امریکہ اسٹریٹجک تعطل کا شکار ہے اور واشنگٹن کی غلط فہمی کو منہ توڑ جواب ملے گا،جنرل سنائیراد
سپریم لیڈرکے سیاسی اور عقیدتی دفتر کے سیاسی معاون رسول سناییراد نے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر(دفاع پریس) سے گفتگو کرتے ہوئے، خطے کی صورتحال، “تیسری مسلط کردہ جنگ” میں امریکہ کی ناکامی اور ایران کے خلاف جاری میڈیا جنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی ایک اسٹریٹجک تعطل اور ایک قسم کی حیرت اور سرگردانی میں گرفتار ہو چکے ہیں۔
سنائیراد نے مزید کہا ہے کہ ایران پر حملے کے نتائج واشنگٹن کے ابتدائی اندازوں کے بالکل برعکس نکلے؛ کیونکہ اس کارروائی سے نہ صرف امریکہ کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ساکھ اور اقتدار مزید مستحکم ہوا۔ اس کے برعکس امریکیوں نے اس جنگ سے سوائے بدنامی کے کچھ حاصل نہیں کیا۔

سپریم لیڈرکے سیاسی اور عقیدتی دفتر کے سیاسی معاون نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے متزلزل مؤقف اور حقیقت سے دور دعوؤں کے باعث امریکہ کی ساکھ کو نقصان ہوا اور یہ صورتحال خود امریکہ کے لیے مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ جنگ کے نتائج نے ظاہر کیا کہ امریکی جدید اسلحے اور بھاری جنگی ساز و سامان استعمال کرنے کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اس مسئلے نے نہ صرف ان کے جنگی دعوؤں کو بے اعتبار کیا بلکہ ان کی دھاک اور رعب کو بھی ختم کر دیا۔
انہوں نے بعد ازاں سفارتی میدان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں بھی یہی صورتحال پیش آئی۔ امریکی اب بھی اپنے پرانے تصورات اور غلط مفروضوں کی بنیاد پر عمل کر رہے ہیں، اپنی زیادتیوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور گراؤنڈ ریلیٹی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ یہی مسئلہ ان کے لیے ایک قسم کے تعطل کا باعث بن چکا ہے اور اس کی تلافی کے لیے وہ آج دھمکیوں اور فوجی نقل و حرکت جیسی کارروائیوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
جنرل سنائیراد نے امریکہ کی کسی بھی نئی مہم جوئی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، فریقِ مقابل کی بدعہدی، وعدہ خلافی اور مذاکرات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے سابقہ ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل تیاری رکھتا ہے اور اگر امریکہ نے کوئی غلطی کی تو اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فیصلہ کُن ردعمل اور سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا؛ جیسا کہ ایران کی مسلح افواج پہلے بھی میدانِ عمل میں اپنا منہ توڑ اور غیر متزلزل ردعمل دکھا چکی ہیں۔
سپریم لیڈرکے سیاسی اور عقیدتی دفتر کے سیاسی معاون نے داخلی محاذ پر دشمن کے منصوبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دو ماہ سے زائد عرصے تک عوام کی بھرپور اور دلیرانہ موجودگی نے دشمن کے اس منصوبے کو بھی ناکام بنا دیا، جو بیرونی حمایت یافتہ انقلاب مخالف اور وطن فروش عناصر کے استعمال پر مبنی تھا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ امریکیوں کے پاس اس تعطل سے نکلنے کے لیے حقائق کو تسلیم کرنے اور اپنی نئی پوزیشن قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں لیکن افسوس کہ طاغوتی سوچ اور ماضی کی طرف واپسی کے باعث یہ عمل ان کے لیے پیچیدہ اور دشوار ہو چکا ہے۔
