ایران نے ماڈرن جنگ کے تصور کو بدل دیا۔

ایران نے کم لاگت والے ڈرونز کے وسیع بیڑے، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور مزاحمتی محور کے تعاون پر انحصار کرتے ہوئے امریکہ کو مہنگے اور انتہائی درست حملوں کے ذریعے فوری فتح حاصل کرنے سے روک دیا۔
خبر کا کوڈ: 5898
تاریخ اشاعت: 22 May 2026 - 04:29 - 13August 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، کاغذی اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے تھے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تصادم کا اختتام واشنگٹن کی مکمل فتح پر ہونا چاہیے تھا۔ امریکہ، جو تقریباً ایک ٹریلین ڈالر سالانہ دفاعی بجٹ رکھتا ہے — جو دنیا کے کل فوجی اخراجات کا ایک تہائی بنتا ہے — دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور فوج کا مالک ہے جبکہ ایران کا 7.5 ارب ڈالر کا فوجی بجٹ، صیہونی حکومت کے بجٹ سے بھی سات گنا کم ہے۔

ڈرون

جنگ کے آغاز سے پہلے امریکہ نے اپنے طیارہ بردار بحری بیڑے کے دو اسٹرائیک گروپس کے خطے میں تعینات کیے تھے۔ اس کارروائی کا مقصد رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کو نشانہ بنانا، ایران کی دفاعی صلاحیت کو کچلنا اور تہران کو اس بات پر مجبور کرنا تھا کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت سے دستبرداری کے معاہدے کو قبول کرے۔

تاہم، جس جنگ کو ایک برق رفتار اور فیصلہ کُن آپریشن تصور کیا جا رہا تھا، وہ جنگ — جنگ بندی کے عرصے سمیت — دو ماہ سے زائد جاری رہی؛ جبکہ ایران نہ صرف شکست سے محفوظ رہا بلکہ اس نے کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی ایران کے جوابی حملوں کا نشانہ بنے جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کا بحران پیدا ہو گیا۔

امریکہ مہنگے اور انتہائی درست حملوں کے ذریعے فوری کامیابی چاہتا تھا مگر ایران نے تین عوامل — کم لاگت ڈرونز کے وسیع بیڑے، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور مزاحمتی محور — کے ذریعے امریکی مقاصد کو ناکام بنا دیا

ایران کے یہ کم قیمت ہتھیار اسے مسلسل دشمن پر حملے اور نقصان پہنچانے کی صلاحیت دیتے رہے جبکہ امریکہ کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے لاکھوں ڈالر لاگت کے پیٹریاٹ میزائل استعمال کرنا پڑے۔ اس جنگی صورتحال نے واشنگٹن کو ایک مشکل انتخاب کے مرحلے تک پہنچا دیا؛ یا تو نقصان برداشت کرے یا پھر ناقابلِ برداشت اخراجات کے ساتھ دفاع جاری رکھے۔

ایران نے سمندر میں بھی ایک نئی حکمتِ عملی کے ذریعے توازن بدل دیا؛ یعنی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا۔ امریکہ اس کارروائی کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہا اور اب آبنائے میں بحری آمد و رفت مکمل طور پر ایران کی اجازت اور متعین راستوں کے مطابق ہو رہی ہے۔

ڈرون نہ صرف تیزی سے ترقی کر رہے ہیں بلکہ اے آئی کی بدولت ایک انٹیلیجنٹ ہتھیار میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب حملے کی لاگت، دفاع کے مقابلے میں بہت کم ہو گئی ہے۔ نئی نسل کے ڈرون ہر تین ماہ بعد نئے سسٹم کے ساتھ پھر سے بنائے جا سکتے ہیں جبکہ ان کے سافٹ ویئر کو ہفتہ وار اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

میدانِ جنگ میں زمینی ڈرونز کی آمد نے ٹینکوں کے کردار کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور زمینی حملوں کے خلاف دفاعی تصورات کو بدلنے کی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ ایران کے علاقائی جنگی منظرنامے میں ابھی ان کا استعمال نہیں ہوا، تاہم ان کی عملی صلاحیت پر کوئی شبہ نہیں۔

اب حتیٰ کہ درمیانے اور چھوٹے ممالک بھی مہنگے میزائل پروگرامز یا فوجی اتحادیوں میں شامل ہوئے بغیر، صرف ڈرون بیڑوں پر انحصار کرتے ہوئے خود کو بڑی طاقتوں کے مقابل محفوظ بنا سکتے ہیں۔

تاہم، اس ٹیکنالوجی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے؛ جو کہ تنازعات کے آغاز ہونے میں محدود وقت کا درکار ہونا ہے۔ حکومتیں ممکن ہے کہ سفارت کاری کی بجائے اپنے اختلافات حل کرنے کے لیے “ڈرون سوارمنگ” کا سہارا لیں جس سے علاقائی اور عالمی عدم تحفظ میں اضافہ ہوگا۔

یوری کنوتوف کے مطابق "ایران نے دکھا دیا کہ ‘طویل اور تھکا دینے والی جنگ’ کے ذریعے خالص تکنیکی برتری کو غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ مستقبل کے میدانِ جنگ، آٹومیٹک اور انٹیلیجنٹ سسٹمز کے قبضے میں ہوں گے جو روایتی محاذوں اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کو بے معنی بنا دیں گے"۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً