عوامی شعور اور معرکۂ جنگ کی صدا؛ 28 فروری کے بعد ایرانیوں کی حب الوطنی۔

عالمی ذرائع ابلاغ خصوصاً CNN، ایران میں ہونے والی تبدیلیوں کو زیادہ تر صرف حکومت کے اندرونی دھڑوں کی کشمکش کے زاویے سے دیکھتے ہیں اور ہر عوامی تحریک کو کسی نہ کسی سیاسی گروہ سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں؛ کیونکہ اس طرح کی تعبیر عوامی موجودگی کو محض ایک سیاسی دھڑے کے تحرک تک محدود کر دیتی ہے اور گلیوں اور سڑکوں پر ابھرنے والی زیادہ پیچیدہ اور خودمختار حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے۔
خبر کا کوڈ: 5877
تاریخ اشاعت: 14 May 2026 - 23:34 - 05August 2647

تحریر: امیرعلی شعبانی (سیاسی گروپ دفاع پریس)

ایران کے خلاف جنگ 28 فروری 2026 کی صبح امریکہ اور صیہونی حکومت کے مشترکہ حملوں سے شروع ہوئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت‌الله «سیدعلی خامنه‌ای» شہید ہوئے اور اس واقعے نے ایرانی عوام کے معاشرتی ردعمل کے انداز میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کر دی جو ۱۲ روزہ جنگ کے دوران دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

01 مارچ 2026 کی سحر کے وقت، رہبرِ انقلاب کی شہادت کی سرکاری تصدیق کے بعد معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ از خود سڑکوں پر نکل آئے اور شہید رہبرِ انقلاب کے سوگ میں اجتماعات منعقد کرنے لگے۔ یہی عوامی موجودگی بعد کی شبوں میں رات کے اجتماعات کی بنیاد بنی جو اب تک ستر سے زائد راتوں سے مسلسل جاری ہیں اور چھٹیوں، سرد موسم اور بمباری جیسے حالات کے باوجود بھی کبھی نہیں رکے۔

آج ایران کی سڑکوں پر جو کچھ تشکیل پا رہی ہے، اسے محض روایتی سیاسی اصطلاحات سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسی دوران عالمی میڈیا نے اس اہم واقعے کو نظر انداز کرنے اور دبانے کی کوشش کی اور ان اجتماعات کی کوریج سے گریز کیا، اس امید پر کہ وقت کے ساتھ یہ قومی جوش سرد پڑ جائے گا اور عوامی موجودگی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔

عوام

تاہم جب عوامی اجتماعات کا سلسلہ مسلسل جاری رہا تو عالمی میڈیا، جو اب خود کو اس واقعے کی کوریج پر مجبور محسوس کر رہا تھا، نے “دیوار کھڑی کرنے” اور “محدود کرنے” کی حکمت عملی اپنائی۔ CNN جیسے ذرائع ابلاغ نے رات کے ان اجتماعات کے بارے میں ایک مبہم اور تحریف شدہ بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کی تا کہ ان قومی اجتماعات کو کسی مخصوص سیاسی دھڑے تک محدود کیا جا سکے اور اس کے ذریعے ایرانی عوام میں اختلاف پیدا کیا جا سکے۔

بین الاقوامی میڈیا کا بیانیہ غالباً اس مظہر کو محض سیاسی دھڑوں کی رقابت، مخصوص گروہوں کی سرگرمی یا جنگی حالات کے جذباتی ردعمل تک محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ ان اجتماعات کی حقیقی ماہیت کو سمجھنے میں تحلیلی غلطی کا شکار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران آج ایک نئی سماجی اور شناختی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہا ہے جس کی جڑیں روزمرہ سیاسی کشمکش سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ یہ نئی تشکیل مشترکہ خطرے، بیرونی دباؤ، جنگ اور عدم تحفظ کے تجربے سے جنم لے رہی ہے اور اب خود کو ایسے عوامی اجتماعات کی شکل میں ظاہر کر رہی ہے جن کی سب سے اہم خصوصیت نفرت، غصہ یا سماجی تقسیم نہیں بلکہ قومی ہم آہنگی کی خواہش ہے۔

گزشتہ چار دہائیوں میں ایران متعدد احتجاجی تحریکوں، بحرانوں اور عوامی اجتماعات کا میدان رہا ہے۔ ان میں سے ہر واقعہ ایرانی معاشرے کی ایک حقیقت کی نمائندگی کرتا تھا اور حقیقی سماجی تقسیم کو ظاہر کرتا تھا۔ ان تمام تحریکوں کی مشترکہ خصوصیت یہ تھی کہ معاشرہ دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتا تھا؛ ایسی فضا میں مختلف سماجی گروہ مشترکہ زبان تلاش کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے دوری اور اختلاف کو مزید گہرا کرتے تھے۔

اس ماحول میں حتیٰ کہ جائز سماجی مطالبات بھی بالآخر معاشرتی طور پر دو گروہوں کی رقابت کی نذر ہو جاتے تھے؛ ایسی تفریق جو وقت کے ساتھ سماجی سرمائے کے زوال، عوامی اعتماد کی کمزوری اور قومی اضطراب میں اضافے کا باعث بنتی رہی۔

لیکن آج ایران میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ کئی حوالوں سے مختلف خصوصیات کا حامل ہے۔ برسوں بعد پہلی مرتبہ سڑکیں ایک دوسرے کی نفی کا میدان بننے کی بجائے ایک نئی معاشرتی ہم آہنگی کی از سرِ نو تعریف کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔ یہ اجتماعات ماضی کے برعکس ایک دوسرے کی نفی کے لیے نہیں بلکہ ایرانی “ہم” کی نئی تعمیر پر استوار ہو رہے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں عصر حاضر کی ایرانی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ بناتی ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی بنیادی غلطی بھی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ CNN جیسے میڈیا ادارے، اپنے پہلے سے قائم شدہ تجزیاتی سانچوں کی وجہ سے ایران کی تبدیلیوں کو زیادہ تر حکومت کے اندرونی دھڑوں کی کشمکش کے زاویے سے سمجھتے ہیں۔ اس فریم ورک میں ہر عوامی تحریک لازماً یا تو اصلاح پسند اور اصول پسند دھڑوں کی لڑائی کا تسلسل سمجھی جاتی ہے یا کسی مخصوص نظریاتی بلاک سے منسوب کی جاتی ہے۔

اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ حالیہ اجتماعات کو مخصوص سیاسی گروہوں کے نام سے جوڑا جائے، گویا سڑکوں پر موجود یہ تحریک صرف ایک خاص سیاسی دھڑے کی منظم عوامی mobilization ہو۔

حالانکہ موجودہ سماجی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہے۔ ان اجتماعات کے افراد کی ترکیب، مختلف طبقات کی موجودگی، سیاسی رجحانات کا تنوع، مختلف نسلوں کی شرکت اور حتیٰ کہ شرکاء کے طرزِ زندگی کے نمایاں فرق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ محض ایک دھڑے کی تحریک نہیں۔

در حقیقت جو چیز ابھر رہی ہے، وہ بحران کے بطن سے جنم لینے والی “از سرِ نو تشکیل شدہ حب الوطنی” ہے؛ ایسی حب الوطنی جو برسوں کی تقسیم کے بعد “ایران” کو دوبارہ مختلف گروہوں کے درمیان وحدت کے مرکز کے طور پر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

اس ضمن میں مذہب کا مسئلہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بہت سے لوگ جو خود کو مذہبی ہونے سے زیادہ “ایرانی” سمجھتے ہیں، اب بھی شیعہ علامات اور زبان سے تعلق محسوس کرتے ہیں؛ کیونکہ ایران میں یہ علامات صرف مذہبی معنی نہیں رکھتیں بلکہ تاریخی حافظے، مہاکاوی روایت، مزاحمت، اجتماعی سوگ، انصاف پسندی اور تاریخی تسلسل کی علامت بھی ہیں۔

سیاسی سماجیات کے زاویے سے دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال کو “بیرونی خطرے کے دوران قومی شناخت کی از سرِ نو تعمیر” قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے بہت سے معاشروں میں جنگ یا بیرونی خطرہ سماجی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنتا ہے لیکن ایران میں یہی خطرہ قومی وحدت کی نئی تعریف کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔

یہ فرق ایرانی معاشرے کی منفرد خصوصیات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اسی تسلسل نے عالمی سنسرشپ کی دیوار کو توڑتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا کو بھی اس واقعے کی بازگشت سنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اگر یہ اجتماعات واقعی ایران کی تاریخ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز بننا چاہتے ہیں تو انہیں ہر قسم کی جماعتی اجارہ داری اور سیاسی قبضے سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ تاریخی تجربہ ثابت کرتا ہے کہ ہر ہمہ گیر عوامی تحریک اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہے جب کوئی مخصوص گروہ خود کو اس کا واحد مالک قرار دینے لگتا ہے۔

ایسا عمل فوری طور پر دوسرے سماجی طبقات میں بیگانگی اور محرومی کا احساس پیدا کرتا ہے اور تحریک کے سماجی سرمائے کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ لہٰذا پہلی ضرورت “کثیر الصوتی وحدت” کو برقرار رکھنا ہے؛ یعنی یہ تحریک بیک وقت مذہبی اقر غیر مذہبی، روایتی اور جدید، محتاط اور ناقد، شہری اور دیہی اور مختلف عمر کے طبقات کو ایک مشترکہ قومی شناخت کے تحت جمع رکھ سکے۔

دوسری ضرورت ایک خودمختار اور قومی میڈیا بیانیے کی تشکیل ہے۔ جب تک ان اجتماعات کی تصویر صرف غیر ملکی یا جماعتی میڈیا کے ذریعے پیش کی جاتی رہے گی، اس کی اصل حقیقت دانستہ یا نادانستہ طور پر مسخ ہوتی رہے گی۔ جو معاشرہ نئے مرحلے میں داخل ہونا چاہتا ہے، اسے اپنے بارے میں اپنا بیانیہ خود تخلیق کرنا ہوگا۔

یہ بیانیہ انسانی تنوع، مختلف طبقات کی شرکت، جنگ اور بحران کے مشترکہ تجربے، اور قومی وحدت کو برقرار رکھنے کی معاشرتی خواہش پر مبنی ہونا چاہیے۔

تیسری اہم ضرورت عوام کو دور کرنے والے انتہاپسند رویوں سے اجتناب ہے۔ ہر قومی تحریک اگر پائیدار رہنا چاہتی ہے تو اسے دوسروں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھنی ہوگی۔ مخالفین کے بارے باتیں کرنا، نظام سے اختلاف رکھنے والوں کو باہر نکالنا اور معاشرے کو “اپنا” اور “غیر” میں تقسیم کرنا وہی چیز ہے جو اس تاریخی موقع کو تباہ کر سکتی ہے اور بین الاقوامی میڈیا کے منفی بیانیے کو سچ ثابت کر سکتی ہے۔

قومی وحدت صرف اسی وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب مختلف لوگ یہ محسوس کریں کہ مختلف ہوتے ہوئے بھی وہ اجتماعی “ہم” کا حصہ ہیں۔

چوتھی اہم بات نئی نسل کے لیے وطن کے تصور کی از سرِ نو تعریف ہے۔ مستقبل کا ایران صرف پرانے نعروں کے دہرانے سے تعمیر نہیں ہو سکتا۔ نوجوان نسل کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس قومی منصوبے میں وہ صرف سڑکوں پر موجود ایک طاقت نہیں بلکہ مستقبل کے حقیقی معمار ہیں۔

اس مقصد کے لیے ثقافتی کشادگی، نئی آوازوں کو سننا، سماجی تبدیلیوں کو قبول کرنا اور حقیقی عوامی شمولیت کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

آخر میں، اگر یہ عمل ایرانی سیاسی تاریخ کے روایتی جال — یعنی تفرقہ، اخراج، اجارہ داری اور تقلیل پسندی — سے نجات پا گیا، تو یہ ایران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے؛ ایسا مرحلہ جس میں برسوں کی سماجی تھکاوٹ کے بعد ایک نئی مشترکہ قومی آگاہی جنم لے۔

ایسی آگاہی جو اختلافات کی نفی پر نہیں بلکہ اختلافات کو ایک بڑے معاشرتی وجود کے اجزاء میں تبدیل کرنے پر قائم ہو۔

شاید موجودہ لمحے کی سب سے اہم خصوصیت بھی یہی ہے۔ اگر یہ احساس برقرار رہ، تو آج سڑکوں پر نظر آنے والا منظر ایران کی سماجی اور سیاسی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً