محاذِ مقاومت در حال گسترش ہے / دشمن ایران کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور ہو گیا، حجت الاسلام محمدحسنی

ارتش کی عقیدتی سیاسی تنظیم کے سربراہ نے کہا: دشمن 12 روزہ اور 40 روزہ مسلط کردہ جنگوں میں درماندگی اور گڑگڑاہٹ کی حالت تک پہنچ گیا، اور اگر اس حماسے کو درست انداز میں روایت کیا جائے تو پوری دنیا ایران کی فتح اور امریکہ و صہیونیوں کی شکست کو سمجھ لے گی۔
خبر کا کوڈ: 6002
تاریخ اشاعت: 24 June 2026 - 21:45 - 15September 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق،فوج کے عقیدتی اور سیاسی تنظیم کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین عباس محمد حسنی نے دوسری مسلط کردہ جنگ کے دوران شہید ہونے والے شہداء کی برسی کی تقریب میں، جو شہداء کے معزز اہل خانہ اور فوج کے متعدد کمانڈرز کی موجودگی میں شہید بہشتی ٹاؤن میں منعقد ہوئی، مقامِ شہادت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"حقیقتاً شہادت کا مقام ایسا ہے کہ جس پر رشک آتا ہے۔ جب تک کوئی شخص شہید نہ ہو جائے اور اس دنیا سے رخصت نہ ہو اور وہاں جا کر اپنے اور شہداء کے درمیان فاصلے کو خود نہ دیکھ لے، وہ میری اس بات کو مکمل طور پر درک نہیں کر سکتا کہ ہمارے اور شہداء کے درمیان کتنا گہرا فاصلہ موجود ہے”۔

حجت الاسلام محمد حسنی

حجت الاسلام محمدحسنی نے خداوند متعال سے شہداء کے خصوصی قرب پر زور دیتے ہوئے کہا:

"جس قدر ہم شہداء سے دور ہیں، ممکن ہے اسی قدر ہم خدا سے بھی دور ہوں لیکن شہداء ایسے نہیں ہیں۔ قرآن کریم کی آیت مبارکہ «عِندَ رَبِّهِم یُرزَقون» کے مطابق وہ اپنے رب کے حضور رزق پاتے ہیں۔ شہید اللہ کے جمال کا مشاہدہ کرتا ہے اور رزق حاصل کرتا ہے؛ وہ مقام کہاں اور ہم کہاں”۔

راہِ کربلا کا تسلسل

فوج کی عقیدتی اور سیاسی تنظیم کے سربراہ نے ائیر ڈیفنس کے شہداء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"دنیا کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی زمانے میں جو بھی شخص شہادت کے مرتبے پر فائز ہو، اس کی شہادت دراصل شہدائے کربلا کے قافلے کا تسلسل ہے”۔

انہوں نے مزید کہا:

"ائیر ڈیفنس کے شہداء کی شہادت ہمارے لیے دو اہم پیغامات رکھتی ہے۔ پہلا یہ کہ اگر یہ شہداء (12 روزہ مسلط کردہ جنگ، آٹھ سالہ جنگ اور 40 روزہ جنگ کے شہداء) امام حسینؑ کے زمانے میں ہوتے تو یقیناً آپؑ کے رکاب میں شہید ہوتے کیونکہ انہوں نے امتحان دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ حسینی ہیں۔ اب جبکہ امام حسینؑ ظاہری طور پر موجود نہیں ہیں، ان شہداء نے حسینی طرزِ عمل اختیار کیا ہے اور اگر وہ حضرت کے رکاب میں ہوتے تو تب بھی عظیم کارنامے انجام دیتے۔ جب انہوں نے امام حسینؑ کے نائب کے لیے اس قدر قربانیاں دی ہیں تو اگر خود امام حسینؑ کو درک کرتے تو محشر برپا کر دیتے۔ یہ واقعی ان شہداء کے خاندانوں، والدین اور شریکِ حیات کے لیے عظیم سربلندی ہے”۔

خطرات میں ائیر ڈیفنس کا عاشورائی کردار

فوج کی عقیدتی اور سیاسی تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ ائیر ڈیفنس کے شہداء اس فورس کے عاشورائی ہونے اور خطرے کے دنوں میں عاشورائی طرزِ عمل اختیار کرنے کی علامت ہیں۔

اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

"اگر ہم صحیح طور پر جنگ لڑیں لیکن اس کی تصویر صحیح طور پر نہ دکھائیں تو گویا یا تو ہم نے جنگ نہیں لڑی یا پھر اس جنگ میں شکست کھا گئے۔ ذہین مجاہد وہ ہے جو اپنی جنگ کو درست انداز میں بیان کرے۔ آخر امام حسینؑ، حضرت زینبؑ اور اپنے اہلِ خانہ کو کربلا کیوں لے گئے تھے؟ کیونکہ آپؑ جانتے تھے کہ آپؑ خود موجود نہیں ہوں گے اور بعد میں دوسرے لوگ اس معرکے کو مختلف انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ اسی لیے آپؑ ایسے افراد کو ساتھ لے گئے جو آپؑ کے بعد کربلا کی روایت بیان کریں تا کہ واقعۂ کربلا تحریف کا شکار نہ ہو اور حضرت اباعبداللہ الحسینؑ کی سب سے قیمتی میراث کے طور پر آئندہ نسلوں تک منتقل ہو۔ یہی ہوا، اور آج ہم بھی اسی صورتحال میں ہیں”۔

 میدانِ جنگ میں دشمن کے اعلان شدہ اہداف کی ناکامی

حجت الاسلام محمد حسنی نے دشمن کے خلاف ایران کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"ہم نے ایک مرحلے میں 12 دن تک جنگ لڑی اور دشمن کو گڑگڑانے پر مجبور کر دیا اور پھر دوسرے مرحلے میں 40 دن تک جنگ کی اور دشمن بیچارگی اور التجا کرنے کی کیفیت تک پہنچ گیا۔ اگر ہم ان فتوحات کو درست انداز میں بیان کریں تو پوری دنیا سمجھ جائے گی کہ اس میدان کا فاتح ایران ہے اور اس جنگ کے شکست خوردہ، امریکہ اور صیہونی ہیں؛ کیونکہ شکست خوردہ وہ فریق ہوتا ہے جو اپنے اعلان شدہ اہداف حاصل نہ کر سکے جبکہ فاتح وہ مدافع ہوتا ہے جو دشمن کے کسی بھی ہدف کو کامیاب نہ ہونے دے”۔

میدانِ جنگ میں دشمن کے اعلان شدہ اہداف کی ناکامی

حجت الاسلام محمدحسنی نے دشمن کے خلاف ایران کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"ہم نے ایک مرحلے میں 12 دن تک جنگ لڑی اور دشمن کو گڑگڑانے پر مجبور کر دیا، پھر ایک دوسرے مرحلے میں 40 دن تک جنگ کی اور دشمن درماندگی اور التجا کی حالت میں پہنچ گیا۔ اگر ہم ان فتوحات کو درست انداز میں روایت کریں تو پوری دنیا سمجھ جائے گی کہ اس میدان کا فاتح ایران ہے اور اس جنگ کا شکست خوردہ امریکہ اور صہیونی ہیں؛ کیونکہ شکست خوردہ وہ فریق ہوتا ہے جو اپنے اعلان شدہ اہداف حاصل نہ کر سکے، جبکہ فاتح وہ مدافع ہوتا ہے جو دشمن کے کسی بھی ہدف کو کامیاب نہ ہونے دے”۔

حجت الاسلام محمد حسنی نے ایران کے خلاف جارحیت کے آغاز میں امریکی صدر کے اعلان شدہ اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"پاگل ٹرمپ نے اپنی فوجی جارحیت کے آغاز میں چند اہداف کا اعلان کیا تھا جن میں تین دن کے اندر نظام کی تبدیلی، جوہری توانائی کے مکمل سلسلے اور پر امن جوہری تنصیبات کی بندش، میزائل صلاحیت کا خاتمہ اور اسے تاریخ کے حوالے کرنا، عوام کو نظام کے خلاف میدان میں لانا اور ملک کو توڑنے کی طرف دھکیلنا شامل تھا۔ یہاں تک کہ اس بے عقل شخص نے کہا تھا کہ ہم ایران کے نظام کو تبدیل کریں گے اور غالباً خود میں ایران کی قیادت سنبھالوں گا۔ دشمن واقعی شدید وہم و گمان میں مبتلا ہو چکا تھا”۔

بالعکس ہجرت؛ دشمن کی شکست کی علامت

حجت الاسلام محمد حسنی نے دشمن کی شکست کی علامات کو بیان کرتے ہوئے کہا

"اب دشمن کے متعین کردہ تین دن تقریباً چار ماہ میں تبدیل ہو چکے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم ہے”۔

انہوں نے مزید کہا:

"عوام بھی سڑکوں پر آئے لیکن اسلام، ایران اور اسلامی نظام کے حق میں۔ ہمارے میزائلوں نے بھی دشمن کو بری طرح کچل دیا۔ ہماری جوہری توانائی کو بھی خود انہی لوگوں نے تسلیم کیا۔ نظام کی تبدیلی اور ملک کی تقسیم کا بھی کوئی نام و نشان نہیں۔ لہٰذا ہمیں قرآن کریم کی اس آیت کو یاد رکھنا چاہیے:

«وَمَکَرُوا وَمَکَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَیْرُ الْمَاکِرِینَ»

(انہوں نے چال چلی اور اللہ نے بھی تدبیر کی، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔)

فوج کی عقیدتی اور سیاسی تنظیم کے سربراہ نے مزید کہا:

"جنگوں میں عموماً قومیں اپنی جانوں کے خوف سے جنگ زدہ ملک چھوڑ کر محفوظ ممالک کی طرف ہجرت کرتی ہیں لیکن ایران میں ایک بھی خاندان ملک چھوڑ کر نہیں گیا”۔

انہوں نے کہا:

"اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ملین خاندانوں کی وہ تعداد، جو برسوں سے امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں مقیم تھی، ہجرت کر کے واپس آئی اور کہا کہ ایران، اسلام اور ملتِ ایران کی عزت و ناموس خطرے میں ہے لہٰذا ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے واپس آ رہے ہیں”۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا:

"یہ بھی انہی نکات میں سے ہے جو واضح کرتے ہیں کہ فاتح کون ہے اور شکست کھانے والا کون”۔

مختلف میدانوں میں اتحاد کی تشکیل اور آبنائے ہرمز کا کارنامہ

حجت الاسلام محمد حسنی نے مزاحمتی محاذ کے مختلف میدانوں کے اتحاد کے حصول کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا:

"ماضی میں ہم بہت کوشش کرتے تھے کہ دنیا کو سمجھا سکیں کہ مزاحمتی محور ایک ہاتھ کی انگلیوں کی مانند متحد ہے لیکن ہم اس حقیقت کو عالمی سطح پر ثابت نہیں کر پاتے تھے۔ آج 'وحدتِ ساحات' (میدانوں کی وحدت) کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ ایران ایک میدان ہے، لبنان ایک میدان ہے، عراق ایک میدان ہے، شام ایک میدان ہے اور یمن ایک میدان ہے اور مستقبل قریب میں مزید میدان بھی سامنے آئیں گے”۔

انہوں نے کہا:

"حقیقی شکست کھانے والا وہ ہے جس نے اپنی فرصتیں ضائع کی ہوں، نہ کہ وہ جس نے میدانوں میں اتحاد پیدا کر لیا ہو”۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے خدا کی عطا کردہ عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا

"اس سے پہلے ہم اس اسٹریٹجک گزرگاہ کی اہمیت کو اس طرح نہیں سمجھتے تھے جیسے سمجھنا چاہیے تھا لیکن مسلط کردہ تیسری جنگ کے دوران ایرانی تدابیر اور انتظامات کے ذریعے اس کامیابی کو بھی اپنی صلاحیتوں میں شامل کر لیا”۔

انہوں نے مزید کہا:

"اب آبنائے ہرمز کا اختیار ہمارے ہاتھ میں ہے؛ جب چاہیں اسے سختی سے پکڑ لیتے ہیں اور جب چاہیں اپنے دوستوں کے لیے اس کا استعمال آسان بنا دیتے ہیں”۔

امریکہ کی ساکھ کی نیلامی

حجت الاسلام محمد حسنی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر امریکی صدر کو طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا:

"اب جاؤ اور ٹرمپ سے پوچھو کہ آخر تم نے کیا حاصل کیا؟

انہوں نے مزید کہا:

"اسے جواب دینا چاہیے کہ میں نے دنیا میں اپنے سوپر پاور ہونے کی ساکھ کو نیلام کر دیا ہے اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کا اعتماد اپنے اوپر سے ختم کر دیا ہے”۔

فوج کے عقیدتی اور سیاسی سربراہ نے کہا:

"آج کے بعد خلیج فارس کے حاشیے میں واقع کوئی بھی ملک اس بات پر مطمئن نہیں رہے گا کہ اگر کسی دن وہ خطرے سے دوچار ہوا تو امریکہ نامی کوئی ملک اس کے دفاع کے لیے موجود ہوگا”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً