ایران نے اس نابرابر جنگ میں دشمن کو شکست دی/ تاریخ کبھی بھی چالیس روزہ جنگ سے پہلے کے زمانے میں واپس نہیں جائے گی، جنرل رمضان شریف

دفاع مقدس اور آئی آر جی سی کی مجاہدات کے دستاویزات، تحقیقات اور ان کے انتشار کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی حالیہ ۴۰ روزہ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ثابت قدمی، اتحاد اور مسلح افواج کی حمایت کے ذریعے سے ایک بار پھر اپنی طاقت اور اقتدار کا مظاہرہ کیا اور آج دنیا اس حقیقت کا اعتراف کر رہی ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت ناکام ہو چکے ہیں۔
خبر کا کوڈ: 5899
تاریخ اشاعت: 22 May 2026 - 14:37 - 13August 2647

دفاع پریس کے شعبۂ جنگ و جہاد کے مطابق، جنرل رمضان شریف نے منگل کی شب 19 مئی 2026کو آپریشن «بیت‌المقدس» میں خرمشہر شہر کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر تہران کے تجریش سکوائر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی۔صیہونی جارحیت کا ذکر کیا اور کہا کہ ایرانی قوم، انقلاب اسلامی کے سینتالیسویں سال میں بھی ثابت قدمی کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم دنیا کی سب سے بڑی عسکری اور اقتصادی طاقتوں کے خلاف ایک نابرابر جنگ میں سرخرو اور کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔

جنرل رمضان شریف

جنرل شریف نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں سے امریکی مسلسل “فوجی آپشنز میز پر ہونے” کی دھمکیاں دیتے رہے تا کہ ایرانی قوم، انقلاب اسلامی کے حامی اقوام اور مزاحمتی محاذ کو مرعوب کیا جا سکے؛ لیکن صدام، تنظیم مجاہدینِ خلق، علیحدگی پسند گروہوں، داعش اور دیگر مخالف عناصر کی حمایت کے باوجود وہ اپنے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ہمیشہ دعویٰ کرتے رہے کہ اگر وہ براہِ راست میدانِ جنگ میں اترے تو ایران کو شکست دے دیں گے؛ مگر آج عوام کی ۸۰ روزہ مزاحمت اور ۴۰ روزہ براہِ راست جنگ کے بعد دنیا کا فیصلہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر سکا۔

جنرل رمضان شریف نے کہا کہ ایران کو ہڑپ کرنا، توانائی کے ذخائر پر قبضہ جمانا، ملک کو تقسیم کرنا اور انقلاب اسلامی کو ختم کرنا امریکی اہداف میں شامل تھا لیکن یہ تمام منصوبے ناکام ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے “متکبر اور نادان” صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ جو کچھ وینزویلا میں کیا گیا وہی ایران میں بھی دہرایا جائے گا مگر دنیا نے دیکھا کہ یہ نوالہ ان کے گلے میں پھنس گیا اور “جواری ٹرمپ” اپنے اس نئے جوئے میں بھی ہار گیا۔

جنرل شریف نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج گزشتہ برسوں کے دوران مختلف فوجی مشقوں میں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف جنگی حکمتِ عملیوں کی مشق کرتی رہی ہیں اور حالیہ جنگ سے کہیں زیادہ سخت حالات کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں اور ہیں۔

انہوں نے مسلح افواج کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء سلامی، باقری، رشید، حاجی‌زادہ، پاکپور، تنگسیری اور دیگر کمانڈرز وہ شخصیات تھیں جنہوں نے دفاع مقدس کے بعد ملک کی دفاعی طاقت کو مضبوط بنایا اور دفاعِ وطن کے لیے ایرانی قوم کے ہاتھ طاقتور کیے۔

انہوں نے آٹھ سالہ دفاع مقدس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جواری ٹرمپ” کو ایران کی اس تاریخی مزاحمت کا مطالعہ کرنا چاہیے، جب فرانسیسی میراج طیارے خارک، لاوان اور سیری کے جزائر پر بمباری کرتے تھے تا کہ ایرانی تیل کی برآمدات روکی جا سکیں، جرمن حکومت بعثی عراق کو کیمیائی مواد فراہم کرتی تھی اور خطے کے بعض ممالک صدام کے جنگی اخراجات برداشت کرتے تھے مگر اس کے باوجود وہ شکست کھا گئے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حالیہ جنگ میں ایرانی قوم اور قیادت نے کئی مراحل پر دشمن کے ساتھ رعایت برتی۔

جنرل شریف نے کہا کہ امریکی اور ان کے اتحادی یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایران ان کے علاقائی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے؛ مگر آج دشمن کے فوجی ڈھانچے کی تباہی کے بعد دنیا کے عسکری ماہرین اس جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست خوردہ قرار دے رہے ہیں۔

انوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ میں شکست خوردہ فریق کبھی جنگ کے خاتمے کی شرائط طے نہیں کرتا؛ بلکہ آج ایران وہ طاقت ہے جو نام نہاد سپر پاورز کے سامنے جنگ کے خاتمے کی شرائط رکھ رہا ہے۔ جیسا کہ رہبر معظم نے فرمایا کہ امریکہ کو ایرانی قوم کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا، اپنے فوجی اڈے ایران کے اطراف سے ہٹانے ہوں گے اور دشمنانہ اقدامات بند کرنا ہوں گے۔

جنرل شریف نے مسلسل عوامی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام گزشتہ ۸۰ شب و روز سے مرد و زن کی تمیز کے بغیر انقلاب اسلامی اور وطن کے دفاع میں ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ قومی سرمایہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے بے حد قیمتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی حقیقی عسکری طاقت محدود ہے اور وہ صرف دہشت گردی، غیر فوجی مراکز جیسے میناب سکول، ہسپتالوں اور اسٹیڈیمز پر حملے اور رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کی شہادت جیسے جرائم ہی انجام دے سکے۔

جنرل شریف نے کہا کہ ایران ان معدودے چند ممالک میں شامل ہے جنہیں طویل زمینی جنگ کا عملی تجربہ حاصل ہے اور ایرانی مجاہد دنیا کی سب سے تجربہ کار افواج میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں زمینی موجودگی اختیار کرنا ہوگی اور اس موقع پر انہوں نے شہید تنگسیری کے ابتدائی جنگی ایام کے الفاظ یاد دلائے: “آؤ! ہمارے جوان تمہارا انتظار کر رہے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جانتے ہیں کہ اگر وہ زمینی جنگ میں اترے تو انہیں ایسی قوم کا سامنا ہوگا جو اپنے وطن اور نظریات کے دفاع کے لیے جان قربان کرنے کو تیار ہے اور ایسی قوم کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے دو لاکھ سے زائد شہداء پیش کیے ہیں، جن میں سے اگر کسی ایک جیسا ہیرو بھی کسی اور قوم کے پاس ہوتا تو وہ کئی دہائیوں تک اس پر فخر کرتی۔ مگر ایران نے ایک ہی سال میں شہید سلامی، شہید پاکپور، شہید موسوی، شہید نصیرزادہ اور دیگر اعلیٰ عسکری شخصیات کو وطن اور انقلاب کے دفاع میں قربان کیا اور ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے اہل بیتؑ اور عاشورا کی ثقافت سے الہام لیتے ہوئے دشمنوں کے سامنے ثابت قدمی دکھائی ہے۔ انہوں نے شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی اور دیگر شہداء انقلاب کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان قربانیوں نے قومی اتحاد اور اقتدار کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اگر کوئی قوم جنگ میں شکست کھا جائے تو آنے والی نسلیں بھی ذلت کا شکار ہو جاتی ہیں مگر ایرانی قوم نے اپنی مزاحمت کے ذریعے عزت اور سربلندی حاصل کی ہے۔

جنرل شریف نے کہا کہ آج دنیا کی بہت سی اقوام ایران کی طاقت، اتحاد اور قومی یکجہتی کا ذکر کر رہی ہیں اور عوام کی بھرپور شرکت کو اسلامی جمہوریہ کی طاقت کی علامت سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن برسوں سے انسانی حقوق اور آزادی جیسے نعروں کے ذریعے افکارِ عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر حالیہ جنگ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معرکے میں کامیابی انہی کو حاصل ہوتی ہے جو استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر میں ایرانی پرچموں کی وسیع نمائش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں شاید ہی کبھی ان ۸۰ راتوں جتنی شدت سے ایران کا قومی پرچم عوامی سطح پر لہرایا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد، شہید رہبر کے خون کی برکت، نئے حکیم رہبرِ انقلاب کی قیادت اور میدانِ جنگ میں مجاہدین کی شجاعت کے باعث ایران کا مستقبل روشن ہے اور تاریخ کبھی بھی چالیس روزہ جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں جائے گی۔

جنرل شریف نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں معنویت اور ولایت کی پیروی کو اسلامی جمہوریہ کی کامیابیوں کا راز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی غرور میں مبتلا نہیں ہوگا۔ جیسے امام خمینیؒ نے خرمشہر کی آزادی کے بعد فرمایا تھا: “خرمشہر کو خدا نے آزاد کیا”، ویسے ہی آج بھی ایرانی قوم اپنی کامیابیوں کو اللہ کی نصرت کا نتیجہ سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے ظاہری عسکری برتری کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر ایرانی قوم کی مدد فرمائی اور دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔

جنرل شریف نے قومی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں قومیت اور مذہب کے درمیان کوئی تفریق نہیں اور آئی آر جی سی نے اس سرزمین کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایرانی نوجوان بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ امریکی کیوں آئی آر جی سی کو جھوٹ کی بنیاد پر “دہشت گرد تنظیم” قرار دینے پر مصر تھے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ۴۰۰ سے زائد آئی آر جی سی کے نوجوان شہید ہوئے جنہوں نے ایران کی سلامتی، عزت اور عوام کے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگی تجربے نے ایرانی مسلح افواج کو دشمن کی حکمت عملیوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور آئندہ خطرات کے مقابلے کے لیے مزید تیار ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً