ایرانی میزائلوں نے مقبوضہ فلسطین کے علاقوں کی گہرائی کو نشانہ بنایا
تحریر: محمد زرچینی (دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے آج کے ابتدائی گھنٹوں میں مقبوضہ فلسطین پر میزائل حملوں کا منصوبہ ایسے وقت میں ترتیب دیا جب صیہونی دشمن جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر بڑے پیمانے کے حملے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔

چند گھنٹے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے ایک حیران کُن اور وسیع آپریشن کے دوران صیہونی حکومت کے فوجی اہداف کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
یہ آپریشن، جو عسکری حلقوں میں **"وعدۂ صادق"** کے نام سے جانا جاتا ہے، لبنان میں بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور بیروت پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملوں کے جواب میں انجام دیا گیا۔
ان حملوں کے ساتھ ہی مقبوضہ علاقوں کے شمالی حصوں، بالخصوص **حیفا** اور **الجلیل** کے وسیع علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
آپریشن کی تفصیلات؛ اسرائیلی فوجی اہداف کے قلب کو نشانہ بنایا گیا
رپورٹ کے مطابق اس دقیق آپریشن میں **"رامات ڈیوڈ"** اسٹریٹجک فضائی اڈہ جو حیفا کے جنوب مشرق میں واقع ہے، آئی آر جی سی کے حملوں کا بنیادی ہدف تھا۔
یہ فضائی اڈہ صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں کی تیاری اور روانگی کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں سے لبنان کے رہائشی علاقوں اور جنوبی بیروت کے مضافات (ضاحیہ) پر بمباری کی جاتی رہی ہے۔
صیہونی ذرائع ابلاغ نے بھی اس اسٹریٹجک فضائی اڈے پر متعدد میزائلوں کے لگنے کی تصدیق کی ہے اور علاقے میں شدید دھماکوں کی تصاویر نشر کی ہیں۔
صیہونی فوج نے اس رپورٹ کی تیاری تک، نقصانات اور جانی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں البتہ ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ بعض میزائلوں کو روک لیا گیا تھا۔ تاہم زمینی شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متعدد میزائل لہریں صیہونی ڈیفنس سسٹم کو عبور کرنے میں کامیاب رہیں۔
آئی آر جی سی نے ایک سرکاری بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ وسیع میزائل حملے ایران کی حفاظتی طاقت کا صرف ایک حصہ ہیں اور اگر صیہونی حکومت اپنی کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو اس کے حامیوں کو مزید وسیع اور تباہ کُن آپریشنز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حملوں کی وجہ؛ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ضاحیۂ بیروت میں کارروائیاں
یہ کشیدگی گزشتہ چند ہفتوں سے جنوبی لبنان میں صیہونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
اگرچہ 34 روزہ جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی نافذ تھی، تاہم مختلف ذرائع نے سرحدی علاقوں میں صیہونی فوجی سرگرمیوں اور جنوبی لبنان پر متعدد فضائی حملوں کی اطلاعات دی تھیں۔
تازہ ترین واقعے میں صہیثونی حکومت نے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقے **ضاحیہ** کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم دو افراد شہید اور بیس زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حزب اللہ کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا جبکہ متاثرہ علاقے بنیادی طور پر رہائشی تھے۔
خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے ایک سخت بیان میں صیہونی حکومت پر لبنانی شہریوں کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں، بشمول فاسفورس بموں کے استعمال کا الزام عائد کیا اور اسے جنگی جرم اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ایران نے متعدد بار ضاحیہ پر حملوں کے پھیلاؤ کے حوالے سے خبردار کیا تھا اور اپنی ریڈ لائن واضح کر دی تھی لیکن طفل کُش صیہونی حکومت نے امریکہ کی مکمل حمایت اور بین الاقوامی اداروں کی خاموشی کے سائے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔
ردِ عمل اور علاقائی فضائی حدود کی بندش
ان پیش رفتوں کے بعد خطے کے ممالک نے فوری احتیاطی اقدامات نافذ کر دیے۔
عراق کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا کہ ملک کی فضائی حدود 72 گھنٹوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
اسی طرح شام نے بھی اپنے جنوبی فضائی راستے بند کر دیے اور دمشق بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل کر دیں۔
ایران نے بھی اعلان کیا کہ ملک کے مغربی حصے کی فضائی حدود تاحکمِ ثانی بند رہیں گی۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے ان حملوں کو جنگ رمضان کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان سب سے شدید براہِ راست فوجی تصادم قرار دیا ہے۔
برطانوی اخبار **گارڈین** نے اس حوالے سے لکھا:
"اپریل کی جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تہران نے براہِ راست اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔"
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لبنان پر صیہونی حکومت کی جارحانہ کارروائیوں نے ایران کو اس حکومت کے خلاف سخت ردِ عمل اختیار کرنے پر آمادہ کیا ہے اور ممکن ہے کہ یہ کارروائیاں مزید وسیع اور مسلسل صورت اختیار کر لیں۔
ایرانی فوجی کمانڈرز کا کہنا ہے کہ اگر صہیونی حکومت اپنی کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو اسے بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں کی شدید بارش کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس حکومت کے وجود اور بقا کو متاثر کر سکتی ہے۔
