ایران اپنے دشمنوں کے خلاف پیشگی حملے کے لیے تیار ہے، جنرل علیاننژاد
دفاع پریس کے دفاعی اقر سیکیورٹی گروپ کے مطابق، بری فوج کے ٹریننگ کوآرڈینیٹر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا علیاننژاد نے کہا: اگر پیشگی حملے کی ضرورت پیش آئی تو ’’فورسز نے اس حوالے سے ضروری ٹریننگ حاصل کر رکھی ہے اور ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے‘‘۔

ایرانی مسلح افواج کو حالیہ ۴۰ روزہ جنگ کے دوران بھی پیشگی کارروائی کے نقطۂ نظر سے آپریشن کرنے کا تجربہ حاصل ہوا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے میں، امریکہ کی جانب سے اردن میں فوجی اہلکاروں اور عسکری ساز و سامان کی منتقلی اور انہیں ایران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار کیے جانے کے بعد، ایرانی مسلح افواج نے امریکی حملے کے آغاز سے قبل ہی کارروائی شروع کر دی۔
اس کارروائی میں، جو ۷ مرداد کی صبح سویرے انجام دی گئی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع امریکی فوج کے ایک فضائی اڈے اور کمانڈ سینٹر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
بری فوج کے ٹریننگ کوآرڈینیٹر نے کہا کہ ہمارا نظریہ دفاعی ہے، تاہم فوجی دستوں کو تمام سطحوں پر مختلف ساز و سامان کے ساتھ حملے کی ٹریننگ دی جا چکی ہے۔ فضائیہ سے لے کر بری فوج اور بحریہ تک، کمانڈ کی ہدایت پر یہ تمام کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
