آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے بعد یومِ مزدور کے موقع پر امریکہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا نیا ریکارڈ
دفاع پریس کے بین الاقوامی رپورٹر کے مطابق، امریکی ڈرائیور ایسے وقت میں یومِ مزدور کی چھٹیوں کا استقبال کر رہے ہیں جب ملک بھر میں گاڑیوں کی ٹینکی بھرنے کی لاگت اس چھٹی کے لیے تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی آٹو موبائل کلب AAA) ) کی رپورٹ کے مطابق، اس تعطیل کے موقع پر عام پیٹرولیم کی فی گیلن اوسط قیمت ۴.۱۴ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ سال کی نسبت تقریباً ایک ڈالر اضافے کے علاوہ ۲۰۱۲ء میں یومِ مزدور کی چھٹیوں کے دوران قائم کیے گئے سابقہ ریکارڈ یعنی ۳.۸۲ ڈالر کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ اسی دوران ڈیزل کی قیمت فی گیلن ۵.۸۵ ڈالر کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جس کے باعث سپلائے چین اور خاندانوں کے روزمرہ اخراجات پر مہنگائی کے دباؤ کی ایک نئی اور بھاری لہر مسلط ہو گئی ہے۔

اس اچانک اور مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش سے جڑی ہوئی ہے۔ فروری میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران پر فوجی حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں اور خام تیل کی آمد و رفت تقریباً صفر ہو گئی اور ایران کی جانب سے توانائی کی اس اہم شاہراہ کی بندش برقرار رہنے کے باعث عالمی ایندھن کی منڈی شدید صدمے سے دوچار ہو گئی۔
تاہم ایندھن کا بحران صرف مغربی ایشیا تک محدود نہیں ہے۔ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روس کی ریفائنریز میں ڈیزل سپلائے کی قلت اور چین کی ریفائنریز میں پیداوار میں کمی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ امریکہ کے اندر بھی ریفائنریاں ۹۸ فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور ٹیکساس کی ناقابلِ برداشت گرمی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں؛ ایسی صورتحال جو فنی خرابیوں یا موسمی طوفانوں کے رونما ہونے کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے اور قلیل مدت میں قیمتوں میں کسی بھی کمی کے امکان کو کم سے کم سطح پر لے آئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں بے مثال اضافے کے باعث بنیادی اشیائے خورد و نوش اور پارسلز کی نقل و حمل کے اخراجات تیزی سے خریداروں تک منتقل ہو رہے ہیں، جس سے صارفین کی قوتِ خرید مزید سکڑ رہی ہے۔
علاقائی کشیدگی، ریفائنری کے بحران اور مہنگائی کے دباؤ کے ان بے مثال عوامل کے باہمی امتزاج نے امریکہ کے شہریوں کے لیے موسمِ گرما کی آخری چھٹیوں کو مہنگے ترین ادوار میں شامل کر دیا ہے۔ ایک جانب شہریوں کو روزمرہ اخراجات اور تفریحی سفروں کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے جبکہ دوسری جانب توانائی کی شاہراہوں کو دوبارہ کھولنے اور ایندھن کی منڈی کو مستحکم کرنے کے حوالے سے کسی واضح منظرنامے کا موجود نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس بحران کا سایہ غیر معینہ مستقبل تک خاندانی معیشت پر برقرار رہے گا۔
