عاشورا کی ثقافت، دشمنوں کی سازشوں اور زیادتیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سب سے بڑی طاقت ہے، حجت الاسلام محمد حسنی

فوج کے عقیدتی اور سیاسی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ عاشورائی ثقافت، پوری تاریخ میں مختلف اقوام اور مزاحمتی تحریک کے لیے الہام کا سرچشمہ رہی ہے اور آج بھی دشمنوں کی سازشوں، جارحانہ عزائم اور زیادتیوں کا مقابلہ کرنے کی سب سے اہم پشت پناہی شمار ہوتی ہے۔
خبر کا کوڈ: 5997
تاریخ اشاعت: 22 June 2026 - 22:37 - 13September 2647

دفاع پریس دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین فوج کے عقیدتی اور سیاسی تنظیم کے سربراہ عباس محمد حسنی نے امام حسینؑ کی عزاداری کے چھٹے روز نیول فورس ہیڈکوارٹر (نداجا) کے عملے سے خطاب کرتے ہوئے نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نماز، اسلامی تعلیمات کا ایسا فریضہ ہے جسے کسی بھی حالت میں ترک نہیں کیا جا سکتا حتیٰ کہ شدید ترین جنگی حالات اور میدانِ کارزار میں بھی اس کی ادائیگی ضروری ہے۔

حجت الاسلام محمد حسنی

انہوں نے عاشور کے دن امام حسینؑ کی نمازِ ظہرِ کو اس فریضے کی عظمت کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ خداوندِ متعال سے تعلق برقرار رکھنا، مشکلات اور آزمائشوں کے دوران اہلِ ایمان کے صبر اور ثابت قدمی کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔

فوج کے عقیدتی اور سیاسی ادارے کے سربراہ نے سورۂ صف کی آخری آیت «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ» کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ دینِ خدا کی نصرت ایمان کی اہم ترین علامتوں میں سے ہے اور اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ حق کے محاذ پر کھڑے ہوں اور الٰہی اقدار کا دفاع کریں۔ ان کے بقول انسانی تاریخ ہمیشہ ایمان کے محاذ اور کفر کے محاذ کے درمیان کشمکش کی گواہ رہی ہے اور خداوندی وعدہ یہ ہے کہ اگر اہلِ ایمان سچی نیت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں تو کامیابی انہی کا مقدر ہوگی۔

حجت الاسلام محمد حسنی نے حضرت عیسیٰؑ کی جانب سے حواریوں کو دینِ خدا کی نصرت کی دعوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سربراہان، کمانڈرز اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کریں اور انہیں اصلاح نفس اور معنویت کی طرف لے جائیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ الٰہی رہنما اور ہر وہ شخص جو کسی ذمہ داری پر فائز ہو، معاشرے کی دینی اور ثقافتی صورتِ حال کے بارے میں بے پروا نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے صدرِ اسلام، دفاعِ مقدس اور خطے کی حالیہ پیشرفتوں کی بعض تاریخی مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کی حقیقی طاقت ایمان، اتحاد اور مزاحمت میں پوشیدہ ہوتی ہے اور تاریخ کی عظیم کامیابیاں بھی انہی عوامل کی بدولت حاصل ہوئی ہیں۔

اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں انہوں نے تحریکِ عاشورا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ کا دور، تاریخِ اسلام کے پیچیدہ ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ امام حسینؑ دین کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ اہلِ بیتؑ کو اپنے ساتھ رکھنے، ظالم حکومت کی بیعت سے انکار کرنے اور شدید ترین مصائب کو برداشت کرنے جیسے اقدامات اس عظیم تحریک کی حکمتِ عملی کا حصہ تھے، جس نے اسلام کو انحراف اور تباہی کے خطرے سے محفوظ رکھا۔

حجت الاسلام محمد حسنی نے ثقافتِ عاشورا کو عالمِ اسلام کا ایک دائمی اور لازوال سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ثقافت پوری تاریخ میں مختلف اقوام اور مزاحمتی تحریک کے لیے الہام اور بیداری کا سرچشمہ رہی ہے اور آج بھی دشمنوں کی سازشوں، زیادتیوں اور طاغوتی منصوبوں کے مقابلے میں سب سے مضبوط پشت پناہی سمجھی جاتی ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً