دشمن کی تمام نقل و حرکت کی مکمل نگرانی جاری/ امریکہ کی ہر شرارت پر مسلح افواج کا جواب کئی گنا زیادہ شدید ہوگا، جنرل میراحمدی
چیف آف جنرل اسٹاف آف آرمڈ فورسز کے مشیر جنرل سید مجید میراحمدی نے دفاعپریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عہد شکنی اور ان کی جانب سے جنگ بندی کی مکمل خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکیوں نے 40 روزہ مسلط کردہ جنگ اور اس کے بعد بحری محاصرے کے دوران شرارت کا ایک مکمل سلسلہ دکھایا لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے۔

جنرل میراحمدی نے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے تاکید کی: یقینی طور پر وہ جس قدر شرارت کریں گے، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج انہیں کئی گنا زیادہ شدید اور منہ توڑ جواب دیں گی اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی تشویش نہیں ہے۔
چیف آف جنرل اسٹاف آف آرمڈ فورسز کے مشیر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ نظام کے تمام ارکان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، کہا: مسلح افواج، حکومت، قوم اور تینوں ریاستی قوتیں سب متحد، منظم اور پُرعزم ہیں کہ ملک کی ارضی سالمیت اور قومی سلامتی کا دفاع کریں۔ اس راہ میں کسی قسم کی اختلافِ رائے موجود نہیں اور سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔
انہوں نے تصریح کی: جنگ ہمیشہ نقصانات اور مشکلات کے ہمراہ ہوتی ہے لیکن ہماری عوام نے خود کو ہر قسم کے حالات کے لیے تیار کر رکھا ہے اور جیسا کہ شہید امام اور رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی ہے، ایرانیوں میں سے کوئی بھی دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور مجرم اس باطل آرزو کو اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔
جنرل میراحمدی نے خطے میں امریکی بحری جہازوں اور افواج کی موجودگی اور مقبوضہ علاقوں میں فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کی تعیناتی کے بارے میں بھی کہا: امریکیوں اور ان کے اتحادیوں نے عارضی جنگ بندی، جو حقیقی معنوں میں جنگ بندی نہیں تھی، کے فوراً بعد اپنی طاقت کو ازسر نو منظم کرنے اور اپنی شرارتوں کو جاری رکھنے کے لیے خطے میں ہتھیار بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
چیف آف جنرل اسٹاف آف آرمڈ فورسز کے مشیر نے مزید کہا: یہ اقدامات ہماری مسلح افواج سے پوشیدہ نہیں تھے اور یہ تمام نقل و حرکت ابتدا ہی سے مسلح افواج کی انٹیلی جنس نگرانی میں رہی ہے یہاں تک کہ ہمیں ان کے تمام تعیناتی اور نقل و حرکت کے مقامات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہیں۔
جنرل میراحمدی نے آخر میں ہر ممکنہ منظرنامے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح افواج کی مکمل تیاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی: پہلے سے طے شدہ تدابیر اور منصوبوں کے مطابق جنگ کے ہر مرحلے میں ضروری کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی اور ان شاء اللہ ہم دشمنوں کو ان کے ذلیل اور مجرمانہ اقدامات پر پشیمان کر دیں گے۔
