مزاحمتی محاذ کی نئی حکمت عملی
تحریر: محمد زرچینی (دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس)
لبنان میں جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جسے صیہونی حکومت کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث "نہ جنگ، نہ امن" کا مرحلہ کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران حزب اللہ نے قابض صیہونی فوج کے خلاف بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو کاری ضربیں لگائی ہیں۔
حزب اللہ کی اس برتری کی بڑی وجہ زمینی جنگ پر اس کی مکمل گرفت اور 'خیام، مرجعیون، مارون الراس اور راس ناقورہ' کے جغرافیائی علاقے میں صیہونی مرکاوا ٹینکوں کی مسلسل تباہی ہے۔ فیلڈ رپورٹس کے مطابق، حزب اللہ کے مجاہدین اب تک دشمن کے تقریباً 200 مرکاوا ٹینکوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن میں سے بیشتر ناکارہ ہو چکے ہیں۔

موجودہ جنگ اور ماضی کی جنگوں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ 33 روزہ یا 55 روزہ جنگ میں حزب اللہ زیادہ تر 'کورنٹ-ای' (Kornet-E) اینٹی ٹینک میزائلوں پر انحصار کرتی تھی، لیکن موجودہ معرکے میں مسلح کواڈ کوپٹرز یا "FPV" ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کے نتائج انتہائی حیران کن رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 33 روزہ جنگ میں جب حزب اللہ اپنی طاقت کے عروج پر تھی، تو 'دشتِ خیام' میں درجنوں ٹینکوں کی تباہی کے بعد یہ علاقے صیہونی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا تھا، مگر اس موجودہ جنگ میں محض 50 دنوں سے بھی کم عرصے میں 200 ٹینکوں کا ناکارہ ہونا حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کواڈ کوپٹر یا چھوٹے جنگی ڈرونز (UCAV) وہ بغیر پائلٹ طیارے ہیں جو جاسوسی، نگرانی اور ہدف کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے خلاف فضائی گولہ بارود کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
عسکری تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ حزب اللہ کے یہ "FPV" ڈرونز، جن کی قیمت محض 500 ڈالر کے لگ بھگ ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی ٹینکوں اور انجینئرنگ آلات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان ڈرونز کی کامیابی کا اصل راز 'فائبر آپٹک کیبلز' کا استعمال ہے؛ یہ ڈرونز ایک تار کے ذریعے آپریٹر سے منسلک ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے دشمن کے لیے 'الیکٹرانک وارفیئر' یا سگنل جام کرنے کے ذریعے ان کا راستہ روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

حزب اللہ نے اسی حکمتِ عملی کے ذریعے جنگ کا رخ موڑ دیا ہے۔ عبرانی اخبار 'ہاریٹز' کے مطابق: "حالیہ جھڑپوں میں خودکش ڈرونز کی ایک نئی قسم سامنے آئی ہے جو فائبر آپٹک کے ذریعے گائیڈڈ ہیں اور کسی بھی قسم کی الیکٹرانک مداخلت (Jamming) سے محفوظ ہیں۔" اخبار مزید لکھتا ہے کہ ان ڈرونز کا استعمال اسرائیل کی اس برتری کو ختم کر سکتا ہے جس کی امید پر صیہونی حکومت نے لبنان میں 'سکیورٹی زون' بنا رکھا ہے۔
اسرائیلی چینل 'کان' نے بھی حزب اللہ کی اس صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈرونز الیکٹرانک وارفیئر کے خلاف مزاحم، شناخت کرنے میں مشکل اور عمارتوں کے اندر تک جا کر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ صیہونی فوج کے 200 ٹینک تباہ یا ناکارہ ہوئے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگی ساز و سامان کے ضیاع کے علاوہ دشمن کو تقریباً 600 ملین ڈالر کا مالی نقصان پہنچا ہے اور سینکڑوں فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اگرچہ صیہونی حکومت کی شدید سنسر شپ کی وجہ سے درست اعداد و شمار سامنے نہیں لائے جاتے۔
صیہونی فوج کے ان دعوؤں کے برعکس کہ انہوں نے حزب اللہ کی آپریشنل صلاحیتیں ختم کر دی ہیں، میدانِ عمل میں حزب اللہ کی طاقت دشمن پر پوری طرح حاوی نظر آتی ہے۔ زمینی جنگ میں حزب اللہ کا یہ مظاہرہ مزاحمتی محاذ کے لیے ایک بڑا اور کامیاب حربہ ثابت ہو رہا ہے۔
صرف حزب اللہ ہی نہیں بلکہ عراق کی اسلامی مزاحمت نے بھی "FPV" ڈرونز کے ذریعے 'ویکٹوریا' فوجی اڈے پر موجود امریکی و صیہونی دشمن کو سخت نقصان پہنچایا ہے، جس میں امریکی ہیلی کاپٹروں اور لاجسٹک گوداموں کی تباہی بھی شامل ہے۔
مستقبل کی غیر روایتی جنگوں میں کواڈ کوپٹرز کا یہ استعمال ان بڑی روایتی افواج کی کمر توڑ دے گا جو اپنی طاقت پر ناز کرتی ہیں، جیسا کہ آج ہم عراق اور لبنان میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف دیکھ رہے ہیں۔
