امریکی دہشت گرد فوج کے لیے ڈراؤنا خواب بننے والے ایرانی فضائیہ کے نوجوان پائلٹ کیسے ابھرے؟

اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے نوجوان پائلٹس نے ایمان، کٹھن عسکری تربیت اور “ہم کر سکتے ہیں” کے نظریے پر اعتماد کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ فتح اُسی کی ہوتی ہے جو اپنے دستیاب وسائل کو سب سے زیادہ مہارت اور مؤثر انداز میں استعمال کرے۔
خبر کا کوڈ: 5915
تاریخ اشاعت: 26 May 2026 - 23:42 - 17August 2647

تحریر: مہدی شہرودی (دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ)

اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ، ایران کی مسلح افواج کی طاقت کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتی ہے جو ملک کی جغرافیائی سالمیت اور ائیر ڈیفنس میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ فورس سینکڑوں جنگی طیاروں کے حامل بیڑے کے ساتھ ایرانی عسکری ڈاکٹرائن کے مطابق مختلف محاذوں پر بھرپور طاقت کے ساتھ موجود رہی ہے۔

F5

اگرچہ مغربی ذرائع ابلاغ کئی برسوں سے ایرانی فضائیہ کو “پرانا” اور “ریٹائرڈ بیڑے” کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں تاہم ایرانی فضائیہ کے **F-5** جنگی طیاروں کی جانب سے کویت میں واقع امریکی اڈے **”کیمپ بوہرنگ”** پر بمباری نے جدید عسکری علوم کے کئی مروجہ تصورات کو تہہ و بالا کر دیا۔ اس تاریخی کارروائی نے اکیسویں صدی میں “فضائی برتری” کے مفہوم پر بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی حکام اس سے قبل ایرانی فضائی حملوں کے نقصانات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کرتے رہے مگر امریکی میڈیا ادارے **NBC News** کی حالیہ رپورٹس نے امریکی فوج کی کمزور اور نازک صورتِ حال کی ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق نہ صرف خلیج فارس میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات سرکاری اعترافات سے کہیں زیادہ تھے بلکہ ان حملوں میں سے ایک کی نوعیت نے عسکری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

مغربی عسکری تجزیوں کے برعکس، ایران کی فضائیہ نے چار دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود نہ صرف اپنی فضائی طاقت کو برقرار رکھا بلکہ مقامی انجینئرنگ، ریورس انجینئرنگ اور اندرونی دفاعی صنعت کے ذریعے اپنے سسٹمز میں نمایاں ترقی بھی حاصل کی ہے۔ عسکری تجزیوں کے مطابق ایران نے “تسلیحاتی عمر میں اضافہ” کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے **F-5** جیسے پرانے جنگی طیاروں کو جدید اسمارٹ بموں اور میزائلوں کے مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا ہے۔

F5

شائع شدہ معلومات کے مطابق ایران نے ریورس انجینئرنگ اور خفیہ سپلائی چین کے ذریعے اپنے جنگی طیاروں کی بڑی تعداد کو ایکٹیو رکھا جبکہ مغربی ماہرین کا اندازہ تھا کہ انقلابِ اسلامی کے دو سال بعد ہی ایران کی فضائیہ عملی طور پر صلاحیت کھو دے گی۔ سخت پابندیوں کے باوجود انجنز، اسلحے اور پرزہ جات کی بیک وقت دیکھ بھال ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی مثال دنیا کی فضائی افواج میں کم ہی ملتی ہے۔

پینٹاگون اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ انسانی مہارت کے بغیر عسکری ہارڈویئر کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہی عنصر کویت میں امریکی اڈے پر ایرانی فضائیہ کے حملے کو ایک معمولی کارروائی سے عسکری حیرت میں تبدیل کرتا ہے۔ دراصل ایرانی فضائیہ کے نوجوان پائلٹس کی مہارت، جرات اور فوری فیصلہ سازی نے دشمن کو مکمل طور پر حیران کر دیا۔

جس امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، وہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے لیے ایک نہایت اہم لاجسٹک مرکز سمجھا جاتا ہے۔ امریکی آزاد صحافی **ایتھن لیونز** نے NBC کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “ایک ریٹائرڈ تصور کیا جانے والا جیٹ دنیا کی جدید ترین اور طاقتور ترین فوج پر بمباری کرنے میں کامیاب ہوا۔”

امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے مطابق ایرانی حملوں میں **کیمپ بوہرنگ** کے گودام، طیارہ آشیانے، کمانڈ سینٹرز، سیٹلائٹ مواصلاتی ڈھانچے، رن ویز اور جدید ریڈار سسٹمز نشانہ بنے جبکہ متعدد طیارے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق نقصانات کی مرمت پر اربوں ڈالر لاگت آئے گی۔

F5

ایرانی پائلٹس نے یہ غیر معمولی کامیابی کیسے حاصل کی؟ “تیسری مسلط کردہ جنگ” کے ابتدائی دنوں میں شہدائے میناب کے سکول پر حملے کے بعد ایرانی فضائیہ کے پائلٹس نے رضاکارانہ طور پر اس مشن کو انجام دینے کا فیصلہ کیا۔

اس کارروائی میں دو **F-5** طیاروں نے حصہ لیا؛ ایک سنگل سیٹ اور دوسرا ڈبل سیٹ۔ ڈبل سیٹ طیارے میں استاد پائلٹ اگلی نشست پر جبکہ زیرِ تربیت معاون پائلٹ پچھلی نشست پر موجود تھا۔ سنگل سیٹ طیارے میں مشن کمانڈر اور ٹیم لیڈر سوار تھا تا کہ پوری کارروائی کی مؤثر نگرانی اور قیادت کر سکے۔

دونوں طیاروں نے جنوب مغربی ایران سے پرواز کی اور امریکی **کیمپ بوہرنگ** کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ پرواز کی بلندی صرف پانچ ہزار فٹ تھی یعنی تقریباً ۱۵۰ میٹر زمین سے اوپر؛ یہ نہایت کم اور خطرناک بلندی سمجھی جاتی ہے۔

ہر بم گرائے جانے کے بعد اس کے شدید دھماکے اور شعلے فضا تک بلند ہوتے تھے۔ پائلٹس کے مطابق بموں کی آگ بعض اوقات طیارے کی سطح سے بھی بلند ہوتی دکھائی دیتی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریڈار سے بچنے کے لیے طیارے انتہائی کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔

ہر طیارہ چار بم لے کر اڑا، مجموعی طور پر آٹھ بم کامیابی سے ہدف پر گرائے گئے جنہوں نے شدید تباہی پھیلائی اور متعدد امریکی طیاروں اور عسکری تنصیبات کو تباہ کر دیا۔

اس کارروائی کا ایک غیر متوقع نتیجہ یہ بھی نکلا کہ امریکی **F-15** جنگی طیاروں کو جو ایرانی جہازوں کا تعاقب کر رہے تھے، کویتی ایئر ڈیفنس نے غلطی سے دشمن سمجھ کر نشانہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں تین امریکی طیارے تباہ اور متعدد پائلٹ زخمی ہوئے۔

F5

مشن مکمل کرنے کے بعد ایرانی طیارے واپسی پر ایندھن کی کمی، شدید تھکن اور ایک طیارے کی ہنگامی فنی صورتِ حال کے باعث آبادان ایئرپورٹ پر اترنا چاہتے تھے، تاہم آخرکار وہ جنوب مغربی ایران کے ایک فوجی اڈے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

طیارے اس قدر کم بلندی پر آبادان کے اوپر سے گزرے کہ شہریوں نے انہیں واضح طور پر دیکھ لیا۔

اس کارروائی کے علاوہ ایرانی **F-5** طیاروں نے شمالی عراق میں امریکہ نواز علیحدگی پسند گروہ “کوملہ” کے ٹھکانوں پر بھی کامیاب حملے کیے جن کے بارے میں خود ٹرمپ اعتراف کر چکا تھا کہ امریکہ انہیں مسلح کر رہا ہے۔

عسکری جریدے **Defense Security** نے اس واقعے کو امریکہ کی جنگی تاریخ کے نایاب ترین واقعات میں شمار کیا کیونکہ ایک پرانا جنگی طیارہ انتہائی مضبوط ائیر ڈیفنس کے حصار کو عبور کر کے امریکی اڈے پر بمباری کرنے میں کامیاب ہوا۔

تجزیوں کے مطابق ایرانی پائلٹس نے “پیٹریاٹ” اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کے ریڈار میں موجود کمزور مقامات کی درست نشاندہی کی اور شناخت سے لے کر حملے تک کا پورا مرحلہ انتہائی مختصر وقت میں مکمل کیا۔

جب امریکی ڈیفنس سسٹم بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی ترجیح طے کرنے میں مصروف تھے، ایرانی پائلٹس نے جدید ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمزوری یعنی “غیر متوقع حالات کے مقابلے میں لچک کی کمی” سے فائدہ اٹھایا۔

کویت میں واقع **کیمپ بوہرنگ**، جو “عریفجان” کیمپ اور “شعیبہ” بندرگاہ کے قریب واقع ہے، امریکی فوج کے لیے نہایت اہم اسٹریٹجک مرکز سمجھا جاتا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایرانی حملے نے نہ صرف انفراسٹرکچر بلکہ امریکی فوج کی علاقائی آپریشنل رفتار کو بھی متاثر کیا۔

F5

پچاس سال پرانے ایرانی **F-5** جنگی طیارے کا دنیا کے طاقتور ترین ائیر ڈیفنس سسٹمز کو عبور کرتے ہوئے امریکی اڈے پر کامیاب حملہ، واشنگٹن کے لیے ایک اسٹریٹجک وارننگ بن چکا ہے۔

امریکی فوجی حکام اب اس تلخ حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں کہ مہنگے ائیر ڈیفنس سسٹمز بھی ایرانی مسلح افواج کی غیر متوقع کارروائیوں کے سامنے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔

ایک پرانے **F-5** جنگی طیارے کی “پیٹریاٹ” جیسے ڈیفنس سسٹم کے حصار کو عبور کرنے کی آواز نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر طویل عرصے تک گونجتی رہے گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کئی دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود کمزور نہیں ہوئی بلکہ ایرانی نوجوانوں کی عسکری تخلیقی صلاحیت اور مقامی انجینئرنگ کا عملی مرکز بن چکی ہے۔ اس فورس کے نوجوان پائلٹس نے ایمان، زبردست ٹریننگ اور “ہم کر سکتے ہیں” کے عقیدے کے ساتھ ثابت کیا کہ کامیابی اُس کی ہوتی ہے جو اپنے وسائل سے سب سے زیادہ مؤثر فائدہ اٹھانا جانتا ہو۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً