خطے کی جنگ و امن کی کشمکش صورتحال میں سینٹکام کی ہذیان گوئی

امریکی حکام نے حالیہ ایرانی جوابی حملوں کو غیر اہم قرار دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ متعدد رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے میزائلوں اور ڈرونز نے خطے میں امریکی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
خبر کا کوڈ: 5972
تاریخ اشاعت: 13 June 2026 - 21:29 - 04September 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، محمد زرچینی لکھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا آغاز 28 فروری 2026کو ہوا تھا اور اِس وقت بھی فریقین کے درمیان نازک جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران امریکی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی مرتبہ ایران کے جنوبی آبی علاقوں میں ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

سینٹکام

امریکہ کی جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی مسلح افواج کے منہ توڑ جوابات

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے بھی امریکی فوج کے حملوں کی نوعیت کے مطابق مناسب اور مؤثر جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ مثال کے طور پر چند روز قبل بندر عباس پر ہونے والے حملے میں جنوبی علاقے میں واقع ایران کے ایک فوجی اڈے کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح ایک اور حملے میں امریکی فوج نے، جو خطے میں امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کی قیادت میں انجام دیا گیا، جنوبی جزیروں میں مواصلاتی ٹاورز کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں ایران نے مسلسل کارروائیاں کر کے امریکی فریق کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ سینٹکام کبھی بھی اپنے نقصانات کی حقیقت کو تسلیم نہیں کر سکا۔ جس طرح وہ ایرانی مسلح افواج کے میزائل حملوں کے اثرات کو قبول کرنے سے گریز کرتا ہے یا انہیں کم اہمیت دکھانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرزِ عمل کا مظاہرہ امریکی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جنگ کے آغاز سے مسلسل متضاد بیانات دینے کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔

ایران کے خلاف امریکہ کے چار بنیادی ٹارگٹس کی ناکامی

سینٹکام اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا تجزیہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ایران پر بڑے حملے کے دوران امریکہ کے اعلانیہ ٹارگٹس کا جائزہ لیا جائے۔

 1۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی تبدیلی

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی تبدیلی کو اپنا پہلا ہدف قرار دیا تھا۔ تاہم شدید بمباری اور اعلیٰ فوجی اور سرکاری شخصیات کی شہادت کے باوجود یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ ٹرمپ نے یہاں تک دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے آئندہ رہبر کا انتخاب بھی ان کی مرضی سے ہونا چاہیے لیکن یہ دعویٰ بھی ناکام ثابت ہوا اور اسلامی جمہوریہ نے اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا۔

 2۔ ایران کی تقسیم

امریکہ نے شمالی عراق کے کُرد علاقے میں بڑی مقدار میں اسلحہ منتقل کر کے اور پژاک، پی کے کے، کوملہ اور ڈیموکریٹ جیسے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کر کے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ ابتدائی فضائی حملوں کے بعد کُرد جنگجوؤں کو ایران میں داخل کیا جائے۔ لیکن یہ منصوبہ بھی ناکام رہا کیونکہ جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل ایران نے شمالی عراق میں موجود ان گروہوں کے ٹھکانوں پر شدید حملے کر کے ان کی سیکڑوں عسکری گاڑیاں تباہ کر دی تھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ مختلف تقاریر میں بارہا ایران کو تقسیم کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے۔ لہٰذا یہ تصور کرنا کہ امریکی صدر ایران پر حملہ، امن قائم کرنے کے لیے کر رہے تھے، حیران کُن اور قابلِ غور بات ہے۔

 3۔ جزیرہ خارگ پر قبضے کے ذریعے ایرانی تیل کی منڈی پر کنٹرول

جزیرہ خارگ ایران کا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک جزیرہ ہے جہاں سے ہر ماہ کروڑوں بیرل تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کا منصوبہ تھا کہ اس جزیرے پر قبضہ کر کے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے لیکن یہ منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔

درحقیقت ٹرمپ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ وینزویلا جیسا منظرنامہ ایران میں بھی نافذ کر سکتے ہیں اور ایرانی تیل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر امریکی فوج اور سینٹکام اس مقصد میں بھی ناکام رہے۔

 4۔ ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی اور یورینیم ذخائر کی منتقلی

امریکہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران کئی مرتبہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی۔ اسی سلسلے میں جوہری تنصیبات پر حملوں کے علاوہ ایک ایسا منصوبہ بھی بنایا گیا جس کے تحت لڑاکا اور ٹرانسپورٹ طیاروں کی مدد سے یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کیا جانا تھا۔

تاہم اصفہان کے دشت مہیار میں یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہوا اور اس ناکامی کو ایران میں "طبس 2" کا نام دیا گیا کیونکہ اسے امریکی آپریشن ایگل کلا (طبس واقعہ) کی ایک اور شکست سے تشبیہ دی گئی۔

سینٹکام کے کمانڈرز اور حکام کی ہذیان گوئی

مندرجہ بالا چاروں اہداف میں ناکامی کے بعد حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور سینٹکام خطے میں اپنے تمام بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہی مسلسل ناکامیوں نے امریکی حکام کو ایسی باتیں کرنے پر مجبور کر دیا ہے جنہیں مصنف "ہذیان گوئی" قرار دیتا ہے تا کہ وہ اپنے نقصانات پر پردہ ڈال سکیں۔

امریکی اور صیہونی حکام نے حالیہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو غیر مؤثر قرار دیا جبکہ متعدد رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں نے مغربی ایشیا میں امریکی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ ایک امریکی جنگی جہاز میں آگ لگنے کی سیٹلائٹ تصاویر بھی منظر عام پر آئیں۔

اس بنا پر مصنف کے مطابق سینٹکام کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور جب امریکی مرکزی کمان اپنے بیانات فارسی زبان کے ذرائع ابلاغ جیسے "انڈیپنڈنٹ فارسی"، "ایران انٹرنیشنل" اور "ریڈیو فردا" کے ذریعے شائع کرتی ہے تو ایرانی صارفین ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

اسی ہفتے صیہونی حکومت کو ایرانی مسلح افواج کے شدید میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں میں بھاری نقصان ہوا۔ اس کے باوجود سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل کو میزائلوں کی روک تھام میں کوئی مدد فراہم نہیں کی اور یہ کہ ایرانی حملے کامیاب نہیں تھے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے بھی دعویٰ کیا کہ تمام ایرانی میزائل روک لیے گئے اور کوئی میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچا۔ تاہم بعد میں "رامات ڈیوڈ" اڈے سے متعلق رپورٹس اور تصاویر منظر عام پر آئیں جنہیں خود صیہونی ذرائع ابلاغ نے بھی نشر کیا اور ان سے واضح ہو گیا کہ ایرانی میزائلوں کی مکمل روک تھام کا دعویٰ حقیقت کے مطابق نہیں تھا۔

مصنف کے مطابق صیہونی اور امریکی حلقے ماضی میں بھی ایران کی دفاعی صنعت کی کامیابیوں کو کم اہمیت دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کبھی ایرانی میزائلوں کو "واٹر ہیٹر" کہا گیا اور کبھی ڈرونز کو "فوٹوشاپ" کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

لیکن جب یہی میزائل مقبوضہ علاقوں، خصوصاً بئر السبع، رامات گان اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر بھاری نقصان کا باعث بنے تو امریکی اور صیہونی حلقوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے حملوں کی کامیابی ہی سے انکار کرنا اور میزائل ڈیفنس سسٹم کی کارکردگی کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کرنا شروع کر دیے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں