اپ ڈیٹ: 21 June 2021 - 16:12
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ کے سیاسی معاون سید عباس عراقچی نے ویانا میں مشترکہ ایٹمی معاہدے کے اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ: ۴۴۲۱
تاریخ اشاعت: 17:58 - April 04, 2021

امریکہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیںمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ کے سیاسی معاون سید عباس عراقچی نے ویانا میں مشترکہ ایٹمی معاہدے کے کمیشن کے اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ویانا اجلاس میں مذاکرات اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کی روشنی میں ہوں گے۔ ایران نے امریکہ کے گام بہ گام اور مرحلہ وار پابندیاں ہٹانے کی تجویز کو رد کردیا ہے کیونکہ اب عملی اقدام کا وقت ہے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر تمام فریقوں نے دستخط کردئئے ایران نے اس پر عمل در آمد بھی کردیا لیکن امریکہ نے اس معاہدے سے خارج ہوکر معاہدے کو نقصان پہنچایا اور اب امریکی حکومت کو مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنے سے قبل ایران کے خلاف  تمام پابندیوں کو ختم کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں جدید یا مرحلہ وار مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ویانا میں مشترکہ کمیشن میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست یا غیر مستقیم مذاکرات نہیں ہوں گے بلکہ ہم امریکہ کے مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنے کے سلسلے میں اپنے شرائط بیان کریں گے۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں