امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا، مزاحمت روز بروز مضبوط ہو رہی ہے، جنرل اسدی

حضرت خاتم‌الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق ڈپٹی انسپکٹر نے مزاحمتی محاذ کی روز افزوں مضبوطی پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آج اپنے اتحادیوں کے دفاع کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔
خبر کا کوڈ: 6198
تاریخ اشاعت: 26 August 2026 - 23:53 - 17November 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے حضرت خاتم‌الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمد جعفر اسدی نے یمن کی انصاراللہ کی صلاحیتوں اور علاقائی صورتحال کے بارے میں کہا: آج خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی راستے کی پیش رفت ہے جس کی ہمارے شہید امام نے نشاندہی کی تھی؛ ہم چوٹی کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اس قربت کی اپنی قیمت ہے۔

جنرل اسدی

جنرل اسدی نے خلیج فارس کے جنوبی حصے میں بننے والے نئے اتحادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور یہ خطے کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ تقریباً 20 سال قبل کونڈولیزا رائس نے ’’نئے مشرق وسطیٰ کی پیدائش کی دردِ زہ‘‘ کی بات کی تھی؛ آج دیکھنا چاہیے کہ اس درد کا نتیجہ کہاں تک پہنچا ہے؟ خود امریکہ بھی میدان میں آ گیا ہے اور کینسر کا یہ ٹیومر بھی اب میدان کے اندر موجود ہے جبکہ اب وہ اپنے ’’دودھ دینے والی گائے‘‘ (سعودی حکومت) کا دفاع بھی نہیں کر سکتے؛ ایسی گائے جس کے بارے میں انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ ان کی ملکیت ہے لیکن اب وہ اس کا دفاع کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے تا کہ کم از کم وہ انہیں دودھ ہی دے سکے۔

حضرت خاتم‌الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سابق ڈپٹی انسپکٹر نے امریکہ کی بے بسی پر تاکید کرتے ہوئے کہا: ایک وقت تھا جب کوئی بھی یہ یقین نہیں کرتا تھا کہ ایران امریکہ کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ بتدریج خطے سے نکل رہا ہے اور مزاحمت اپنا مقام مضبوط بنا رہی ہے۔

انہوں نے صیہونی حکومت کی صورتحال کے بارے میں کہا: وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ فلسطینیوں اور لبنان پر حملہ کر کے اور لبنان میں ایک خود سے وابستہ شخص کو مسلط کر کے حزب‌اللہ کو غیر مسلح کر سکتے ہیں لیکن اب ان تصورات کا وقت گزر چکا ہے۔ ہمارے شہید امام نے فرمایا تھا کہ ’’اسرائیل طوفان الاقصیٰ سے پہلے کے دور میں واپس نہیں جا سکے گا۔‘‘ یقیناً اگر اسرائیل ایک ماہ تک کسی جگہ پر حملہ نہ کرے تو اس کا کام تمام ہو جائے گا لیکن وہ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے تا کہ یہ تاثر دے سکے کہ اس کی زندگی ابھی باقی ہے۔

جنرل اسدی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آبنائے ہرمز یورپ اور امریکہ کے لیے حیاتیاتی اہمیت رکھتا ہے اور خدا کے فضل سے اسے اس قدر مضبوطی سے بند کیا گیا ہے کہ ان سب کی چیخیں نکل گئی ہیں"۔ ٹرمپ کہتا ہے کہ میں اسے آزاد کر دوں گا؛ فرض کریں اگر اسے کوئی کامیابی حاصل ہو بھی جائے تو اس کی کوئی قابلِ اعتماد حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ جنگ سے پہلے یہ مقام آزاد تھا؛ لہٰذا ٹرمپ سے پوچھنا چاہیے کہ پھر تمہاری یہ جنگ افروزی کس لیے تھی؟ تم ایران کو تباہ کرنا چاہتے تھے لیکن اب خود ہی ہاتھ پاؤں مار رہے ہو۔ یورپ اور حتیٰ کہ امریکہ کے اندر بھی صورتحال اچھی نہیں ہے لیکن خطے کی صورتحال اسلام اور مزاحمت کے حق میں تبدیل ہو رہی ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں