مخالف میڈیا بھی ہمارے فوجی اہداف کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں، جنرل شکارچی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے رپورٹر کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے دفاع مقدس نیوز ایجنسی کے انگریزی، عربی، روسی، اردو، فرانسیسی اور ترکی زبانوں میں غیر ملکی صفحات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جو آج بدھ کی شام منعقد ہوئی، ان صفحات کے آغاز کو ایک قابلِ قدر اقدام قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ حالات میں سافٹ اینڈ ہارڈ وار کے مختلف شعبوں کے امتزاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہائبرڈ جنگ کا ایک اہم حصہ میڈیا اور ادراکی جنگ ہے، اس طرح کہ اس شعبے میں کامیابی یا ناکامی براہِ راست ہارڈ وار کے میدان پر اثرانداز ہوتی ہے۔
جنرل شکارچی نے کہا: آج ہم عالمی سامراج کی ایک میڈیا سلطنت کا سامنا کر رہے ہیں۔ میڈیا کے تمام جدید ذرائع اور پیچیدہ ٹیکنالوجیز دشمنوں کے اختیار میں ہیں اور اس شعبے میں بڑے پیمانے پر مالی سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے؛ تاہم اسلامی انقلاب کے میڈیا کی الٰہی عنایت کے سائے میں ہونے کی وجہ سے یہ میڈیا دشمن پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔
مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے کہا: دشمن کی میڈیا سلطنت کا مرکز ثقل صیہونیوں کے اختیار میں ہے۔ ’’بی بی سی‘‘، ’’ایران انٹرنیشنل‘‘ اور ’’ریڈیو فردا‘‘ جیسے میڈیا ادارے براہِ راست ’’موساد‘‘، ’’سی آئی اے‘‘ اور دشمن کی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے منسلک ہیں اور ان سے اپنی پالیسی اور معاونت حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مسلح افواج ان خبر رساں اداروں کو میڈیا کے طور پر نہیں دیکھتیں، کہا: ان میڈیا اداروں میں کام کرنے والے افراد صیہونیت اور مجرم امریکہ کے فوجی سمجھے جاتے ہیں اور حتیٰ کہ انہیں فوجی اہداف کی فہرست میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہماری نظر میں یہ محض میڈیا نہیں ہیں۔

جنرل شکارچی نے دنیا میں تشدد کے فروغ میں ان خبر رساں اداروں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا: دنیا میں ہونے والی ہر خونریزی اور ہر تشدد کو ان نیم میڈیا اداروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ میڈیا کو امن و سلامتی کا ذریعہ ہونا چاہیے اور اس کی اولین ترجیح عوام اور انسانی معاشرے کی ذہنی سلامتی ہونی چاہیے۔
مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے مزید کہا: یہ نیم میڈیا ادارے نہ صرف انسانی معاشرے کی ذہنی سلامتی کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ دنیا میں تشدد کے فروغ، تشہیر اور توسیع کا سر چشمہ ہیں اور انہوں نے انسانیت کے ذہن اور نفسیات کو درہم برہم کر دیا ہے۔
انہوں نے آخر میں عالمی رائے عامہ سے رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہم ایسے دشمن کے خلاف جس کے اہداف شیطانی اور غیر انسانی ہیں، صرف فارسی زبان میں میڈیا جنگ نہیں لڑ سکتے۔ یہ دشمن کسی منطق اور عقلانیت سے مطابقت نہیں رکھتا؛ لہٰذا ہمیں مختلف شعبوں اور گوناگوں میدانوں میں دنیا بھر کی عوام سے رابطہ قائم کرنا ہوگا اور مجرموں کے چہرے سے پردہ اٹھانا ہوگا۔
