اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو ایٹمی ریکٹر فروخت کرنے کے سمجھوتے پر عمل در آمد کی صورت میں کچھ ڈیڈ لائن تیار کی گئی ہے جس کے بارے میں اسرائیل کو امید ہے کہ امریکا اس پر عمل کرے گا۔
خبر کا کوڈ: ۱۸۲۲
تاریخ اشاعت: 18:15 - July 12, 2018

جب دیرینہ دوست نے مخالفت کر دی ؟؟؟مقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے چینل -10 کے مطابق اسرائیلی حکام کو یہ بات سجمھ میں آ گئی ہے کہ وہ اس معاہدے کو معطل کو کروا نہیں سکتے کیونکہ یہ اربو ڈالر کا سمجھوتہ ہے جس سے امریکا کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا۔

اسرائیل کے وزیر توانائی اور سینئیر ایٹمی مذاکرات کار یوواال اسٹینٹز نے اپنے امریکی ہم منصب ریک پیری سے واشنگٹن میں ملاقات کی اور ان کے سامنے کئی مناسب مطالبات رکھے تاکہ سعودی عرب کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھی جا سکے۔

مئی میں سعودی ولیہد محمد بن سلمان نے سی بی ایس ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک ایٹمی اسلحہ حاصل کرنے کو تیار ہے۔ ان کے اس بیان پر پوری دنیا کے رد عمل سامنے آیا تھا۔

اس اعلان کے بعد ہی پورٹی دنیا میں ہنگامہ مچ گیا تھا کیونکہ اس سے اس ملک کے بارے میں تشویش بڑھ گئی جو انتہا پسند وہابی نظریات کا مرکز اور داعش، القاعدہ اور نصرہ فرنٹ جیسے دہشت گردوں کا منبع ہے۔

اس ہنگامہ کے بعد شاہی خاندان کے قریبی سمجھے جانے والے ایک نامہ نگار لوعہ الشریف نے عبری زبان میں ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کو خطاب کیا گیا تھا۔

اس ویڈیو بیان میں شریف نے کہا تھا کہ ان کے ملک کے کسی بھی ممکنہ ایٹمی اسلحے کے پروگرام میں اسرائیل نشانہ نہیں ہوگا۔   پھر بھی اسرائیلی وزیر توانائی نے پیری سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات واضح کی کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین میں یورینیم کی افزودگی نہ ہو، ہم اس معاہدے کی  مفصل معلومات سے دی جائے اور ایٹمی ریکٹر لگائے جانے کے مقام کے بارے میں اس سے مشورہ کیا جائے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں