ہمارے تمام ائیر ڈیفنس کے ساز و سامان مقامی طور پر تیار شدہ ہیں / سسٹمز کی اپ گریڈیشن اور تیاری کے لیے ہم کسی کے محتاج نہیں، جنرل الہامی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے، خاتم الانبیاء (ص) مشترکہ ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹر اور ائیر ڈیفنس فورس کے کمانڈر **جنرل علی رضا الہامی** نے تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد اس فورس کی جنگی تیاریوں میں اضافے کے حوالے سے کہا:
آج اسلامی جمہوریہ ایران کی ائیر ڈیفنس فورس کے پاس جو بھی آلات، ڈیفنس سسٹم، حربی حکمتِ عملیاں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، مواصلاتی ڈھانچے اور انٹیلی جنس کے شعبے موجود ہیں، وہ مکمل طور پر ایرانی خود ساختہ ہیں۔

جنرل الہامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ تمام کامیابیاں سو فیصد مقامی علم و دانش اور اسلامی ایران کے غیرت مند مردوں اور سائنس دانوں کی صلاحیتوں کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں، کہا:
ممکن ہے بعض مشکلات یا کمزوریاں بھی موجود ہوں لیکن ڈیفنس سسٹم فورس کے ماہرین اور سائنس دان ملکی سائنسی اور تحقیقی مراکز کے ساتھ مسلسل اور قریبی تعاون کے ذریعے تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔
خاتم الانبیاء (ص) مشترکہ ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے ملک کی ائیر ڈیفنس صلاحیت کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
ہماری پوری کوشش یہ ہے کہ ڈیفنس سسٹمز اور ساز و سامان کو روز افزوں خطرات کے مطابق تیار اور جدید بنایا جائے اور وہ تمام آلات اور سسٹمز جو "تیسری مسلط کردہ جنگ" کے دوران مجرم دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے، انہیں جلد از جلد تعمیر کیا جائے۔
انہوں نے ائیر ڈیفنس فورس کی کارکردگی اور ترقی کا راز اندرون ملک صلاحیتوں پر انحصار قرار دیتے ہوئے کہا:
جب تمام ساز و سامان مقامی طور پر تیار شدہ ہوں تو ان کی اپ گریڈیشن اور جدید کاری مکمل طور پر ہمارے اپنے اختیار میں ہوتی ہے۔ ہم اپنی ضروریات کے مطابق ان آلات کو مسلسل ری نیو کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر ان کی بڑے پیمانے پر پیداوار بھی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں۔
ائیر ڈیفنس فورس کے کمانڈر نے آخر میں نالج بیس کمپنیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
آج ہماری تمام تر کوشش اس سمت میں ہے کہ سائنسی اور تحقیقی مراکز کی مدد سے اپنے دفاعی ساز و سامان کو موجودہ خطرات کے مطابق جدید بنایا جائے اور انہیں وسیع پیمانے پر پیداوار کے مرحلے تک پہنچایا جائے۔
