اللہ کا انتقام امریکہ اور صیہونی حکومت سے دور نہیں، جنرل عظمایی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل «علی عظمایی» نے انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کے جسدِ مطہر کی الوداعی اور تشییع کی تقریب کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا۔

پیغام کا متن حسبِ ذیل ہے:
»مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا«
ایرانِ اسلامی کی معزز عوام اور شہید پرور ملت کے نام
السلام علیکم
اللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل فَرَجَهُم
امت کے رہبرِ شہید، صبر و بصیرت کے میدانوں کے وہ مردِ مجاہد، باطل کے طوفان کے سامنے حق کی وہ ثابت قدم صدا، فتنوں کی تاریک راتوں میں ہدایت کا وہ روشن چراغ اب رحمتِ الٰہی کے جوار میں آسودہ ہیں لیکن ان کا نام، ان کی یاد، ان کا راستہ اور ان کا پاک خون اس امت کی روح میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
آج ہم وداع نہیں کر رہے بلکہ ان کے مقاصد، ان کی ثابت قدمی، ان کے ایمان اور اس راستے کے ساتھ ایک بار پھر تجدیدِ عہد کر رہے ہیں جو ان کے سینے سے روشن مستقبل کے افق تک پھیلا ہوا ہے۔
وہ خدا کے صالح بندے اور راہِ خدا کے مجاہد تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی حق کی سربلندی، امتِ اسلامی کی عزت و وقار کے دفاع اور خالص محمدی اسلام کے بلند مقاصد کی پاسداری میں بسر کی اور ایمان، بصیرت اور ثابت قدمی کے ساتھ کفر اور عالمی طاغوت کے محاذ کے سامنے ڈٹے رہے اور اس سرزمین کے تاریخ ساز مردوں میں اپنا نام ثبت کر گئے۔
تاریخ کے اس عظیم مرد نے نہ صرف فکر اور بیان کے میدان میں بلکہ عملی میدان میں بھی امتِ اسلامی کی عزت کے محافظ اور آزاد اقوام کے وقار کے مدافع کے طور پر کردار ادا کیا۔ ان کی مضبوط آواز حقیقت کی بازگشت تھی اور ان کے قدم راسخ ایمان اور غیر متزلزل عزم کی علامت تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے تاریخ کے کٹھن ترین لمحات میں مصلحت کی بجائے الٰہی یقین پر بھروسہ کرتے ہوئے حق کے دفاع کی پہلی صف میں کھڑے ہو کر اپنا نام راہِ خدا کے مجاہدین کے دفتر میں ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔
آج ہم ایک ایسی عظیم المرتبت شخصیت کی دردناک شہادت پر سوگوار ہیں جسے زمین کے سب سے خبیث اور بدبخت انسانوں نے شہید کیا۔ وہ سنگدل عناصر جو اس عزیز شہید کے روحانی اقتدار، گفتار کی ثابت قدمی اور بصیرت افروز تجزیاتی صلاحیت سے خوفزدہ تھے اور جو ان کے ایمان و بصیرت کے نور کی تاب نہ لا سکے۔ انہوں نے ایک وحشیانہ جرم کا ارتکاب کیا۔ طاغوت کے یہ اندھے پیروکار اور ان کے پالے ہوئے کارندے جان لیں کہ اس بزدلانہ اقدام سے انہوں نے نہ صرف راہِ حق میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ خود کو تاریخ کے بدترین ظالموں کی صف میں عدلِ الٰہی کے حضور اور اس ملت کے شدید غضب اور سخت انتقام کے مقابل پہلے سے زیادہ رسوا اور مجرم بنا لیا ہے۔
ہمارے امامِ شہید کی یاد اور نام امتِ واحدۂ اسلامی کے جہاد کے یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس امامِ ہُمام کی بلند روح رحمتِ الٰہی کے سائے میں قرار پائے۔
ایڈمرل جنرل علی عظمایی
سپاہ کی بحریہ کے کمانڈر
