دشمن کی جاسوسی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر محلّے میں سیکیورٹی اور تہران کی پہاڑی بلندیوں کی نگرانی کا سلسلہ جاری
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، تہران کی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئی آر جی سی کے کمانڈر جنرل حسن حسنزادہ نے محلّات میں پیٹرولنگ اور چیک پوسٹس کے قیام کے اثرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"تہران کی سیکیورٹی برقرار رکھنا رضاکار بسیج فورس کی فطری اور بنیادی ذمہ داری ہے اور اسی سلسلے میں ہم مسلسل انٹیلیجنس پیٹرولنگ، آپریشنل کارروائیوں اور چیک پوسٹس کے قیام کو جاری رکھے ہوئے ہیں” ۔

جنرل حسنزادہ نے مزید کہا کہ 12 روزہ اور 40 روزہ مسلط کردہ جنگوں کے دوران ان سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی:
"ہمارے دشمن، خصوصاً امریکہ اور صیہونی حکومت، رضاکار بسیج کے کردار اور اندرون ملک امن میں اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں، اسی لیے انہوں نے اس امن میں خلل ڈالنے کے مقصد سے ہماری نگرانی اور چیکنگ کے نیٹ ورکس کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا” ۔
انہوں نے کہا:
"دشمن کا خیال تھا کہ ہمارے بعض عزیزوں کی شہادت کے بعد رضاکار بسیج کی موجودگی اور صلاحیت کمزور پڑ جائے گی لیکن اس کے برعکس، بسیجی طاقتوں کا جذبہ اور میدان میں موجودگی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی” ۔
انہوں نے مزید بتایا:
"ان واقعات کے بعد بڑی تعداد میں عوام نے خود ہمارے پاس آکر چیک پوسٹس، نگرانی کے نیٹ ورکس اور دیگر سیکیورٹی سرگرمیوں میں رضاکارانہ شرکت کی خواہش ظاہر کی” ۔
تہران کی آئی آر جی سی کے کمانڈر نے بسیجی رضاکاروں کے جذبۂ شہادت اور عاشورائی فکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"آج بھی حالات کے مطابق حفاظتی تدابیر کے ساتھ چیک پوسٹس کا نظام ایکٹیو ہے۔ اس کے علاوہ جاسوسی ہتھیاروں کی نشاندہی کے لیے پہاڑی اور بلند علاقوں میں نگرانی، مسلسل مانیٹرنگ اور پیٹرولنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے اور تہران کے تمام علاقوں میں یہ سرگرمیاں مسلسل انجام دی جا رہی ہیں”۔
جنرل حسنزادہ نے اپنے بیان کے اختتام پر گزشتہ کئی ماہ سے عوام کی بھرپور اور پرجوش موجودگی کو سراہتے ہوئے کہا:
"ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس باعزم اور طاقتور عوام کے شانہ بشانہ امن و سکون کو برقرار رکھا جائے تا کہ یہ قومی اتحاد اور یکجہتی، انقلابِ اسلامی اور مزاحمتی محور کے دشمنوں کی حتمی شکست کا سبب بنے” ۔
