی حالات اور تہران پر ممکنہ دوبارہ حملے کے پیش نظر شہری انتظامیہ کی تیاری کے بارے میں بتائیے۔ پناہ گاہوں کی تعمیر اور انہیں ساز و سامان سے لیس کرنے کا معاملہ اس وقت کس مرحلے میں ہے؟
چمران: منگل کے روز ہم نے تہران کی اسلامی کونسل کے اجلاس میں پناہ گاہوں کے بارے میں مکمل اور جامع بحث کی۔ اس سے قبل بھی ایک بل کے ذریعے ہم نے میونسپلٹی کو پابند کیا تھا کہ موجودہ پناہ گاہوں کی نشاندہی کرے اور ان کی صورتِ حال کا جائزہ لے۔ تہران شہر کے بحران کے انتظامی ہیڈکوارٹر کے سربراہ کونسل میں حاضر ہوئے اور وضاحت کی کہ بعض سکولوں کا انفرادی طور پر جائزہ لیا گیا ہے؛ ان میں سے کچھ قابلِ استعمال نہیں ہیں جبکہ کچھ میں اصلاحات اور ضروری ساز و سامان کی فراہمی کی ضرورت ہے۔
ہمیں پناہ گاہیں قائم کرنے کے لیے موجود تمام صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ حالیہ جنگ میں یہ واضح ہوا کہ بعض مقامات مطلوبہ تیاری نہیں رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر، میٹرو اسٹیشن اب تک زیادہ تر مسافروں کی آمد و رفت کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں اور ان میں لوگوں کے طویل عرصے تک قیام کے لیے ضروری سہولیات موجود نہیں ہیں۔
یہاں تک کہ بعض اسٹیشنوں میں اپنے ہی ملازمین کے لیے صرف دو بیت الخلا موجود ہیں، جو مسافروں کے لیے بھی کافی نہیں ہیں۔ اب ہم نے منصوبہ بنایا ہے کہ اسٹیشنوں میں مسافروں کے استعمال کے لیے ضروری سہولیات، جن میں بیت الخلا اور ماں اور بچے کے کمرے شامل ہیں، قائم کیے جائیں۔
پناہ گاہ سے مراد صرف کسی زیرِ زمین جگہ پر چلے جانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کے قیام، ضروری خدمات تک رسائی، ہنگامی اخراج کے راستوں، مناسب ہواداری اور وینٹی لیٹرز کی سہولت بھی موجود ہونی چاہیے۔ پناہ گاہوں کا موضوع بہت وسیع ہے اور غیر عامل دفاع کی تنظیم کی جانب سے بھی اس حوالے سے ایک جامع کتاب شائع کی گئی ہے، جس کا میں بھی مطالعہ کر رہا ہوں۔
مجھے دفاعِ مقدس کے دوران پناہ گاہوں اور زیرِ زمین ہسپتالوں کی تعمیر کے شعبے میں تجربہ حاصل رہا ہے۔ یہاں تک کہ ہم نے فاو میں ایک ہسپتال تعمیر کیا تھا جس میں تین آپریشن تھیٹر تھے۔ پسپائی کے بعد میں نے ایک فلم دیکھی جس میں صدام کی فوج کے اہلکار کہہ رہے تھے کہ یہ ہسپتال ایرانیوں نے تعمیر نہیں کیا بلکہ اطالویوں نے ان کے لیے بنایا ہے حالانکہ اس کا ڈیزائن اور تعمیر ایرانی اہلکاروں نے ہی انجام دی تھی۔
اس وقت ہم کنسٹرکشن کی فیکلٹی کے طلبہ کو بھی، جس کی سربراہی میرے پاس تھی، جنگی علاقوں میں لے جاتے تھے تا کہ وہ ان منصوبوں کے بعض حصوں کی تعمیر میں مدد کریں؛ لہٰذا ہمارے پاس قیمتی تجربات موجود ہیں اور ہمیں ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔
حالیہ جنگ میں پناہ گاہوں کو اس طرح استعمال نہیں کیا گیا جس طرح ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ صیہونی حکومت کے فوجیوں میں خطرے کا سائرن بجتے ہی وہ خوف کے مارے عجلت میں پناہ گاہوں کی جانب پہنچتے ہیں اور پناہ گاہوں میں جگہ کی کمی کے باعث ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں تا کہ اپنی جانیں بچا سکیں، اس کے برعکس ہمارے لوگ بغیر کسی خوف کے چھتوں پر چڑھ جاتے تھے تا کہ دیکھ سکیں کہ میزائل کہاں گرا ہے، پھر خود میزائل کے گرنے کی جگہ پہنچ کر امدادی کارروائیوں میں مدد کر سکیں۔
ہمیں عوامی پناہ گاہیں قائم کرنے کی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہر عمارت میں اپنے رہائشیوں کے تحفظ کے لیے ایک محفوظ جگہ ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر عمارت میں ۴۵ یا ۵۰ میٹر گہرائی تک زمین میں گھسنے والے بموں سے بچنے کے لیے پناہ گاہیں تعمیر کی جائیں لیکن کم از کم ایسی جگہ ضرور بنائی جانی چاہیے جو لوگوں کو دھماکے کی لہر اور لرزے سے محفوظ رکھ سکے۔
کمیشن کے آرٹیکل ۵ میں جب بھی تعمیرات کے لیے کوئی منصوبہ پیش کیا جاتا ہے تو ہم دو امور پر تاکید کرتے ہیں: اول، پانی کی دوبارہ گردش، تا کہ پانی کو سبزہ زاروں اور دیگر استعمالات کے لیے بروئے کار لایا جا سکے؛ دوم، پناہ گاہ کے لیے جگہ کی پیشگی منصوبہ بندی۔
مثال کے طور پر، جب زیادہ فلورز پر مبنی پارکنگ تعمیر کی جاتی ہیں تو انہیں اس انداز میں ڈیزائن کیا جانا چاہیے کہ ہنگامی حالات میں انہیں پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
جنگ کے دوران میونسپلٹی کا حکومت کے ساتھ تعاون
دفاع پریس: حالیہ جنگ کا ایک اہم موضوع میونسپلٹی اور حکومت کے درمیان تعاون تھا۔ ماضی کے تنازعات اور بعض عہدیداروں کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ اس تعاون کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جب کسی حکومت کا انتخاب ہوتا ہے تو وہ ہم سب کی حکومت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے عزیز اور شہید رہبر سے یہ سیکھنا چاہیے کہ وہ ہر حکومت کی حمایت کرتے تھے، اس کی رہنمائی کرتے تھے اور اگر کوئی تنقید ہوتی تو اسے بھی بیان کرتے تھے۔
ہم پر فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور یقیناً یہ تعاون باہمی ہونا چاہیے۔ بہت سے ایسے معاملات ہیں جن میں حکومت کو میونسپلٹی کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔
بہت سے معاملات میں میونسپلٹی نے رضاکارانہ طور پر بھی کارروائی شروع کی اور ایسے پروگرام نافذ کیے جن کی ذمہ داری براہِ راست کسی نے میونسپلٹی پر عائد نہیں کی تھی۔ یہاں تک کہ ممکن ہے حکومت میں بعض افراد کا خیال ہو کہ یہ اقدامات میونسپلٹی کی ذمہ داری نہیں ہیں لیکن ضرورت اس بات کی متقاضی تھی کہ میونسپلٹی عملی میدان میں اترے۔
جب محترم صدر ڈاکٹر پزشکیان، یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ میونسپلٹی کا تعاون خلوصِ نیت اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ کیا جا رہا ہے تو فطری طور پر وہ اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ تعاون صرف جنگ کے موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ سکولوں اور دیگر شہری امور کے شعبوں میں بھی جاری ہے۔
البتہ ہم بعض اوقات میئر اور میونسپلٹی کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے حد سے زیادہ دور نہ ہوں۔ پہلے انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور اس کے بعد، اگر ان کے پاس صلاحیت اور امکان ہو تو دیگر اداروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
شہری کونسل صرف میونسپلٹی کی کونسل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں 1996ء میں منظور ہونے والا قانون، میری رائے میں، آئین کی روح اور اس کی شق ۱۰۰ سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔ آئین کی شق ۱۰۰ کے مطابق، شہر کے معاملات شہری انتظامیہ کے اختیار میں ہونے چاہئیں۔
ہم نے مربوط شہری انتظام، ہم آہنگ شہری انتظام یا ہم قدم شہری انتظام کا موضوع متعدد مرتبہ پیش کیا ہے اور اب بھی پارلیمنٹ میں اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ لازمی طور پر واحد شہری انتظام قائم کیا جائے کیونکہ اس میں کچھ مشکلات ہو سکتی ہیں لیکن شہر کا انتظام مربوط اور ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایسا نہیں ہو سکتا کہ آج میونسپلٹی کسی سڑک پر بجری بچھائے اور اگلے روز محکمہ بجلی اسی مقام پر کھدائی کر دے۔ یہ ایک سادہ مثال ہے لیکن اس طرح کی عدم ہم آہنگی کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
اسی حوالے سے ہم خود کو اس بات کا حق دار سمجھتے ہیں کہ مختلف اداروں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے راستے پر آگے بڑھیں۔
عوامی نقل و حمل کی ترقی اور چھٹی کونسل کے دور کے اقدامات
دفاع پریس: تہران سٹی کونسل کا چھٹا دور عوامی نقل و حمل کے موضوع کے حوالے سے معروف ہے۔ میٹرو اور بس سروس کے شعبوں میں کیے گئے اقدامات کے بارے میں وضاحت فرمائیے۔
چمران: ہمیں صرف اس دور میں ہی نہیں بلکہ گزشتہ ادوار میں بھی عوامی نقل و حمل کے حوالے سے خصوصی حساسیت رہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک وقت میں جب جناب احمدی نژاد صدر تھے، موسمِ گرما کے آغاز میں میں ان سے ملنے گیا اور کہا کہ تہران میں بسوں کی کمی ہے اور تعلیمی سال شروع ہونے کے ساتھ عوامی نقل و حمل اور ٹریفک کو سنگین مشکلات کا سامنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ ہمیں تقریباً ایک ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وہیں حکم دیا کہ اتنی تعداد میں بسیں فراہم کی جائیں۔ کئی بس بنانے والی کمپنیوں نے کام شروع کر دیا اور ستمبر تک ہمیں اس تعداد میں سے تقریباً نصف بسیں موصول ہو گئیں۔ اس تعلیمی سال، عوامی نقل و حمل کی صورتِ حال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر تھی۔ باقی بسیں بھی بعد میں فراہم کر دی گئیں اور ان میں سے بعض چند سال پہلے تک بھی روٹس پر چل رہی تھیں۔
آنے والے برسوں میں بھی ہمیں بسیں فراہم کی گئیں لیکن 2013ء کے بعد، بدقسمتی سے نہ صرف تہران بلکہ کسی بھی دوسرے شہر کے لیے حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعداد میں بسیں فراہم نہیں کی گئیں۔
کونسل کے پانچویں دور میں، بہت زیادہ کوششوں کے ساتھ، تہران کے لیے تقریباً ۱۶۰ سے ۱۸۰ بسیں فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن ان میں سے نصف اسی دور میں فراہم کی گئیں اور باقی نصف چھٹے دور میں ہمیں موصول ہوئیں۔ بدقسمتی سے ان بسوں کو بھی مسائل کا سامنا تھا اور اب تک ان سب کو روٹس پر نہیں لایا جا سکا۔ بعض کو مرمت یا پرزوں کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے کچھ اختلافات بھی پیدا ہوئے جنہیں حل کرنے کی ہم کوشش کر رہے ہیں۔
کونسل کے چھٹے دور میں، تقریباً ساڑھے تین سال قبل، بجٹ مرتب کرتے وقت میں نے تجویز پیش کی کہ منظور شدہ بجٹ کے علاوہ ۱۰ ہزار ارب تومان عوامی نقل و حمل کے بجٹ میں شامل کیے جائیں۔ اس وقت میونسپلٹی کا تجویز کردہ بجٹ مطلوبہ رقم سے تقریباً ۳۰ ہزار ارب تومان کم تھا، اس کے باوجود کونسل نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور عوامی نقل و حمل کے لیے مزید ۱۰ ہزار ارب تومان مختص کیے گئے۔
آج ہم اس فیصلے کے نتائج نئی بسوں، خواہ ملکی ہوں یا غیر ملکی، کی خریداری میں دیکھ رہے ہیں۔ اگلے سال ہم نے اس رقم کو ۱۰ ہزار ارب تومان سے بڑھا کر ۲۰ ہزار ارب تومان کر دیا اور مقررہ بجٹ کے علاوہ مزید ۲۰ ہزار ارب تومان نقل و حمل کے لیے مختص کیے گئے۔
گزشتہ سال اور رواں سال بھی ہم نے کونسل کے تقریباً نصف مالی وسائل اور بجٹ کو عوامی نقل و حمل کے لیے مختص کیا۔ ہم فضائی آلودگی کی بنیادی وجہ بڑی حد تک عوامی نقل و حمل کی کمزوری کو سمجھتے ہیں۔ اگر عوامی نقل و حمل، جس میں میٹرو اور بسیں شامل ہیں، آرام دہ، تیز، سستی اور تمام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی ہوں تو شہری خود ترجیح دیں گے کہ اپنی ذاتی گاڑیاں گھروں سے باہر نہ نکالیں اور عوامی ذرائع نقل و حمل استعمال کریں۔
عوام کی میدانوں میں موجودگی اور دشمن کی حکمتِ عملی کا ناکام ہونا
دفاع پریس: حالیہ واقعات کے بعد شہر کے سکوائرز پر عوام کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اجتماعات سے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ عوام کی موجودگی کس حد تک دشمن کی بدامنی پیدا کرنے کی حکمتِ عملی کو ناکام بنا سکتی ہے؟
چمران: گزشتہ بدامنیوں کے دوران کچھ افراد نے کلہاڑی، قمہ، تلوار اور حتیٰ کہ آتشیں اسلحے کے ذریعے عوام پر حملے کیے، عمارتوں کو تباہ کیا، آگ لگائی اور عوامی اموال کو نقصان پہنچایا۔ کیا ان اقدامات سے عوام اور مریضوں کے لیے مشکلات پیدا نہیں ہوتی تھیں؟ انہوں نے ان اقدامات کے مقابلے میں خاموشی کیوں اختیار کی؟
اس کے برعکس، عوام انتہائی سخت حالات میں، ٹھنڈے موسم اور بارش سے لے کر شدید گرمی اور حتیٰ کہ ماہِ مبارک رمضان میں بھی میدانوں میں حاضر ہوتے ہیں اور پُرسکون انداز میں، کسی تشدد کے بغیر، اپنا پروگرام جاری رکھتے ہیں۔
فطری طور پر کوئی بھی شخص ہسپتال کے سامنے اجتماع نہیں کرتا اور شہر کے عوامی سکوائرز پر بھی اس طرح کا کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے۔
اس طرح کے دعوے زیادہ تر ان بیانیوں کی تشکیل سے مشابہ ہیں جو ٹرمپ بھی کرتا ہے اور جن کی حقیقت سے کوئی مطابقت نہیں۔
دفاعِ مقدس کے اختتام کے بعد بھی ہمیں اسی طرح کے خیالات کا سامنا تھا۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ جنگ، شہید اور شہادت کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے اور حتیٰ کہ دفاعِ مقدس کی فلمیں بھی نشر نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ خون اور شہادت دیکھنے سے عوام پریشان ہوتی ہے۔ ہم جواب دیتے تھے کہ شہداء کی یاد اور شہادت کی ثقافت اقوام کو زندہ رکھنے والی ہے۔
ہم امام حسین علیہ السلام کے قیام اور شہادت کی بنیاد پر زندہ ہیں۔ تشیع اور حقیقی اسلام، محرم، عاشورا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو زندہ رکھنے سے باقی رہا ہے۔ اگر آج دنیا میں اسلام کا نام موجود ہے تو یہ اسی مزاحمت اور شہادت کی ثقافت کی وجہ سے ہے ورنہ امریکی اسلام اور سعودی اسلام ظلم کو قبول کرتے ہیں، طاقت کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور دوسروں کی غلامی اختیار کر لیتے ہیں۔
تشیع اور حقیقی اسلام ظلم اور طاقت کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ لبنانی عوام کو دیکھیں جو انتہائی سخت حالات میں مزاحمت کر رہی ہے اور قربانیاں دے رہی ہے لیکن اپنے عقیدے کی وجہ سے مزاحمت کرتی ہے۔
یہاں تک کہ لبنان کے عیسائی بھی مختلف مواقع پر جن میں سید حسن نصراللہ کی شہادت بھی شامل ہے، میدان میں آئے اور صیہونی حکومت اور دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ لبنان کے لوگوں کی حمایت کریں اور یہ حمایت جاری رہنی چاہیے۔
کونسلوں کے انتخابات کی تازہ ترین صورتِ حال
دفاع پریس: شہری اور دیہی اسلامی کونسلوں کے انتخابات کے حوالے سے اکتوبر میں انتخابات کے انعقاد کے بارے میں قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔ کیا آپ کو کوئی حتمی تاریخ باضابطہ طور پر بتائی گئی ہے؟
چمران: وزارتِ داخلہ کے بعض ساتھیوں اور پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ کونسلوں کے انتخابات 15 ستمبر کو منعقد کیے جائیں لیکن اس معاملے کے لیے قومی سلامتی کونسل کی منظوری ضروری تھی۔
قانون کے مطابق، انتخابات جنگ کے خاتمے کے دو ماہ بعد منعقد ہونے چاہئیں۔ قومی سلامتی کونسل نے بھی گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ قانونی منظوری کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی جنگ جاری ہے لہٰذا اس تاریخ پر انتخابات کے انعقاد کی منظوری نہیں دی گئی۔
ذرائع ابلاغ میں جو کچھ سامنے آیا، وہ زیادہ تر قیاس آرائیاں یا بعض افراد اور اداروں کی تجاویز کی بازگشت تھی اور عملی طور پر اب تک ایسی کوئی تاریخ حتمی اور قابلِ عمل نہیں ہے۔ آئندہ تاریخ کے بارے میں بھی ہمیں قانونی اداروں کے باضابطہ فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔
