جنگِ رمضان کے دوران میزائل اور ڈرون کی ساخت نہیں رکی، جنرل ابن الرضا

ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے عوام کے ہاتھوں رقم کی گئی ’’جنگِ رمضان‘‘ کی حیران کُن داستانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبے اور قربانیوں کے سائے میں لڑی گئی اس تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران ہم نے بارہ روزہ جنگ کے مقابلے میں صیہونی حکومت، مجرم امریکہ اور ان تمام ممالک کے مقابلے میں جنہوں نے لاجسٹک مدد فراہم کر کے یا اپنے وطن کی زمین کو حملوں کے لیے مہیا کر کے دشمن کی معاونت کی، کہیں زیادہ طاقت اور قوت کے ساتھ جنگ لڑی۔
خبر کا کوڈ: 5983
تاریخ اشاعت: 18 June 2026 - 07:37 - 09September 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، وزیر دفاع کے نائب سربراہ جنرل ابن الرضا نے جنگِ رمضان اور اس میں عوامی جوش و جذبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا:

ہم نے تیسری مسلط کردہ جنگ میں بارہ روزہ جنگ کے مقابلے میں، صیہونی حکومت، مجرم امریکہ اور ان تمام ممالک کے خلاف جنہوں نے مختلف طریقوں سے دشمن کی مدد کی، کہیں زیادہ مضبوطی اور طاقت کے ساتھ مقابلہ کیا” ۔

جنرل ابن‌الرضا

ایک مشترکہ اجلاس میں، جس میں وزارتِ دفاع کے نائب سربراہ اور ایرانی پارلیمان (مجلسِ شورائے اسلامی) میں صوبہ مشرقی آذربائیجان کے نمائندگان شریک تھے، ارکانِ پارلیمان نے قائدِ شہیدِ امت، شہید فوجی کمانڈرز اور شہید وزرائے دفاع، بالخصوص کمانڈر میجر جنرل نصیرزادہ کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔

نمائندوں نے مسلح افواج کے مجاہدین، ڈیفنس انڈسٹری کے سائنس دانوں اور ماہرین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمان، مسلح افواج کی قانونی اور بجٹ سے متعلق ضروریات کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔

اس اجلاس میں، جس میں وزارتِ دفاع کے متعدد معاونین بھی شریک تھے، ارکانِ پارلیمان نے مسلح افواج کی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا اور فوجی اہلکاروں اور ریٹائرڈ افراد کی معاشی صورتحال میں مزید بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔

جنرل بریگیڈیئر ابن الرضا نے جنگِ رمضان کے دوران عوامی بیداری اور قربانیوں کو ایک عظیم معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا:

"ہم نے بارہ روزہ جنگ کے مقابلے میں اس مسلط کردہ جنگ میں صیہونی حکومت، مجرم امریکہ اور ان تمام ممالک کے خلاف جنہوں نے لاجسٹک امداد یا اپنے ملک کی زمین فراہم کر کے دشمن کا ساتھ دیا، کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ لڑی” ۔

انہوں نے مزید کہا:

"اس جنگ کے دوران دفاعی صنعتوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا اور نالج بیسڈ کمپنیز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزارتِ دفاع میں اسٹریٹجک میزائلوں اور ڈرونز کی ساخت زیادہ رفتار اور زیادہ توجہ کے ساتھ جاری رہی”۔

انہوں نے بتایا کہ اسی عرصے میں مسلح افواج کے لیے نئے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری اور موجودہ سسٹمز کی اپ گریڈیشن میں نمایاں پیش رفت ہوئی اور ان ہتھیاروں کو میدانِ جنگ میں استعمال کرتے ہوئے جارح اور مجرم دشمنوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا گیا۔

اجلاس میں وزارتِ دفاع کی جانب سے مسلح افواج کے لیے فوجی، اسٹریٹجک، دفاعی اور معاشی معاونت کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی جبکہ آئندہ کئی دہائیوں کے لیے وزارتِ دفاع کے طویل المدت روڈ میپ اور دفاعی حکمتِ عملی کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً