تیسری دفاع مقدس میں ایران کی کامیابی کا راز، میدان جنگ اور سفارت کاری کی باہمی ہم آہنگی تھی، بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی امور کے گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی سے ملاقات کے دوران حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے ایامِ عزاداری پر تعزیت پیش کی اور جنگِ رمضان کے دوران فوج کی بعض کارروائیوں کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے بری، ائیر ڈیفنس، فضائیہ اور بحریہ کے جوان، جنگِ رمضان میں وطن کے دفاع کے لیے آخری سانس تک ڈٹے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے جنگ کے دوران جارحانہ کارروائیوں کے میدان میں جدید حربی حکمتِ عملیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف جنگی طیاروں، میزائلوں اور تباہ کُن ڈرونز کے ذریعے جرات مندانہ اور مؤثر آپریشن انجام دیے اور کامیابی کے ساتھ علاقائی ممالک اور مقبوضہ سرزمینوں میں واقع امریکی اور صیہونی دشمن کے اڈوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی سرگرمیاں صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ فوج کے چاروں شعبوں نے ملک بھر میں اپنی طبی اور صحت کی سہولیات عوام کی خدمت کے لیے وقف کیں اور عزیز ہم وطنوں کو طبی اور صحت کی خدمات فراہم کیں۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے مسلح افواج کی پشت پناہی کے سلسلے میں حکومت کی کوششوں اور اقدامات کو سراہتے ہوئے تاکید کی کہ:
"آج دشمنوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی، عوام کی موجودگی، حمایت، میدان جنگ اور سفارت کاری کے باہمی اشتراک اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے جو سپریم کمانڈر انچیف کی تدابیر اور قیادت کے تحت حاصل ہوئی ہے۔"
اس کے بعد حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
"ہم تمام مسلح افواج کے مقروض ہیں اور ایرانی فوج، ایران کے ڈیفنس سسٹم کے ایک بنیادی ستون کے طور پر، عوام کے ذہنوں میں نہایت عظیم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ عوام، فوج کے بارے میں انتہائی مثبت رائے رکھتی ہے اور اسی وجہ سے فوج کا سماجی سرمایہ بہت عظیم ہے جو قابلِ تبریک ہے۔"
حکومتی ترجمان نے جنگِ رمضان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی شجاعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"اس جنگ میں فوج نے دیگر مسلح افواج کے شانہ بشانہ پوری طاقت کے ساتھ کردار ادا کیا اور آج کی یہ کامیابی مسلح افواج، معاشرے کے تمام طبقات اور حکومت کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا تمام مسلح افواج، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور یقیناً ایران کی تمام عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔"
انہوں نے کہا کہ "جان نثار" ہونے کا حقیقی راستہ ان مسائل کے حل میں اجتماعی تعاون ہے جن کا ملک کو سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
"آج ضروری ہے کہ سماجی یکجہتی اور عوام اور مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشش کی جائے اور عوام میں فوج کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یقیناً فوج کا سماجی سرمایہ اس راستے میں مؤثر اور رہنمائی فراہم کرنے والا ثابت ہوگا۔"
ملاقات کے اختتام پر فوج اور حکومت کے درمیان میڈیا اور انفارمیشن کوآرڈینیشن کو جاری رکھنے اور مزید وسعت دینے پر زور دیا گیا اور اس سلسلے میں بعض تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
اس ملاقات میں فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ اور میڈیا کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل سید حسن ابوترابی اور فوج کے انفارمیشن اینڈ نوٹیفکیشن برانچ کے دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
