ایرانی مسلح افواج کے دشمن پر بھاری وار۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے تباہ کُن حملوں نے دنیا بھر میں امریکہ کی عسکری ساکھ اور وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اب بیشتر امریکی سیاست دان بھی ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے خواہاں ہیں اور «ڈونلڈ ٹرمپ» سے کہہ رہے ہیں کہ اب بہت ہو چکا۔
خبر کا کوڈ: 5888
تاریخ اشاعت: 18 May 2026 - 11:21 - 09August 2647

تحریر: محمد زرچینی (دفاعی و سکیورٹی گروپ،  دفاع پریس)

امریکی دہشت گرد فوج اور صیہونی حکومت نے رواں سال کے فروری آخری دنوں میں ایران کے خلاف ایک ہمہ گیر اور شدید جارحیت کا آغاز کیا جس میں فوجی اور غیر فوجی مراکز، ثقافتی تنصیبات، ہسپتالوں، معاشی مراکز اور پلوں اور ریلوے اسٹیشنز جیسے اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا اور اس دوران وسیع پیمانے پر بمباری اور فضائی حملے کیے گئے۔

امریکی دہشت گرد فوج نے اس غلط اندازے کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا کہ شاید ایران بھی وینزویلا کی طرح 72 گھنٹوں سے کم وقت میں سقوط کر جائے گا اور امریکہ، ایران کے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز، جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم مرکز ہے، کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لے گا؛ تاہم ان حملوں کے نتائج اور عالمی ردِعمل نے امریکی اندازوں کے بالکل برعکس صورتِ حال کو ظاہر کر دیا۔

اس سلسلے میں بظاہر صیہونی حکومت کے وزیرِاعظم «بنیامین نیتن یاہو» اور امریکی وار منسٹر «پیت ہیگسیتھ» نے غلط مشوروں اور مسلسل اصرار کے ذریعے «ڈونلڈ ٹرمپ» کو ایران پر حملے کے لیے آمادہ کیا۔

البتہ امریکی دہشت گرد فوج نے اس دوران بے شمار جرائم بھی انجام دیے، جن کی ایک مثال جنگ کے ابتدائی دنوں میں «میناب» اسکول کے طلبہ کے قتلِ عام کی صورت میں سامنے آئی جہاں “ڈبل ٹیپ” یعنی دوسری ضرب کی حکمتِ عملی استعمال کی گئی؛ اس جرم میں امریکی وار منسٹر «پیت ہیگسیتھ» نے «ٹرمپ» کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔

دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے امریکی-صیہونی جارحیت اور ان کے اتحادیوں کے حملوں کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا۔ ذرائع کی رپورٹس کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے 228 اسٹریٹیجک اہداف کو نشانہ بنایا اور عالمی طاغوت کے ڈھانچے پر سخت ضربیں لگائیں۔

 

 

 

تعداد بازدید : 2
ویڈیو کوڈ

 

 

 

تعداد بازدید : 2
ویڈیو کوڈ

فیلڈ اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے کویت میں امریکی فوجی اڈوں («علی السالم» اور «احمد الجابر» ایئربیس، «عریفجان» کیمپ، «بوبیان» کیمپ اور کویت سٹی کے قریب امریکی سپورٹ گوداموں)، قطر میں اسٹریٹیجک فوجی اڈہ «العدید»، یو اے ای میں «الظفرہ» اڈہ اور «الفجیرہ» بندرگاہ سمیت تمام حساس مقامات جہاں امریکی فوجی موجود تھے، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑوں کے اڈوں اور «شیخ عیسیٰ» ایندھن سپلائی بیس، سعودی عرب میں اسٹریٹیجک فوجی اڈہ «شہزادہ سلطان»، قبرص میں «اکروتری اور داکیلیا» فوجی اڈے، اردن میں «الازرق/الرزقی» فوجی اڈے اور بحرِ ہند میں «ڈیگو گارشیا» فوجی اڈے کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا جس سے امریکی-صیہونی دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

امریکا

امریکی

امریکی

امریکی

یہ صورتِ حال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بیشتر امریکی سیاست دانوں کے نزدیک “تیسری مسلط کردہ جنگ” کے دوران — جس کا دوسرا مرحلہ بھی ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی غلط پالیسیوں کے باعث جلد شروع ہو سکتا ہے — امریکی دہشت گرد فوج کو خطے میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ 500 سے 700 ملین ڈالر لاگت کے ایک آواکس طیارے کی تباہی اور 65 ملین ڈالر لاگت کے متعدد ایندھن بردار طیاروں کی تباہی ان نقصانات کی چند مثالیں ہیں۔

اسی جنگ کے دوران امریکی دہشت گرد فوج کے مختلف جنگی طیارے جن میں «F-15»، «F-16»، «F-18» اور «F-35» شامل ہیں، ایرانی ائیر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بنے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے درجنوں مسلح اور جاسوس ڈرون، جن کی لاگت دسیوں ملین ڈالر تھی، بھی اس جنگ میں تباہ کر دیے گئے۔ ایک ایسی سپر پاور کے لیے، جس کی فوج کا سالانہ بجٹ ایک ٹریلین ڈالر کے برابر ہو، یہ ایک نہایت بھاری شکست تصور کی جا رہی ہے۔

