ایران کے خلاف گورنرز بورڈ کی قرارداد قانونی حیثیت سے محروم ہے، نوش آبادی

وزارتِ خارجہ کے پارلیمانی امور کے ڈائریکٹر جنرل اور عمان میں ایران کے سابق سفیر نے ایران کے خلاف بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے گورنرز بورڈ کی قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا: یہ قرارداد جو امریکہ اور تین یورپی ممالک کی تجویز پر منظور کی گئی ہے، قانونی حیثیت سے محروم اور ایجنسی کے فرائض اور ذمہ داریوں کے ساتھ متصادم ہے۔
خبر کا کوڈ: 6242
تاریخ اشاعت: 13 September 2026 - 18:46 - 04December 2647

وزارتِ خارجہ کے پارلیمانی امور کے ڈائریکٹر جنرل اور پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سابق رکن حسین نوش آبادی نے دفاع پریس کے سیاسی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے گورنرز بورڈ کی قرارداد اور ایران کے جوہری معاملے کو دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے جانے کے ردعمل میں کہا: یہ قرارداد جو امریکہ اور یورپی گروپ کی تجویز پر منظور کی گئی ہے اور جس میں ایران پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدےNPT   اور جامع مشترکہ ایکشن پلان کی شقوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر پورا نہ اترنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، بنیادی طور پر قانونی حیثیت سے محروم اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے فرائض اور ذمہ داریوں کے ساتھ متصادم ہے۔

نوش آبادی

انہوں نے مزید کہا: ایجنسی کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی نہ ہونے کے دعوے اور ملک کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل تک بھیجنے کے لیے قرارداد کی منظوری، بنیادی طور پر نہ تو کوئی تکنیکی موضوع ہے اور نہ ہی قانونی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ ڈالنے، مراعات حاصل کرنے اور اس تعطل سے نکلنے کے لیے ایک سیاسی اقدام ہے جس کا سامنا امریکہ کو خطے میں ہے۔

نوش آبادی نے ایران کی جوہری تنصیبات تک ایجنسی کے معائنہ کاروں کی رسائی روکنے سے متعلق پیش کیے جانے والے دعوے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا: اس حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال، امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت اور ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کا نتیجہ ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا: ایجنسی نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے غیر قانونی حملوں کی مذمت کرنے اور اپنے بنیادی اور قانونی فرائض انجام دینے کی بجائے ایسی رپورٹس تیار کی ہیں جو ضروری قانونی اور پروفیشنل بنیاد سے محروم ہیں اور عملی طور پر ان ممالک کو بہانہ فراہم کر رہی ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دیرینہ دشمنی رکھتے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے پارلیمانی امور کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا: افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گورنرز بورڈ ان ممالک کے ہاتھوں ایک ایسے آلے میں تبدیل ہو گیا ہے جنہوں نے ایران کی ٹریٹی کے تحت موجود جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں، اقوام متحدہ کے منشور اور جوہری سلامتی اور تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

نوش آبادی نے ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل تک بھیجنے کے ایجنسی کے فیصلے کو جانبدارانہ اور سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا: اس طرح کا طرزِ عمل ایجنسی کے مقام اور اس کی حیثیت کو ایک پروفیشنل اور آزاد ادارے سے گرا کر ایسے سیاسی ادارے میں تبدیل کر دیتا ہے جو دوسروں کے ہاتھوں کا آلہ کار بن جائے۔

انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملوں پر ایجنسی کے رکن ممالک اور اس ادارے کی سربراہی کی جانب سے فیصلہ کُن ردعمل نہ دیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: یہ امر باعثِ افسوس ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کو اب تک ایجنسی کے رکن ممالک کی جانب سے اجتماعی اور شایانِ شان ردعمل اور اس ادارے کے سربراہ کی جانب سے فیصلہ کُن مذمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

نوش آبادی نے مزید کہا: ایجنسی کی رپورٹ میں اس امر کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملے، ایران کی جانب سے بعض تنصیبات تک رسائی دینے سے گریز کی اصل وجہ تھے، نہ کہ کوئی اور معاملہ۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی کی رپورٹس میں ایران کے پُر امن جوہری پروگرام اور اس ادارے کے ساتھ ہمارے ملک کے تعاون کو نظر انداز کیا گیا ہے، مزید یہ کہ ٹریٹی کے تحت موجود جوہری تنصیبات کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کے نتائج کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا اور بالآخر ایران کے خلاف ایک قرارداد جاری کر دی گئی۔

وزارتِ خارجہ کے پارلیمانی امور کے ڈائریکٹر جنرل نے زور دے کر کہا: امید ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کے مطابق خود اس قرارداد اور اسلامی جمہوریہ ایران میں ٹریٹی کے نفاذ سے متعلق موجودہ صورتحال کی وجوہات اور بنیادی عوامل کا جائزہ لے گی۔

انہوں نے مزید کہا: سلامتی کونسل کو ایران کی ان جوہری تنصیبات کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی بلا جواز اور غیر منصفانہ جارحیت کے براہِ راست نتائج کو مدنظر رکھنا چاہیے جو ایجنسی کی ٹریٹی کے تحت رہی ہیں؛ بالخصوص اس حقیقت کے پیش نظر کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان تنصیبات کو متعدد مرتبہ حملوں اور بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

نوش آبادی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی ساکھ کو اس کی غیر جانب داری، آزادی اور پروفیشنل نوعیت سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا: اگر ایجنسی ان ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتی ہے اور جانبدارانہ، نان پروفیشنل اور غیر آزادانہ طرزِ عمل اختیار کرتی ہے تو وہ بین الاقوامی نظام میں اپنی ساکھ کھو دے گی اور جارح اور مہم جُو ممالک کے مفادات کا کھلونا بن جائے گی۔

انہوں نے آخر میں کہا: انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایجنسی نے غلط رپورٹ تیار کر کے، غلط اندازہ لگا کر اور اپنی بنیادی ذمہ داری کو نظر انداز کر کے بعض ممالک کے سیاسی اقدامات، قانونی کارروائیوں اور جارحانہ رویوں کے لیے بہانہ فراہم کیا ہے۔ اگر یہ بے بنیاد اور غیر مؤثر رپورٹس اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی اقدامات اور جارحیت کا باعث بنتی ہیں تو اس کے نتائج میں ایجنسی بھی شریک ہوگی اور اسے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ٹیگس: ایران ، حکومت
آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں