ایران کی دفاعی صنعت خطرے کے بطن سے پیدا ہوئی لیکن خطرے کے سامنے کبھی سہمی نہیں، وزارتِ دفاع
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کی جانب سے 22 اگست، دفاعی صنعت کے دن کے موقع پر جاری بیان کا متن درج ذیل ہے

«بسم اللہ الرحمن الرحیم»
22 اگست، اس قابلِ فخر راستے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو ایرانی قوم نے اپنی دفاعی اور صنعتی طاقت کی تعمیر کے لیے طے کیا ہے؛ یہ وہ راستہ ہے جو سخت اور ہنگامہ خیز برسوں میں، آزادی کے حصول اور سامراج اور وابستگی کی زنجیروں سے نجات، پابندیوں اور خطرات کے خلاف تاریخی جدوجہد کے تجربے سے شروع ہوا اور امام خمینی کبیر (رض) کی روحانی رہنمائی، اسلامی انقلاب کے شہید قائد، حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی رہنمائی اور اس سرزمین کے کمانڈرز، سائنس دانوں اور ماہرین کی جدوجہد سے تشکیل پایا اور آج اسلامی انقلاب کے عظیم رہبر، حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی رہنمائی میں ثابت قدمی، عزم اور پختہ ارادے کے ساتھ جاری ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صنعت خطرے کے بطن سے پیدا ہوئی لیکن خطرے کے سامنے رک نہیں گئی۔ ہر دباؤ اور ہر پابندی نے اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کی ضرورت اور یقین کو مزید واضح کیا اور ہر میدان نے ملک کے ماہرین کے سامنے ایک نیا موقع فراہم کیا۔ یہ راستہ اسلامی انقلاب کے شہید رہبر، حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی رہنمائی اور قیادت میں وضع، تعمیر اور انجینئر کیا گیا؛ وہ حکیم اور باخرد رہبر جنہوں نے دفاعی صنعت کو ملک کی اقتدار اور آزادی کی بنیادوں میں سے ایک سمجھا۔ وہ آزادی اور وابستگی سے عبور کا راستہ عوام، بالخصوص ایرانی نوجوانوں اور ماہرین پر اعتماد، علم اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور کمانڈرز، سائنس دانوں، ماہرین اور دفاعی صنعت کے کارکنوں کی کاوش سے مقامی سطح پر صلاحیتوں کی تیاری میں دیکھتے تھے اور اس بلند نظریے کے نتیجے میں علمی، تکنیکی اور صنعتی صلاحیتوں اور استعداد کا ایک ایسا مجموعہ تشکیل پایا جو اسلامی ایران کی دفاعی طاقت اور ڈیٹرنس کا اہم حصہ ہے۔
ایران کی دفاعی صنعت نے اس راستے اور اس مقدس مقصد کے لیے اس سرزمین کے بہترین فرزندوں کو ذمہ داری اور کمان کی وردی میں قربان کیا ہے۔ شہید چمران، فکوری، نامجوئی، شمخانی اور نصیرزادہ، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے مجموعے سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں شہداء کے ساتھ، اس راستے کے درخشاں اور قیمتی ستارے تھے۔ ان کے نام اور ان کی یاد ہمارے لیے ان کے چھوڑے ہوئے ورثے اور اس راستے کی یاددہانی ہے جسے انہوں نے تعمیر کیا اور جسے آج مزید طاقت کے ساتھ جاری رکھنا ضروری ہے۔
ان کے ساتھ ساتھ ہم ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے ان شہداء کی یاد کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو علم اور دیانت کی مثال تھے اور جنہوں نے 12 روزہ مسلط کردہ جنگ اور جنگ رمضان میں جامِ شہادت نوش کیا؛ وہ شہداء جنہوں نے مشکل دنوں میں ذمہ داری اور خطرے کے دوران کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور ملک و ملتِ ایران کی دفاع کی راہ میں جنگ کے ابتدائی لمحات میں ہی شہید ہو گئے۔
اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ جب بھی دشمن ایرانی قوم عزمِ دفاع کو نشانہ بنائے گا، اسے ایسی قوم کا سامنا ہوگا جو نہ صرف دفاع اور مزاحمت کے میدان میں ثابت قدم رہتی ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر خطرے کے بطن سے تعمیر اور ترقی کے لیے ایک نئی طاقت پیدا کرتی ہے اور فیصلہ کُن لمحات میں ایسی مبعوث شدہ قوم بن کر سامنے آتی ہے جو اسلامی ایران کی عزت، شرافت، آزادی اور ملک کی ارضی سرحدوں کے دفاع کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔
حالیہ مسلط کردہ جنگیں ملک کی دفاعی صلاحیتوں کے حقیقی امتحان کا میدان تھیں۔ ایرانی ماہرین کی جانب سے برسوں کے علم اور جدوجہد سے دفاعی صنعت میں جو کچھ تیار اور ترقی دی گئی تھی، اسے میدان میں بروئے کار لایا گیا اور مسلح افواج اور ایرانی قوم کی عملی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر اس نے دشمن کے محاسبات اور اہداف کے ایک اہم حصے کو ناکامی سے دوچار کیا اور اسے حیران کر دیا۔ تاہم یہ جنگیں صرف مقابلے کا میدان نہیں تھیں بلکہ صلاحیتوں کو زیادہ درست طور پر جانچنے، نئی ضروریات کے آشکار ہونے اور مستقبل کی راہ متعین کرنے کا موقع بھی تھیں۔ ہم نے سیکھ لیا کہ کبھی نہیں رکنا اور اسی بنیاد پر ہم حالیہ مسلط کردہ جنگ کو ماضی کی جنگ تصور کرتے ہیں؛ نہ غرور کے ساتھ اور نہ تشویش کے ساتھ بلکہ ان نتائج اور اسباق کے مطابق دفاعی صنعت کو مسلسل نیا، ازسرِ نو تشکیل کریں گے اور جدید بناتے رہیں گے۔
یہیں سے ’’دفاعی صنعت کے انقلاب‘‘ کا تصور، دفاعی-قومی شراکت داری کے ماڈل کی بنیاد پر اہمیت اختیار کرتا ہے؛ ایک مستقل اور متحرک تبدیلی جو صرف نئی مصنوعات کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ طرزِ فکر، ڈیزائن کے نمونوں، پیداوار، ٹیکنالوجی کے انتظام، نالج بیسڈ اداروں کی صلاحیتوں سے استفادہ، ذہانت پر مبنی اور علم کو دفاعی طاقت میں تبدیل کرنے کی رفتار کو بھی تبدیل کرتی ہے۔
اس راستے میں رواں سال کا ٹیکٹیکل نعرہ ’’دفاعی صنعت، قومی شراکت، طاقتور ایران‘‘ محض ایک نعرے کا انتخاب نہیں بلکہ ایران کی قومی سلامتی اور رمضان کی مقدس دفاعی جدوجہد کی کامیابیوں کے تحفظ کی بنیاد پر ایک حقیقی ضرورت ہے۔ دفاعی صنعت کسی ایک ادارے یا مخصوص مجموعے سے متعلق نہیں ہے۔ یونیورسٹی، سائنس دان، انجینئر، نالج بیسڈ کمپنی، صنعت کار اور جینیس، مرد اور عورت اور بزرگ و نوجوان، سب ملک کی دفاعی طاقت کی تعمیر میں حصہ اور کردار ادا کرتے ہیں۔ وہی قوم جس نے اسلام، انقلاب، ولایت اور وطن کے دفاع کے میدان میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، آج علم اور ٹیکنالوجی اور مقامی دفاعی صنعتوں کے میدان میں بھی ایران کے مستقبل کی تعمیر اور دفاع کے لیے میدان میں کھڑی ہونی چاہیے۔
دوسری جانب، رواں سال کا نعرہ بھی دفاعی صنعت کے مشن سے براہِ راست منسلک ہے۔ مقدس اتحاد قومی سلامتی کی پشت پناہی ہے اور قومی سلامتی ملک کی مسلسل اقتدار اور ترقی کی بنیاد ہے۔ حالیہ جنگوں کے تجربے نے ثابت کیا کہ قوم اور مسلح افواج کے درمیان جتنا مضبوط رشتہ ہوگا، خطرات کا مقابلہ کرنے اور مشکلات سے گزرنے کی ملکی صلاحیت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ دفاعی صنعت اس سلسلے میں اسلامی ایران کی قومی سلامتی اور اقتدار کی اہم ترین پشت پناہی میں سے ایک ہے۔
آج ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے سامنے اس راستے کو جاری رکھتے ہوئے، جسے انقلاب کے شہید رہبر نے متعین کیا اور جس کے لیے شہداء نے اپنی جانیں قربان کیں، ایک واضح ذمہ داری موجود ہے: میدان کے تجربے کو علم، علم کو ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کی دفاعی طاقت میں تبدیل کرنا۔
یہ راستہ اللہ تعالیٰ پر توکل، حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی) کی ٹیکٹیکل کمانڈ، ایرانی قوم پر بھروسے اور اس سرزمین کی نئی نسل کے سائنس دانوں، ماہرین اور نوجوانوں کی محنت کے سہارے جاری رہے گا۔
22 اگست، دفاعی صنعت کا دن، صرف ایک صنعت کی تجلیل کا دن نہیں بلکہ دفاعی صنعتوں کی اس عظیم اور طاقت میں اضافہ کرنے والی برادری اور اس قوم کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جس نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی دفاعی طاقت کو اپنے ہاتھ، اپنے علم اور اپنے ارادے سے تعمیر کرے گی۔
