ایرانی مسلح افواج کی فیصلہ کُن دھاک اور’’ٹرمپ‘‘ اور ’’نیتنیاہو‘‘ کی بزدلانہ پسپائی
تحریر: محمد زرچینی (دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)
ایران اور امریکی-صیہونی جارحیت کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے آغاز کو 90 دن سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور فریقین ایک نازک جنگ بندی کے سائے میں مستقل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ تاہم اس دوران امریکی دہشت گرد فوج اور صیہونی حکومت نے مختلف طریقوں سے بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے؛ ایک ایسا اقدام جو ’’تہران-واشنگٹن‘‘ کے درمیان عارضی مفاہمت کے ابتدائی دنوں سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے۔
صیہونی حکومت نے فوجی محاذ پر خاموشی کے دور کے آغاز ہی سے لبنان کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کو، جو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کا ایک بنیادی حصہ تھی، سبوتاژ کرنے کی کوشش کی؛ لیکن ہمارے ملک کے سیاسی اور عسکری ذمہ داران کے دوٹوک ردعمل نے دشمن کو جنگ بندی کی مزید خلاف ورزی (مکمل پیمانے پر خلاف ورزی) سے باز رکھا۔
حال ہی میں صیہونی فوج نے ایک غیرقانونی اقدام اور ایران اور امریکہ کے جنگ بندی معاہدے کے خلاف جاتے ہوئے ’’ضاحیہ (جنوبی بیروت)‘‘ پر شدید بمباری کے ذریعے لبنان پر ایک ہمہ گیر زمینی حملہ شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
فوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے صیہونی فوج دو بنیادی اہداف حاصل کرنا چاہتی تھی؛ اول یہ کہ اپنی زمینی فوج کی ایلیٹ یونٹوں کو بروئے کار لا کر جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرے تا کہ اس کے بعد بیروت پر مکمل حملہ کیا جا سکے اور ’’ضاحیہ‘‘ پر حملے کے ذریعے حزب اللہ کو طاقت کے زور پر غیر مسلح کیا جا سکے۔ دوم یہ کہ حزب اللہ کا معاملہ یکطرفہ طور پر نمٹا کر، امریکہ کے ساتھ مشترکہ حملوں میں ایران کے خلاف پوری آزادی کے ساتھ شریک ہو اور اس طرح مغربی ایشیا کے سیاسی اور عسکری جغرافیے کو تبدیل کر سکے۔

ملک کے سیاسی اور عسکری حکام، جو قدس پر قابض حکومت کے سیاسی اور فوجی سربراہوں کے عزائم سے آگاہ تھے، بارہا امریکہ اور اس حکومت کے ذمہ داران کو خبردار کر چکے تھے کہ ان کے اقدامات جنگ بندی کی خلاف ورزی شمار ہوں گے۔ اگر ہم خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل ’’عبداللهی‘‘، دفاع مقدس کے دور میں آئی آر جی سی کے کمانڈر اور جنگ رمضان کے سالار میجر جنرل ’’محسن رضایی‘‘ اور مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے رکن ’’محمدباقر قالیباف‘‘ جیسے عسکری اور سیاسی قائدین کے بیانات پر توجہ دیں تو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے بارہا جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری اور امریکی-صیہونی دشمن کی عہد شکنی سے اجتناب کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
قدس پر قابض حکومت نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ جنگ بندی (جس میں لبنان بھی شامل تھا) کو نظر انداز کرتے ہوئے بیروت پر حملے کے ذریعے علاقائی توازن بگاڑنے کی کوشش کی؛ لیکن خاتم الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر نے ایک سخت انتباہی بیان جاری کر کے امریکی-صیہونی دشمن کو حیرت زدہ کر دیا۔ ہیڈکوارٹر نے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ’’نیتنیاہو‘‘ اپنی شرارتوں کے تسلسل میں ’’ضاحیہ‘‘ اور ’’بیروت‘‘ کو بمباری کی دھمکی دے چکا ہے اور وہاں کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دے چکا ہے، واضح کیا: اسرائیلی حکومت کی مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اگر یہ دھمکی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو ہم مقبوضہ علاقوں کے شمالی حصوں اور فوجی بستیوں کے رہائشیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر وہ نقصان سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو فوراً علاقہ چھوڑ دیں۔

ہیڈکوارٹر کی یہ سخت انتباہ امریکی-صیہونی دشمن کے تمام حساب کتاب کو درہم برہم کر گیا اور انہیں ’’ضاحیہ بیروت‘‘ پر حملے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ میدان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے میزائل لانچر شمالی مقبوضہ علاقوں (جن میں ’’صفد‘‘، ’’نہاریا‘‘، ’’طبریا‘‘، ’’کرمئیل‘‘، ’’کریات شمونہ‘‘ اور ’’حیفا‘‘ شامل ہیں) پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے اور یہی امر امریکہ اور اسرائیل کو بیروت پر حملے سے باز رکھنے کا سبب بنا۔ حتیٰ کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق لبنان کے معاملے اور صیہونی افواج کی واپسی کی ضرورت پر ’’ٹرمپ‘‘ اور ’’نیتنیاہو‘‘ کے درمیان ایک نہایت کشیدہ گفتگو بھی ہوئیباور اس خبر کی وسیع اشاعت اس کے مندرجات کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ امریکی فریق کا دعویٰ تھا کہ ایران اپنی عسکری طاقت کھو چکا ہے اور اس کے 90 فیصد میزائل تباہ ہو چکے ہیں لیکن ایران نے، جو جنگ کے آخری دن تک پوری شدت کے ساتھ میزائل حملے جاری رکھے ہوئے تھا، نہ صرف اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا بلکہ جنگ بندی کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی عسکری طاقت کو تیزی سے بحال بھی کر لیا۔ اس کے علاوہ ایرانی مسلح افواج نے اپنی جارحانہ جنگی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا؛ چنانچہ میدانی رپورٹس کے مطابق ایران اب بھی روزانہ درجنوں ڈرون اور مختصرمدت میں قابل ذکر تعداد میں میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی اخبار ’’رأی الیوم‘‘ کے مدیر اعلیٰ اور معروف عرب تجزیہ کار ’’عبدالباری عطوان‘‘ اس حوالے سے کہتے ہیں: ایرانی امریکہ کے دباؤ کے سامنے، خواہ وہ جتنا بھی شدید کیوں نہ ہو، ہرگز سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور دھمکیاں انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتیں؛ لیکن درحقیقت فیصلہ ساز ٹرمپ نہیں بلکہ بنیامین نیتنیاہو ہے جس نے اس حملے سے قبل ٹرمپ سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ تمام امیدوں اور آرزوؤں کا خاتمہ کر دو اور سفارتی حل کی جانب بڑھنے والے تمام اقدامات روک دو؛ جب تک ہمارے مقاصد حاصل نہیں ہوتے، جب تک ایران کا نظام سرنگوں نہیں ہوتا اور ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہو کر افزودہ یورینیم حوالے نہیں کر دیتا، اس کا مطلب ہے کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں اور ’’مشرق وسطیٰ‘‘ (مغربی ایشیا) ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
عطوان نے مزید کہا: اسرائیل وجودی خطرے سے دوچار ہے، ایرانی انتہائی ذہانت، بھرپور اقدام اور تیاری کے ساتھ اس جنگ میں داخل ہونے کے لیے آمادہ ہیں؛ یہ ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے۔ اسرائیل پریشان اور شکست خوردہ ہے۔ ایرانیوں نے ہر چیز کا حساب لگا رکھا ہے اور گزشتہ دو برس کے دوران تمام مذاکرات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق یورینیم افزودگی کے حق پر قائم ہیں اور یہ ان کی خودمختاری کا مسئلہ ہے جبکہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کو زمین کے نیچے موجود خاص مقامات پر محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکہ نے اس سلسلے میں کوشش کی، اسرائیل نے بھی کوشش کی لیکن دونوں کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر مغربی ایشیا میں رونما ہونے والے واقعات کے تمام ٹکڑوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایران، اگرچہ اسے نقصانات اٹھانا پڑے ہیں اور یہ ہر جنگ کا ناگزیر حصہ ہوتا ہے، پھر بھی امریکی-صیہونی دشمن پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب رہا ہے اور آج تک امریکہ کے خلاف جنگ میں برتری اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے۔ یہی صورت حال یقیناً لبنان کے محاذ پر بھی صادق آتی ہے؛ کیونکہ محدود وسائل کے باوجود مزاحمتی طاقتیں میدان جنگ میں ثابت قدمی سے ڈٹی ہوئی ہیں اور 2006ء کی جولائی اور اگست کی جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ شاندار کامیابیاں رقم کر رہی ہیں۔
