اگر ہماری برآمدات روکی گئیں تو ہم بھی خطے سے تیل کی ترسیل روک دیں گے، جنرل شکارچی
دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، مسلح افواج کے سینئر ترجمان جنرل «ابوالفضل شکارچی» نے الجزیرہ نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا:“اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر امریکہ یا صیہونی حکومت نے نئی جارحیت کی تو ایران اپنے ٹارگٹ بینک کی مکمل نشاندہی کر چکا ہے”۔

جنرل شکارچی نے کہا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے مختلف ہوگا اور دشمن کو یقینی طور پر نئی حربی حکمتِ عملیوں اور غیرمتوقع عسکری سرپرائزز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا:“اگر خطہ ایک اور جنگ کے مرحلے میں داخل ہوا تو ایران کے حملے صرف علاقائی حدود تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کی وسعت اس سے آگے تک جائے گا اور یہ کارروائیاں سابقہ دو جنگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید، بھاری، طاقتور اور تباہ کُن ہوں گی”۔
مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے زور دے کر کہا:“اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی اور ایران کی برآمدات کو روکا گیا تو اسلامی جمہوریہ ایران خطے سے تیل کے اخراج کو بھی روک دے گا”۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا:“ایران بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت کے تحفظ اور سلامتی کے مقصد کے تحت اس اہم آبی گذرگاہ کا مضبوطی کے ساتھ انتظام اور کنٹرول جاری رکھے گا”۔