امریکہ کے سیاسی اور عسکری تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور یہ بات امریکی صدر کی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

 

 

تعداد بازدید : 2
ویڈیو کوڈ

پینٹاگون پر ایران کی طاقت کا صدمہ، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے میزائل حملوں کا ایک اہم پہلو تھا؛ ایران کے حملوں نے امریکی اڈوں کو واشنگٹن کے سرکاری اعترافات سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا! واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی تفصیلات — جن میں امریکی کمانڈ مراکز کی تباہی اور واشنگٹن کے اسٹریٹیجک ذخائر کے شدید استعمال کا انکشاف شامل ہے — اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکہ کو سینٹکام کے دعووں سے کہیں زیادہ نقصانات کا دھچکا پہنچا ہے۔

روزنامہ «واشنگٹن پوسٹ» کی نئی تحقیقات کے مطابق خلیج فارس میں امریکی اثاثوں کو ایرانی حملوں کے نتیجے میں پہنچنے والا نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے کہ جس کا تجزیہ کیا گیا ہے یا جس کا امریکہ نے اعتراف کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے شاید ایرانی صلاحیتوں کو کم تر سمجھا تھا۔

امریکی

میڈیا رپورٹس اور چینی اور یورپی سیٹلائٹ تصاویر کے تقابلی جائزے سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی اڈوں کی تباہی کے بارے میں ایران کے دعوے حقیقت پر مبنی ہیں۔ مثال کے طور پر کویت کے فضائی اڈے «علی السالم» میں 10 میں سے 9 ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینک انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کیے گئے۔

امریکی ذرائع ابلاغ بھی بارہا یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ مغربی ایشیا میں امریکہ نے اپنے فوجی اڈوں پر کنٹرول کھو دیا اور اسے شدید ضربیں لگیں۔ امریکی نیوز نیٹ ورک «CNN» کے مطابق تباہ شدہ امریکی فوجی اڈوں کی مرمت پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے، جس سے ایران جنگ کی لاگت مزید بڑھ جائے گی۔

یہ امریکی نیٹ ورک مزید کہتا ہے کہ ایرانی حملوں نے اہم انفراسٹرکچر، بشمول رن ویز، ریڈار سسٹمز، گوداموں اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا؛ نیز ایران نے 40 روزہ جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے تمام 16 فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملے کیے۔

امریکی ریاست میزوری کے پروفیسر «اسٹیون اسٹار» کے مطابق“امریکہ عملی طور پر خلیج فارس سے نکال باہر کیا گیا ہے؛ اس کے تقریباً تمام فوجی اڈے یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا ناکارہ بنا دیے گئے ہیں؛ 13 سے 19 بڑے اڈے یا تو چھوڑ دیے گئے یا تباہ ہو گئے ہیں۔”

 

 

 

تعداد بازدید : 2
ویڈیو کوڈ

وہ مزید کہتے ہیں کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر کو اس قدر شدید نقصان پہنچا کہ وہاں 100 سے بھی کم اہلکار باقی رہ گئے ہیں جبکہ شام میں امریکہ کے تمام فوجی اڈے خالی کر دیے گئے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے تباہ کُن حملوں نے دنیا بھر میں امریکہ کی عسکری ساکھ اور وقار کو یکسر ختم کر دیا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اب بیشتر امریکی سیاست دان ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے خواہاں ہیں اور «ڈونلڈ ٹرمپ» سے کہہ رہے ہیں کہ اب بہت ہو چکا ہے۔

گزشتہ ہفتوں کے دوران «وینڈی شرمن» — جو 2015 میں ایران کے ساتھ امریکی مذاکراتی ٹیم کی رکن اور اس ملک کی نائب وزیر خارجہ رہ چکی ہیں — «کامالا ہیرس»، جو «جو بائیڈن» کے دور میں نائب صدر رہیں، امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن «کرس مرفی»، امریکی صدارتی امیدوار «برنی سینڈرز»، سابق امریکی وزیر خارجہ «انتھونی بلنکن» اور دیگر سیاسی ماہرین اقر تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ امریکہ شکست کھا چکا ہے اور اسے پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات کی میز پر ایران کو رعایت دینا ہوگی۔

تاہم متکبر اور خود کو برتر سمجھنے والی «ڈونلڈ ٹرمپ» حکومت اب بھی یہ گمان کرتی ہے کہ وہ بغیر کسی رعایت کے اپنی تمام شرائط مسلط کر سکتی ہے؛ مگر ہمارے ملک کے حکام بارہا اس موقف کو مسترد کر چکے ہیں اور امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ یقیناً آنے والے ہفتوں میں بھی جاری رہے گا؛ بالکل اسی طرح جیسے گزشتہ ہفتوں میں ایران نے امریکی دہشت گرد فوج کی بحری ناکہ بندی کے مقابل ڈٹ کر مزاحمت کی ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً