باب المندب مزاحمتی محاذ کے اہم ترین اسٹریٹجک ٹرمپ کارڈز میں سے ایک ہے / میدان جنگ اور سفارت کاری کے مجاہد ایک ہی مزاحمتی مکتب سے تعلق رکھتے ہیں، جنرل قاآنی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، قدس بریگیڈ کے کمانڈر **جنرل اسماعیل قاآنی** نے ایک گفتگو میں کہا:
خطے میں مزاحمت کا موضوع، خدا کے فضل و کرم سے، اسلامی انقلاب کے ابتدائی ایام ہی سے جڑیں رکھتا ہے۔ اسی زمانے میں حضرت امام خمینیؒ نے دنیا بھر میں مزاحمتی مراکز کی تشکیل کا حکم جاری کیا تھا۔ ان کے بعد ہمارے شہید امام نے بھی اسی راستے کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ابتدائی مزاحمتی حلقے منظم مزاحمتی تحریکوں میں تبدیل ہوتے گئے اور پھر آپس میں جڑ کر ایک وسیع **مزاحمتی محور** کی شکل اختیار کر گئے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے ابتدا ہی سے امریکہ، عالمی طاغوت اور صیہونی حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا:
آج امریکہ بخوبی جانتا ہے اور صیہونی حکومت تو امریکہ سے بھی زیادہ بہتر انداز میں جانتی ہے کہ وہ طاقت جو سخت ترین حالات میں بھی ان کے سامنے ڈٹی رہی، مسلسل لڑتی رہی اور میدان سے پیچھے نہیں ہٹی، وہ یہی **مزاحمت** ہے۔ حالیہ زمانے نے اس حقیقت کو پوری طرح ثابت کر دیا ہے۔ **طوفان الاقصیٰ** سے لے کر آج تک دشمن نے اپنی تمام تر طاقت استعمال کی، تاریخ کے بدترین دباؤ ڈالے، وسیع ترین تباہیاں مچائیں، فلسطین اور لبنان میں ہولناک ترین جرائم کا ارتکاب کیا لیکن اس کے باوجود مزاحمتی محاذ کا ایک بھی گروہ میدان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوا۔ یہی ثابت قدمی دشمنوں کے لیے خوف اور اضطراب کا باعث بنی ہوئی ہے۔
جنرل قاآنی نے کہا:
دشمن نے مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اس کا خیال تھا کہ یہ جنگ مزاحمتی طاقتوں کو کمزور اور مصروف کرنے کا سنہری موقع ثابت ہوگی لیکن وہ اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ ہمارے مزاحمتی محور کے بھائی بہت پہلے ہی سے، جب بھی ایک ساتھ جمع ہوتے تھے، ہماری غیر موجودگی میں بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ **"امریکہ کے خلاف جنگ میں ہمیں خود پیش قدمی کرنی چاہیے اور اسلامی جمہوریہ ایران کو کسی مشکل میں نہیں پڑنے دینا چاہیے”۔** یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا؛ کسی نے ان سے ایک لفظ تک نہیں کہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا:
مسلط کردہ جنگ کے دوران مزاحمتی محاذ کے تمام مراکز عملی طور پر پیش پیش رہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ حالیہ جنگ میں پورا مکمل مزاحمتی محور، ایک غیرمعمولی طاقت کے ساتھ نمایاں ہوا۔
جنرل قاآنی نے کہا:
**لبنان کی حزب اللہ** تیسری مسلط کردہ جنگ میں 104 روز تک ایران کے شانہ بشانہ لڑتی رہی۔ حزب اللہ ایسی طاقت نہیں جسے سمیٹا یا ختم کیا جا سکے اور نہ ہی کوئی اس کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے۔ جو کچھ آپ نے حزب اللہ کے بارے میں دیکھا ہے، وہ دراصل ایک برفانی طوفان کی ایک جھلک ہے۔ حزب اللہ نہ صرف پورے شیعہ معاشرے بلکہ لبنان کے غیر شیعہ طبقے کے ایک بڑے حصے کو بھی اپنے ساتھ رکھتی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا:
چاہے وہ مجاہد جو میزائل لانچر کے پیچھے کھڑا ہے یا وہ افراد جو مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں، سب ایک ہی **مزاحمتی مکتبِ فکر** سے تعلق رکھتے ہیں۔
قدس بریگیڈ کے کمانڈر نے مزید کہا:
گزشتہ شب ایران صیہونی حکومت پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا۔ ہم پوری طاقت اور اقتدار کے ساتھ ڈٹے رہے اور بالآخر وہ بات منوا لی جسے دوسرا فریق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
جنرل قاآنی نے کہا:
امریکی۔صیہونی دشمن جہاں کہیں بھی مزاحمت کے مقابل کھڑا ہوا، وہاں اس کی عزت و وقار باقی نہیں رہی۔ **باب المندب** مزاحمتی محاذ کے اہم ترین ٹرمپ کارڈز میں سے ایک ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو دیگر ٹرمپ کارڈز بھی سامنے لائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا:
باب المندب اس وقت **حزب اللہ، انصار اللہ یمن** اور حتیٰ کہ بعض ایسے مزاحمتی مجاہدین کے ہاتھ میں موم کی مانند ہے جو خود یمنی بھی نہیں ہیں۔
جنرل قاآنی نے بتایا:
جنگ کے دوران امریکہ کے بعض جدید ترین جنگی بحری جہاز، جو بحیرۂ احمر سے گزرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تقریباً دو ہفتوں تک یمن اور جدہ کے درمیان سمندری علاقے میں چکر لگاتے رہے تا کہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا وہ گزر سکتے ہیں یا نہیں؛ لیکن بالآخر ان میں گزرنے کی جرأت پیدا نہ ہو سکی۔
انہوں نے کہا:
تیسری مسلط کردہ جنگ نے امریکہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کی حیثیت کو مجروح کر دیا ہے۔
جنرل قاآنی کے مطابق:
تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد صیہونی حکومت کے زوال اور اندرونی انہدام کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
جیسے ہی صیہونی حکومت نے لبنان پر حملہ کی، ایرانی مذاکراتی وفد نے نہایت اقتدار اور مضبوطی کے ساتھ دشمن اور ثالثوں کا سامنا کیا۔ لبنان کے معاملے میں ثابت قدمی نے یہ ثابت کر دیا کہ "میدانِ جنگ کے ہیروز اور سفارت کاری کے نمائندے، دونوں ایک ہی مزاحمتی فکر اور روح کے حامل ہیں”۔
