شہید حاجی زادہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میجر جنرل صفوی کی گفتگو؛ میزائل طاقت کے فروغ سے لے کر انقلاب کے شہید رہبر سے قریبی تعلق تک

مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے اعلیٰ معاون اور مشیر نے شہید میجر جنرل حاجی زادہ کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران انہیں چار نمایاں خصوصیات کا حامل کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید حاجی زادہ نے نوجوان کمانڈرز کی تربیت کے ذریعے ایران کی میزائل اور ڈرون طاقت میں بنیادی تبدیلی پیدا کی اور ہمیشہ ولایت کے راستے پر گامزن رہے۔
خبر کا کوڈ: 6117
تاریخ اشاعت: 30 July 2026 - 10:53 - 22October 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کمانڈر کے اعلیٰ معاون اور مشیر میجر جنرل سید یحییٰ صفوی  نے سپاہ کی فضائیہ کے مرحوم کمانڈر شہید میجر جنرل امیرعلی حاجی زادہ کے اہلِ خانہ سے ایک دوستانہ ملاقات کی جس میں رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی کے آثار کے تحفظ و اشاعت کے دفتر کے متعدد اراکین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اس ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس شہید کمانڈر کی شجاعت اور منفرد خصوصیات پر روشنی ڈالی۔

میجر جنرل سید یحییٰ صفوی

میجر جنرل صفوی نے اس ملاقات میں کہا: "مجھے سپاہِ اسلام کے اس عظیم کمانڈر کے ساتھ چالیس برس سے زیادہ عرصہ گزارنے کا موقع ملا۔ شہید حاجی زادہ چار بنیادی خصوصیات کے حامل کمانڈر تھے، جن میں سرفہرست فکر و تدبر، اخلاق و کردار، عملی کارکردگی اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا اور اکائیوں پر مشتمل طاقت کی تربیت شامل تھی۔"

انہوں نے شہید حاجی زادہ کی فکری اور عقیدتی شخصیت کے بارے میں کہا: "یہ عظیم شہید قرآنِ کریم اور اہلِ بیتؑ سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ عسکری میدان میں بھی وہ ایک اسٹریٹجک کمانڈر تھے جنہوں نے فضائیہ کی کمان سنبھالنے کے دوران ایران کی میزائل طاقت کو مقداری اور معیاری دونوں اعتبار سے ترقی دی۔"

انہوں نے مزید کہا: "شہید حاجی زادہ کی کمان سے پہلے ڈرون زیادہ تر جاسوسی اور فضائی امیجنگ کے لیے استعمال ہوتے تھے لیکن انہوں نے ایران کی ڈرون طاقت میں بنیادی تبدیلی پیدا کی اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے بمبار ڈرون تیار کیے۔ اسی طرح عراق میں امریکی فوجی اڈے عین الاسد کے خلاف پہلے میزائل آپریشن میں، انقلاب کے شہید رہبر کے حکم پر پہلے جاسوسی طیارے روانہ کیے گئے، ٹارگٹس کے درست محلِ وقوع کی نشاندہی کی گئی اور اس کے بعد میزائل داغے گئے۔"

سپریم کمانڈر کے اعلیٰ معاون اور مشیر نے شہید حاجی زادہ کے کیریئر کے اہم ترین کارناموں میں امریکی جدید RQ-170 ڈرون کو گرانے اور اس کی ریورس انجینئرنگ کو شامل کرتے ہوئے کہا: "یہ ڈرون امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا تھا اور امریکی دشمن کا جدید ترین بغیر پائلٹ طیارہ سمجھا جاتا تھا۔ شہید حاجی زادہ نے اس کے پرزے ایران کی انڈسٹریل یونیورسٹیز کے حوالے کیے جن کی بنیاد پر اس کا ہم پلہ نمونہ تیار کیا گیا۔ یہ کارروائی امریکیوں کے لیے ناقابلِ تصور تھی اور روس کی بارہا درخواستوں کے باوجود شہید حاجی زادہ نے نہ انہیں اس ڈرون کا معائنہ کرنے دیا اور نہ ہی اس کے پرزے منتقل کیے۔"

میجر جنرل صفوی نے شہید حاجی زادہ کی ولایت سے وابستگی پر زور دیتے ہوئے کہا: "رہبرِ شہیدِ انقلاب انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ جب بھی وہ رپورٹ پیش کرنے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کبھی کبھی آذری لہجے میں ان سے گفتگو کرتے اور ان کے درمیان نہایت قریبی اور دوستانہ تعلق تھا۔ شہید حاجی زادہ اور شہید حسن طہرانی مقدم کے افکار، جنہوں نے جنگ کے ابتدائی برسوں میں سپاہ کے توپخانے کی کمان کی بنیاد رکھی، آج کی میزائل طاقت تک پہنچنے کی راہ ہموار کر گئے۔"

انہوں نے اس عظیم شہید کی اخلاقی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا: "شہید حاجی زادہ ایک ولائی، بسیجی، مخلص اور عوام دوست انسان تھے۔ ان کے چہرے سے مسکراہٹ کبھی محو نہیں ہوتی تھی اور وہ فوج، فراجا اور دیگر مسلح افواج سمیت تمام اداروں کے ساتھ نہایت خوش اخلاق اور گشادہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔"

سپریم کمانڈر کے اعلیٰ معاون اور مشیر نے مزاحمتی محاذ کو مضبوط بنانے میں شہید حاجی زادہ کے مؤثر کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "انہوں نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے زمانے سے لے کر اپنی شہادت تک اسلام اور ایران کے دفاع کی وردی کبھی نہیں اتاری۔"

انہوں نے ملک کی میزائل طاقت کے ابتدائی بیرونی مشنز کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ابتدائی برسوں میں شہید حاجی زادہ، شہید حسن طہرانی مقدم اور چند دیگر ساتھی میزائل ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے شام بھیجے گئے تھے۔ ان شہداء کی فطری صلاحیت نے انہیں مختصر مدت میں میزائل ٹیکنالوجی پر مکمل عبور حاصل کرنے کے قابل بنا دیا۔"

میجر جنرل صفوی نے اپنے شہید ساتھیوں کی تصاویر دیکھ کر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "میرے پرانے تئیس ساتھیوں میں سے اب صرف تین افراد باقی رہ گئے ہیں اور میں خود کو شہداء کے قافلے سے پیچھے رہ جانے والا سمجھتا ہوں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے ساتھ ملا دے۔"

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "ہمیں ملک کو طاقتور بنا کر جنگ کے سائے کو دور کرنا ہوگا اور یہ طاقت صرف عسکری قوت تک محدود نہیں بلکہ خود انحصار قومی طاقت، عوام کی حکومت سے رضامندی اور قیادت کے گرد قومی اتحاد ہی ملک کی سلامتی کی اصل ضمانت ہیں۔"

میجر جنرل صفوی نے ملاقات کے اختتام پر امامِ زمانہؑ کے اس سپاہی کی شہادت پر ان کے اہلِ خانہ، رفقائے کار اور تمام عقیدت مندوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں