ایک پیٹریاٹ ائیر ڈیفنس سسٹم تباہ / متعدد امریکی جارح فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا گیا
دفاع پریس کے دفاعی اقر سیکیورٹی گروپ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کویت کی عوام سے مخاطب ایک پیغام میں کہا کہ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے حملوں کے ذریعے ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کی خلاف ورزی کی ہے حالانکہ ایسا تاثر مکمل طور پر غلط ہے۔ ہمارے نزدیک آپ کے ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ پوری طرح قابلِ احترام ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی آپریشن "نصر 2" کی اعلامیہ نمبر 44 درج ذیل ہے:
بسم اللہ قاصم الجبارین
قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ
کویت کی شریف اور باوقار عوام!
آپ کے مجاہد بھائیوں نے جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں خدمات انجام دے رہے ہیں، امریکہ کی طفل کُش فوج کو اس کی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں مداخلت پر سزا دینے کے لیے علی السالم فضائی اڈے پر موجود ایک بڑے فوجی ساز و سامان کے گودام، ایک پیٹریاٹ ائیر ڈیفنس سسٹم اور امریکی MQ-9 ڈرونز کے ایک ہینگر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
آپ کے انہی بھائیوں نے العدیری فوجی کیمپ میں امریکی افواج کی رہائش گاہوں اور دو ہیلی کاپٹر ہینگرز پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد جارح امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ کئی ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔
مجاہدین نے ایران میں مواصلاتی ٹاورز پر امریکہ کے حملوں کے جواب میں ایک مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا۔
بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے حملوں سے ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کی خلاف ورزی کی ہے حالانکہ ایسا فیصلہ سراسر غلط ہے۔ ہمارے نزدیک آپ کی حکومت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ مکمل طور پر قابلِ احترام ہے۔
آخر کسی ملک میں امریکی فوجی اڈہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ یہ ایسی جگہ ہے جہاں آپ کی سرحدی فورس کے کنٹرول کے بغیر امریکی اور وہ تمام افراد، جنہیں وہ چاہیں، اندر آتے اور باہر جاتے ہیں؛ بعض اوقات دوسرے ممالک کے قیدی بھی وہاں منتقل کیے جاتے ہیں۔ وہاں نظم و ضبط آپ کی فوج کا نہیں بلکہ امریکی فوج کا ملٹری پولیس برقرار رکھتا ہے؛ وہاں ہونے والے جرائم کے فیصلے آپ کے جج نہیں بلکہ امریکی جج کرتے ہیں؛ وہاں آپ کے قانون کی نہیں بلکہ امریکی قانون کی حکمرانی ہوتی ہے؛ اور صرف آپ کے فوجی ہی نہیں بلکہ آپ کے وزیرِ دفاع تک کو بھی امریکی ملٹری پولیس کی اجازت کے بغیر اس اڈے میں داخل ہونے کا حق حاصل نہیں۔
لہٰذا آپ کی علاقائی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کی خلاف ورزی ہم نے نہیں بلکہ امریکہ نے کی ہے۔ ہم ان زمینوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن پر امریکی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے؛ ایسی فوج جو جرائم کے سوا کچھ نہیں جانتی۔
گزشتہ روز میناب کی غمزدہ عوام نے اپنے طالب علم بچوں کے جسموں کے باقی ماندہ اعضا، جو ملبے کے نیچے سے تلاش کیے گئے تھے، تشییع کے بعد ان کی قبروں میں سپردِ خاک کیے۔ یہ 168 طلبہ تھے جو اس جنگ کے پہلے ہی روز امریکی طفل کُش فوج کے حملے میں مارے گئے تھے اور یہ جرائم اب بھی جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کا ایک حصہ کویت کی سرزمین پر موجود امریکی اڈوں سے انجام دیا جاتا ہے اور یہ ہمارا قانونی، شرعی اور منطقی حق ہے کہ ہم اپنے ملک پر حملہ کرنے والوں اور اپنے بچوں کے قاتلوں کو جہاں کہیں سے بھی وہ حملہ کریں، نشانہ بنائیں۔
ہم آپ کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔
وما النصر الا من عند اللہ العزیز الحکیم
