سستے ڈرون کیسے مہنگی افواج کو شکست دیتے ہیں؟

خودکش ڈرونز نے روس یوکرین جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے اور ایران کو بھی امریکی اور صیہونی جارحین کے مقابلے میں بھرپور مدد فراہم کی ہے۔
خبر کا کوڈ: 5856
تاریخ اشاعت: 08 May 2026 - 05:07 - 30July 2647

تحریر: محمد زرچینی (دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس)

 فضائی پلیٹ فارمز جدید جنگوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں اور یہ کردار اس قدر اہم ہے کہ بعض اوقات دو ممالک کے درمیان جنگی توازن کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اس بنا پر ڈرونز آج کی جنگوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جنگی طیاروں کے مقابلے میں کم لاگت پر ملک کے خلاف حملوں کو منظم کر سکتے ہیں۔

ڈرون

مثال کے طور پر یوکرین اور مغربی ایشیا کے تنازعات نے ڈرونز کو خبروں کی سرخی بنا دیا ہے۔ “ڈرون” کی اصطلاح اب تفریحی کیمروں سے لے کر امریکی نظاموں جیسے MQ-1 Predator اور MQ-9 Reaper تک سب کو شامل کرتی ہے جن پر امریکہ گزشتہ 20 برسوں سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف انحصار کرتا رہا ہے۔

ڈرونز نے تیزی سے ارتقائی مراحل طے کیے ہیں؛ چنانچہ خودکش ڈرون، درمیانی بلندی اور طویل پرواز کے حامل ڈرون، بلند مقامات تک رسائی حاصل کرنے والے اور طویل قیام کرنے والے ڈرون اور مشترکہ جنگی ڈرون—یہ سب ایک ہی زمرے میں آتے ہیں، مگر لاگت، رینج اور استعمال کے لحاظ سے ان میں کم اشتراکیت پائی جاتی ہے۔ یہ تنوع کہیں بھی اتنا اہم نہیں جتنا خودکش (یک طرفہ) ڈرونز میں ہے؛ ایسے نظام جو واپسی کے لیے نہیں بلکہ براہِ راست ٹارگٹ کی طرف پرواز کر کے اسے تباہ کرتے ہیں، بالکل گولی یا میزائل کی مانند، اور یہی انہیں جدید جنگوں میں زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ روس اور یوکرین نے 2022 سے اب تک ایک دوسرے کے خلاف ان ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کی ہے۔ ایران نے بھی 2026 میں امریکی اور صیہونی جارحیت کے جواب میں ہزاروں ڈرونز کو خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کی جانب فائر کیا ہے۔

ڈرون

خودکش ڈرونز نے روس-یوکرین جنگ اور موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان میں سے پہلی قسم طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں میل دور اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ ان کی تیاری کی لاگت نہایت کم ہے؛ مثال کے طور پر Shahed 136 تقریباً 2000 کلومیٹر تک راستہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی لاگت 20 سے 50 ہزار امریکی ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے، جبکہ Tomahawk missile کی قیمت تقریباً 2 ملین ڈالر ہے، جو اسے نمایاں طور پر مہنگا بناتی ہے۔

 ایران کی جانب سے 2022 میں اس ٹیکنالوجی کے تعارف کے بعد، روس نے بھی اس سے متاثر ہو کر “گران-2” نامی مقامی ورژن تیار کیا اور اس وقت سے اسے یوکرین کے شہروں اور انفراسٹرکچر پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی فوج نے بھی اس طرز کا ایک ڈرون “لوکاس” کے نام سے تیار کیا جسے 28 فروری 2026 کو “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران استعمال کیا گیا۔

فروری 2026 کے آخری دنوں میں تہران نے ہزاروں خودکش ڈرونز کو امریکی اور صیہونی مفادات کے خلاف فائر کیا ہے۔ یہ ڈرونز بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں عمارتوں سے ٹکرائے اور بعض رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کو بھی نقصان پہنچا۔ امارات ابتدائی دنوں میں تقریباً 70 ڈرون حملوں کا نشانہ بنا جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں امریکی افواج کے جانی نقصان اور اہم ریڈار سسٹمز کی تباہی کی معلومات بھی سامنے آئیں۔

ایف پی وی ڈرونز؛ نئی نسل کی جنگ کا فیصلہ کن عنصر

تجارتی پیداوار، درست رہنمائی اور اے آئی اور خودمختاری میں ترقی نے افواج اور نیم فوجی گروہوں کی ٹارگٹڈ حملوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ اس میں FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز بھی شامل ہیں؛ یہ ایسے خودکش ڈرونز ہیں جن کے کنٹرول انٹرفیس ویڈیو گیمز سے مشابہ ہوتے ہیں اور ایران کے حامی گروہ انہیں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

مختصر فاصلے کے عام خودکش ڈرونز میں FPV سب سے زیادہ استعمال ہونے والی قسم ہے جو بعض اوقات چند سو ڈالر کی لاگت سے آن لائن دستیاب تجارتی پرزہ جات سے تیار کی جاتی ہے۔ یوکرین میں ماہر آپریٹرز ان ڈرونز کو براہِ راست گاڑیوں، مورچوں اور روسی افواج پر نشانہ بناتے ہیں اور ان میں ریموٹ کنٹرول انٹرفیس موجود ہوتا ہے۔

ایف پی وی ڈرونز کوئی جادوئی نظام نہیں؛ ان کا انحصار آپریٹر اور ڈرون کے درمیان مسلسل ڈیٹا لنک پر ہوتا ہے جو انہیں الیکٹرانک جمِنگ کے مقابلے میں کمزور بناتا ہے۔ اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے یوکرین کے بہت سے FPV ڈرونز اب فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے کنٹرول کیے جا رہے ہیں، تاہم یہ کیبل کٹ بھی سکتی ہے اور اس سے ان کی رینج محدود ہو جاتی ہے۔ فائبر آپٹک FPV ڈرونز کی رینج تقریباً 20 کلومیٹر ہوتی ہے اور مؤثر استعمال کے لیے ماہر آپریٹر درکار ہوتے ہیں۔

Michael C. Horowitz کے مطابق، ایران بھی اسی  طرح ان ڈرونز کو امریکی قافلوں، اہلکاروں یا پارک کیے گئے طیاروں کے خلاف استعمال کر سکتا ہے، جہاں ان کے خلاف دفاع مشکل ہوتا ہے۔

اسی طرح Lauren Kahn کے مطابق، جس طرح داعش اور القاعدہ نے ویڈیوز کے ذریعے امریکی عوام کو متاثر کیا، ایران بھی FPV حملوں کی ویڈیوز کو نفسیاتی اثرات کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر مارچ 2026 میں ایک ایران کے حامی گروہ نے FPV ڈرون کے ذریعے بغداد کے قریب “ویکٹوریا” بیس میں ایک بیلک ہاک ہیلی کاپٹر اور ایک ایئر ڈیفنس ریڈار کو نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیو جاری کر دی۔

مختصر فاصلے کے خودکش ڈرونز نے محاذ جنگ کو نئی شکل دی ہے جبکہ طویل فاصلے کے ڈرونز نے اسٹریٹجک فاصلے پر جنگ کے مفہوم کو بدل دیا ہے۔ ایران کے میدان جنگ کے تجربات، ہزاروں ڈرون حملے، متعدد ممالک کے ائیر ڈیفنس سسٹمز کا دباؤ میں آنا اور امریکی افواج کے جانی نقصانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک درمیانی سطح کی فوج بھی “بڑی تعداد مگر نشانے کی درستگی” کی حکمت عملی کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔ جو فوجیں ان صلاحیتوں میں انویسٹ منٹ کرنے سے گریزاں ہوں یا ان کے خلاف ڈیفنس سسٹم تیار کرنے میں ناکام رہیں، وہ شدید خطرات سے دوچار ہوں گی اور اس میں امریکہ جیسی بڑی فوج بھی شامل ہو سکتی ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً