ایران کی میزائل طاقت اب بھی ایک اسٹریٹجک معمہ کیوں ہے؟

امریکی انٹیلیجنس اداروں کی نئی خفیہ جائزہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی گزشتہ چند ماہ کی سیاسی بیانیہ سازی کے برخلاف، ایران کے میزائل ڈھانچے اور طاقت کا ایک بڑا حصہ اب بھی آپریشنل حالت میں موجود ہے۔
خبر کا کوڈ: 5921
تاریخ اشاعت: 28 May 2026 - 19:26 - 19August 2647

 تحریر:شایان میرزائی (دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)

امریکی انٹیلیجنس اداروں کی تازہ ترین جائزہ رپورٹس نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت، خصوصاً میزائل شعبے کے بارے میں حقیقی فہم، سیاسی اور پروپیگنڈا پر مبنی بیانات سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اور حکومت کے حکام گزشتہ مہینوں کے دوران بارہا ایران کے عسکری انفراسٹرکچر کی “تباہی” کا دعویٰ کرتے رہے تاہم نئی خفیہ رپورٹس ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں؛ ایسی تصویر جس کے مطابق ایران اب بھی اپنی میزائل طاقت، اندر گراؤنڈ تنصیبات اور آپریشنل صلاحیت کا بڑا حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

میزائل فائر

ان جائزوں کے مطابق ایران نے دوبارہ اپنے بیشتر میزائل اڈوں، لانچنگ پلیٹ فارمز اور انڈر گراؤنڈ تنصیبات تک رسائی حاصل کر لی ہے اور ان میں سے بہت سے مراکز اس وقت “جزئی یا مکمل طور پر آپریشنل” قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب رپورٹس اس امر پر زور دیتی ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ۳۳ میں سے ۳۰ میزائل سائٹس تک دوبارہ آپریشنل رسائی حاصل کر چکا ہے؛ یہ وہ خطہ ہے جو جغرافیائی اور ٹیکٹیکل اعتبار سے دنیا کے حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

آبنائے ہرمز محض ایک علاقائی آبی گذرگاہ نہیں؛ دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی بدامنی عالمی توانائی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے اس خطے میں ایران کی میزائل صلاحیت ہمیشہ تہران کی حکمت عملی کا ایک بنیادی جزو رہی ہے۔ اب امریکی انٹیلیجنس رپورٹس یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ واشنگٹن کے ابتدائی اندازوں کے برخلاف، اس علاقے میں ایران کا میزائل انفراسٹرکچر نہ صرف برقرار ہے بلکہ اب بھی بلند سطح کی آپریشنل صلاحیت رکھتا ہے۔

ان جائزوں کے مطابق ایران نے اپنے متحرک میزائل لانچرز کا تقریباً ۷۰ فیصد اور جنگ سے پہلے کے میزائل ذخائر کا بھی لگ بھگ ۷۰ فیصد حصہ محفوظ رکھا ہے۔ یہ مسئلہ غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ایرانی میزائل ڈاکٹرائن کی ایک بنیادی خصوصیت متحرک، منتشر اور انڈر گراؤنڈ سسٹمز پر انحصار ہے۔ ایسی ساخت اس امر کو ممکن بناتی ہے کہ وسیع فضائی حملوں کی صورت میں بھی ایران کی مکمل میزائل طاقت کو تباہ کرنا انتہائی دشوار ہو۔

درحقیقت گزشتہ برسوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی “حالتِ جنگ میں بقا” کے اصول پر استوار کی گئی ہے۔ انڈر گراؤنڈ اڈوں، میزائل سرنگوں، متحرک سسٹمز اور منتشر کمانڈ اسٹرکچر کے وسیع نیٹ ورک نے یہ ممکن بنایا کہ شدید حملے بھی ایران کی دفاعی صلاحیت کو مکمل طور پر مفلوج نہ کر سکیں۔ اب امریکی نئی رپورٹس بھی عملی طور پر اسی حقیقت کی تصدیق کر رہی ہیں۔

یہ رپورٹس واشنگٹن میں انٹیلیجنس جائزوں اور سیاسی بیانیات کے درمیان موجود خلیج کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں دعویٰ کیا تھا کہ “ایران کے میزائل تباہ ہو چکے ہیں” اور تہران کے پاس “کچھ باقی نہیں رہا”۔ امریکی وزیر دفاع “پیٹ ہیگسٹ” نے بھی امریکہ اور صیہونی حکومت کی مشترکہ کارروائیوں کو “تباہ کُن” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی فوج کئی برسوں تک غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

لیکن اب امریکی انٹیلیجنس ادارے ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں؛ ایسی تصویر جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ حکومت نے ایران کو پہنچنے والے نقصانات کو حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ساتھ ہی ایرانی عسکری ڈھانچے کی قوتِ برداشت کو کم تر سمجھا گیا۔ ٹیکٹیکل اعتبار سے اس مسئلے کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید جنگوں میں صرف تکنیکی برتری یا وسیع فضائی حملے لازماً دشمن کی مکمل عسکری شکست کا باعث نہیں بنتے۔

ان رپورٹس کا ایک اہم ترین نکتہ ایران کی آپریشنل صلاحیت کی “تیز رفتار بحالی” ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایران نے مختصر مدت میں اپنے میزائل نیٹ ورک کے بڑے حصے کو دوبارہ ایکٹیویٹ کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا عسکری ڈھانچہ نہ صرف پائیداری کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے بلکہ اس میں فوری مرمت اور بحالی کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

دوسری جانب یہ جائزے امریکہ کے لیے ایک اور اہم چیلنج کو بھی نمایاں کرتے ہیں؛ ایسا چیلنج جو وسائل کی محدودیت اور واشنگٹن کے اسلحہ جات ذخائر کے تیزی سے ختم ہونے سے متعلق ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے جنگ کے دوران بھاری مقدار میں اسٹریٹجک اسلحہ استعمال کیا جن میں ایک ہزار سے زائد “ٹاماہاک کروز میزائل، ۱۳۰۰ سے زیادہ “پیٹریاٹ” انٹرسیپٹر میزائل اور سیکڑوں اسٹیلتھ لانگ رینج میزائل شامل ہیں۔

اس مسئلے کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب امریکی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان ذخائر کی بحالی آسان نہیں۔ حالیہ برسوں میں امریکی دفاعی صنعت محدود پیداواری صلاحیت، ماہر افرادی قوت کی کمی اور پرزہ جات کی فراہمی میں مشکلات جیسے مسائل سے دوچار رہی ہے۔ میزائل انجنز اور پیچیدہ ڈیفنس سسٹمز کی تیاری ایک طویل اور مہنگا نظام ہے اور حتیٰ کہ امریکی معیشت جیسی بڑی معیشت بھی اس کمی کو فوری طور پر پورا نہیں کر سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ حالیہ جنگ نے ثابت کیا کہ بڑی طاقتیں بھی طویل اور زیادہ وسائل خرچ کرنے والی جنگوں کے سامنے کمزور پڑ سکتی ہیں۔ یوکرین جنگ کے تجربے نے بھی اس حقیقت کو پہلے ہی نمایاں کر دیا تھا، جہاں بڑے پیمانے پر اسلحے کے استعمال نے مغربی ممالک کو ذخائر کے بحران سے دوچار کر دیا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی نے بھی امریکہ کے سامنے یہی حقیقت آشکار کر دی ہے۔

ایک اور اہم نکتہ آبنائے ہرمز میں حفاظتی انتظامات کا مسئلہ ہے۔ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے اس خطے میں بحری راستوں اور جنگی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی بڑے تصادم کی عالمی اقتصادی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے اطراف میزائل سائٹس کے بڑے حصے کا محفوظ رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ حفاظتی عنصر اب بھی قائم ہے۔

اسی تناظر میں خطے میں امریکی جنگی بحری جہازوں کی وسیع موجودگی کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف محاصرے کی کارروائیوں میں ۲۰ سے زائد بحری جہاز شریک ہیں؛ تاہم یہی وسیع موجودگی ان کی کمزوری میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اگر دوبارہ کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکہ کو مزید ڈیفنس سسٹم اور انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑیں گے جس سے اس کے اسٹریٹجک ذخائر پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

یہ پیشرفت مغربی ایشیا میں جدید جنگوں کی بدلتی نوعیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ماضی میں عمومی تصور یہ تھا کہ وسیع فضائی حملے خطے کے ممالک کے عسکری انفراسٹرکچر کو تیزی سے تباہ کر سکتے ہیں لیکن ایران کے تجربے نے ثابت کیا کہ غیر متمرکز، اندر گراؤنڈ اور متحرک ڈھانچے ایسی کارروائیوں کے مقابلے میں قابلِ ذکر مزاحمت دکھا سکتے ہیں۔

سیاسی اعتبار سے بھی یہ رپورٹس ٹرمپ حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ امریکی حکام کے علانیہ دعوؤں اور خفیہ انٹیلیجنس جائزوں کے درمیان تضاد نے ایک بار پھر واشنگٹن میں بیانیات کے سیاسی استعمال پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی کامیابی کو مبالغہ آمیز انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جبکہ زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔

علاقائی سطح پر بھی یہ جائزے مغربی ایشیا کے مختلف فریقوں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتے ہیں۔ خلیج فارس کے عرب ممالک، صیہونی حکومت اور حتیٰ کہ بیرونی طاقتیں اب اس حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں کہ ایران کی میزائل صلاحیت اب بھی خطے میں طاقت کے توازن کے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے۔ یہ مسئلہ سیکیورٹی کے محاسبات، سفارتی امور اور حتیٰ کہ عالمی توانائی منڈی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

آخرکار، ان رپورٹس سے جو تصویر ابھرتی ہے وہ محض ایک عسکری جائزہ نہیں بلکہ ایران کی طاقت اور خطے میں امریکی طاقت کی حدود کے بارے میں ٹیکٹیکل ادراک میں تبدیلی کی علامت ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اب بھی وسیع فوجی اور تکنیکی برتری رکھتا ہے لیکن حالیہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ایران کے دفاعی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا نہ آسان ہے اور نہ کم خرچ۔

اسی لیے بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے کا نیا ٹیکٹیکل توازن پہلے سے کہیں زیادہ “قوتِ برداشت” کے تصور پر قائم ہو چکا ہے؛ ایسا تصور جس میں بقا کی صلاحیت، فوری بحالی اور حفاظتی انتظامات کو برقرار رکھنا، آتشیں طاقت جتنی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ نئے امریکی جائزہ رپورٹس بھی عین اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ شدید فوجی دباؤ کے

باوجود ایران اب بھی خطے کی سیکیورٹی کے توازن میں مؤثر حفاظتی انتظامات کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک اہم کھلاڑی ہے۔

مزید برآں، امریکی انٹیلیجنس کے تازہ جائزوں میں ایک اور اہم پہلو جسے نمایاں کیا گیا، وہ ایران کے ساتھ تصادم میں “غیرمتناسب لاگت” کا مسئلہ ہے۔ درحقیقت گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایران کے دفاعی ڈھانچے کو اس انداز میں تشکیل دیا گیا کہ شدید حملوں کی صورت میں بھی وہ اپنی جوابی اور حفاظتی اقدامات کی صلاحیت برقرار رکھ سکے۔ یہ ماڈل روایتی عسکری ڈھانچوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے کیونکہ کلاسیکی فوجی نظام مرکزی کمانڈ مراکز، مستقل اڈوں اور محدود آپریشنل نیٹ ورکس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

ایران نے میزائل انفراسٹرکچر کے تنصیب کو منتشر طور پر تعمیر کرنے، انڈر گراؤنڈ اڈوں کے استعمال اور متحرک لانچرز پر انحصار کے ذریعے اپنی مکمل میزائل طاقت کو تباہ کرنے کی لاگت کو دشمن کے لیے غیرمعمولی حد تک بڑھا دی ہے۔

اسی تناظر میں بعض امریکی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ “دائمی فضائی برتری” کا تصور اب ماضی کی طرح فیصلہ کُن نہیں رہا۔ اگرچہ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کی بعض تنصیبات پر وسیع اور دقیق حملے کرنے میں کامیاب رہے لیکن ایرانی میزائل نیٹ ورک کے بڑے حصے کا محفوظ رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ منتشر اور پوشیدہ دفاعی ماڈل روایتی حملوں کی تاثیر کو کم کر سکتے ہیں۔ خصوصاً ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر اور متحرک سسٹمز کے دور میں اس مسئلے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب نئے انٹیلیجنس رپورٹس واشنگٹن کے لیے ایک اور ٹیکٹکل تشویش کو بھی اجاگر کرتی ہیں؛ یعنی خطے میں امریکی حفاظتی ضمانت کے بتدریج کمزور ہونے کا خدشہ۔ گزشتہ برسوں کے دوران مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی اس مفروضے پر قائم رہی کہ واشنگٹن ضرورت پڑنے پر وسیع اور برق رفتار حملوں کے ذریعے کسی بھی خطرے کو قابو کر سکتا ہے لیکن اب جنگ کے دوران انٹرسیپٹر میزائلز، کروز میزائلز اور جدید اسلحے کے بڑے پیمانے پر استعمال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ امریکہ ایک اور طویل المدت جنگ کا بوجھ کس حد تک برداشت کر سکتا ہے۔

بعض رپورٹس تو یہاں تک ظاہر کرتی ہیں کہ پینٹاگون کی تشویش صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ چین اور روس کے ساتھ بیک وقت جاری اسٹریٹجک رقابت سے بھی متعلق ہے۔ ایسی صورت حال میں جبکہ امریکہ کو مشرقی ایشیا اور یورپ میں ممکنہ مشکلات کے لیے بھی تیار رہنا ہے، اسلحہ جات کے ذخائر میں کمی واشنگٹن کی عالمی حکمت عملی پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے اس وقت امریکی عسکری حلقوں میں اسلحہ خانوں کی بحالی ایک بنیادی موضوع بن چکا ہے۔

علاقائی سطح پر بھی ایران کی میزائل طاقت کا برقرار رہنا سیکیورٹی کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ خلیج فارس کے عرب ممالک گزشتہ برسوں کے دوران امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اب یہ نئی رپورٹس ممکنہ طور پر خطے کے فریقوں کو ایک بار پھر یاد دلائیں گی کہ ایران اب بھی خلیج فارس اور توانائی کی راہداریوں کی سلامتی پر اثرانداز ہونے کی مؤثر صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عسکری رقابت کے ساتھ ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں اضافے کا امکان بھی موجود رہے گا۔

ایک اور اہم مسئلہ ان رپورٹس کے اندرون امریکہ کے سیاسی ماحول پر نفسیاتی اور سیاسی اثرات ہیں۔ گزشتہ برسوں میں امریکی حکومتیں ہمیشہ اپنی فوجی کارروائیوں کو واشنگٹن کی فیصلہ کُن برتری کی علامت کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں لیکن ایسی رپورٹس کا منظرعام پر آنا جو ایران کی میزائل صلاحیت کے باقی رہنے کی نشاندہی کرتی ہیں، سیاسی پروپیگنڈے اور حقیقت کے درمیان فرق پر سنجیدہ بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ خصوصاً امریکی انتخابی سیاست میں اس مسئلے کی اہمیت زیادہ ہے، جہاں خارجہ پالیسی کی کامیابی یا ناکامی ہمیشہ اندرون ملک سیاسی کشمکش کا اہم محور رہی ہے۔

آخر میں، اس تمام پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا طاقت کے توازن کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؛ ایسا مرحلہ جہاں صرف جدید ٹیکنالوجی یا بھاری آتشیں طاقت کامیابی کی ضمانت نہیں رہیں۔ نئی جنگیں پہلے سے کہیں زیادہ قوتِ برداشت، بحالی کی صلاحیت، منتشر انفراسٹرکچر اور حفاظتی انتظامات کو برقرار رکھنے پر استوار ہو چکی ہیں۔ امریکی انٹیلیجنس کی تازہ رپورٹس بھی اسی نکتے کو اجاگر کرتی ہیں کہ ایران اب بھی اپنی اسٹریٹجک صلاحیت کا بڑا حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہےباور یہی امر خطے میں سیکیورٹی کے توازن کو ماضی سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا رہا ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً