ایران کے منہ توڑ جواب نے آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کے آزادی پروجیکٹ کو ناکام بنا دیا، جنرل میراحمدی

مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے سابق معاون برائے انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی نے آبنائے ہرمز میں امریکہ کی حالیہ کشیدگی پیدا کرنے والی کارروائیوں اور جارح امریکی ڈسٹرائرز پر فائرنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس آپریشن نے ثابت کر دیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں ہے۔
خبر کا کوڈ: 5861
تاریخ اشاعت: 09 May 2026 - 22:08 - 31July 2647

سیدمجید میراحمدی، مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے سابق معاون برائے انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی نے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر( دفاع پریس) سے گفتگو کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں امریکہ کی حالیہ اشتعال انگیزی اور نام نہاد “آزادی پروجیکٹ” کے مختلف پہلوؤں کی تشریح کی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، جن میں کہا گیا تھا کہ اگر ایران، آئل ٹینکروں کی آمد و رفت کے  حوالے سے  امریکی اقدام کی مزاحمت کرے گا تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ان بیانات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا: یہ بحری محاصرہ دراصل امریکیوں نے شروع کیا ہے اور یہ کارروائی جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی اور ایک  واضح جنگی کارروائی ہے۔ خاتم‌الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے بھی اس موضوع کو واضح طور پر بیان کیا اور خبردار کیا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کا مقابلہ کیا جائے گا اور اس کا  جواب دیا جائے گا؛ لہٰذا ٹرمپ کا جنگ بندی کی خلاف ورزی کا دعویٰ بے معنی اور غیر متعلقہ بات ہے۔

برگیڈیر جنرل سید مجید میراحمدی

جنرل میراحمدی نے کہا کہ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے غلط اندازے کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس نے ایک فریب دینے والا ماحول پیدا کر کے اپنی کارروائی کی شدت کو کم کرنے اور اسلامی جمہوریہ کو ردعمل دینے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں تک کہ ایک مبالغہ آمیز دعوے میں دھمکی دی کہ اگر ایران نے کوئی کارروائی کی تو اسے مٹا دیا جائے گا؛ لیکن اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کی مسلح افواج کا جواب انتہائی عظیم، شاندار، منہ توڑ اور دلیرانہ تھا اور ابتدائی کارروائی ہی میں دشمن کو بے بس کر دیا گیا۔

مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے سابق معاون برائے انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی نے اس آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا: متعدد آئل ٹینکرز اور کنٹینر بردار جہاز، جنہوں نے ٹرمپ کے کھوکھلے وعدوں پر اعتماد کیا تھا، نشانہ بنائے گئے اور وارننگ فائر کے ذریعے انہیں سمجھا دیا گیا کہ وہ امریکی صدر کے بیانات پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ اس طرح سب پر واضح ہو گیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے کہا: امریکی ڈسٹرائر، جو خفیہ اور چوری چھپے آبنائے ہرمز کی طرف بڑھ رہا تھا، اسے بھی وارننگ فائر کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ فیصلہ کُن فوجی اقدام اسلامی جمہوریہ ایران کے عظیم، دلیرانہ اور انتہائی مؤثر ردعمل کی علامت تھا۔

مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے سابق معاون برائے انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی نے امریکی وزیر خزانہ کے اس دعوے کے ردعمل میں کہ ایران کو آبنائے ہرمز کے ذریعے سے اخذ کی جانے والی مصنوعات سے کوئی قابلِ ذکر فائدہ حاصل نہیں ہوا، ان باتوں کو مبالغہ آرائی اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا: آج امریکہ اپنی دوسری شیطانی صفات کے علاوہ جھوٹ بولنے کی صفت کے لیے بھی مشہور ہو چکا ہے اور یہ خصوصیت اس ملک کے صدر میں بہت نمایاں ہے۔ اگر دنیا کے لوگ اور سیاستدانوں سے پوچھا جائے کہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا سیاسی عہدیدار کون ہے، تو جواب ٹرمپ اور اس کے معاونین ہوں گے۔

سردار میراحمدی نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ابھی اس علاقے میں آمد و رفت اس حد تک بحال نہیں ہوئی کہ کوئی نمایاں آمدنی یا مصنوعات حاصل ہوں؛ لیکن جب آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر واپس آئے گی تو تمام عالمی ماہرینِ اقتصادیات کی رائے یہی ہے کہ آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی ایران کی آمدنی، تیل کی فروخت سے کئی گنا زیادہ ہو گی۔ یہ اسلامی جمہوریہ کے لیے مختلف پہلوؤں، خصوصاً معاشی میدان میں ایک اسٹریٹجک کامیابی شمار ہوتی ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً