ایرانی فوج کی صلاحیت پر دشمن حیران
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا: ایران اور امریکہ کی جنگ میں ایرانی مسلح افواج نے گزشتہ جنگ کے تجربات اور طریقہ کار، حکمتِ عملی، ساز و سامان اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں پر انحصار کرتے ہوئے اپنی ڈیٹرنس کی صلاحیت اور خطروں سے نمٹنے کے طریقہ کار کو بہتر بنایا ہے۔ آج ہمارے پاس ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ڈیٹرنس کی صلاحیت موجود ہے۔ ہم نے جنگ کے طریقہ کار اور اپنی حکمتِ عملیوں میں اصلاح کی یے اور انہیں بہتر بنایا ہے اور فوجی جارحانہ نظریہ اختیار کیا ہے۔

اس نظریے کے مطابق جب بھی دشمن، ملک کے کسی بھی حصے پر حملہ یا اس کے خلاف جارحیت کرے گا، جیسا کہ ملک کے جنوبی حصوں کو گزشتہ ہفتوں کے دوران نشانہ بنایا گیا، تو ہم زیادہ شدت اور وسیع پیمانے پر جواب دیں گے؛ تاہم بعض مواقع پر ہم نے دشمن کے ٹھکانوں کے خلاف پیشگی جنگی کارروائی بھی کی ہے۔
مسلح افواج کی جانب سے کُردستان کے علاقے میں انقلاب مخالف اور علیحدگی پسند گروہوں کے ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے آپریشنز، پہل اپنے ہاتھ میں لینے اور دشمن کو کسی بھی اقدام سے روکنے کے لیے پیشگی جنگ کی کارروائیوں کی مثالیں ہیں۔ یہ اقدامات اور پیشگی کارروائیاں مکمل طور پر بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے دائرہ کار میں تھیں کیونکہ ان میں تناسب، فوری ضرورت اور ناگزیر ضرورت کے اصول موجود تھے۔ ہماری جانب سے کی گئی پیشگی کارروائیاں مکمل طور پر ڈیٹرنٹ ثابت ہوئی ہیں اور ہم دشمن کو کسی بھی جارحیت سے روکنے اور ملک کی مغربی سرحدوں کے خلاف دشمن کی کارروائی کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔
مسلح افواج کے طریقہ کار اور حکمتِ عملی، ساز و سامان اور ٹیکنالوجی میں آج جو تبدیلیاں ہم نے حاصل کی ہیں، وہ گزشتہ جنگ کے تجربات اور جاری جنگ کے تسلسل کا نتیجہ ہیں۔ دشمن کی جارحیت پسندی جو کسی بھی بین الاقوامی اصول اور انسانی حقوق کے قوانین کی پابند نہیں رہی، نے بھی ان تبدیلیوں میں اثر ڈالا ہے۔ ان تمام عوامل کے مجموعے نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے کہ دشمن کو روکنے کے لیے ہمیں اپنی فوجی حکمتِ عملی، طریقہ کار اور فوجی نظریے میں اصلاح کرنا ہوگی۔
جنگ میں ایرانی فوج کی فورسز کا کردار
۱۔ فوج کی بری فورس: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اس جنگ میں انتہائی طاقتور انداز میں سامنے آئی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فورس نے انتہائی تیز رفتار اور فیصلہ کُن اقدام کرتے ہوئے تمام زمینی سرحدوں پر تعیناتی اختیار کی۔ آج تمام زمینی سرحدیں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے مسلط دستوں کی نگرانی میں ہیں اور یہی عامل اس بات کا باعث بنا کہ دشمن ایران کی سرزمین پر زمینی جارحیت سے باز رہا اور اسے یہ اقدام کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
۲۔ فوج کا فضائی دفاع: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کا فضائی دفاع اور ملک کا مشترکہ ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹر جو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ماتحت ہے اور فوج کی ائیر ڈیفنس فورس اور سپاہ پاسداران کی ایرو سپیس فورس کی ائیر ڈیفنس کمانڈ کو اپنے آپریشنل کنٹرول میں رکھتی ہے، دشمن کے ہوائی ذرائع کو مار گرا کر اور تباہ کر کے ملک کی فضائی حدود کو دشمن کے طیاروں اور ڈرونز کے لیے غیر محفوظ بنانے میں کامیاب رہی۔ جنگ کے ابتدائی دنوں سے لے کر جنگ کے اختتام اور آج تک، ملک کے ائیر ڈیفنس ہیڈکوارٹر کی جانب سے ملک کی فضائی حدود پر یہ تسلط مزید مضبوط ہوا ہے اور دشمن نے فضائی جارحیت کرنے کی کم ہی جرأت کی ہے۔
۳۔ فوج کی بحریہ: اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ بھی دشمن کے اس دعوے کے برخلاف کہ اس نے ایرانی بحریہ کو تباہ کر دیا ہے، آج آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے سے لے کر بحرِ ہند کے شمالی حصے تک کنٹرول رکھتی ہے۔ اس علاقے میں آمد و رفت کرنے والے تمام بحری جہاز اور بحیرہ عمان میں موجود تمام بحری جہاز اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی نگرانی میں ہیں۔ دشمن کے بحری جہاز جن میں طیارہ بردار بحری جہاز اور ڈسٹرائرز بھی شامل ہیں، ہماری ساحلی حدود کے قریب آنے کی جرأت نہیں کر سکے اور آج بھی جرات نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ اس علاقے پر ہماری طاقتور بحریہ کا تسلط ہے جس نے ڈرونز اور میزائلوں کی فائرنگ کے ذریعے اس علاقے میں اپنی طاقت اور اقتدار کو مستحکم کیا ہے۔
۴۔ فوج کی فضائیہ: اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ نے بھی جنگ شروع ہونے کے صرف دو روز بعد خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف انتہائی مؤثر اور تباہ کُن آپریشنز کیے۔ کویت میں واقع بوہرینگ اڈے کو فضائیہ کے F-5 طیاروں نے نشانہ بنایا جبکہ قطر میں امریکی اڈے کو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی فضائیہ کے سخوئی طیاروں نے نشانہ بنایا۔ فضائیہ کے جنگی طیاروں نے عراق کے کُردستان میں انقلاب مخالف اور علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں کو بھی متعدد مرتبہ نشانہ بنایا اور جنگ میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیا۔ آج بھی فضائیہ میں یہ تیاری موجود ہے، خواہ جنگی طیاروں کے اعتبار سے ہو یا ڈرونز کے اعتبار سے۔
ایران کی صلاحیت پر دشمن حیران
مختلف شعبوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی صلاحیتوں، خواہ سافٹ ویئر ہو یا ہارڈ ویئر، کے حوالے سے دشمن کے متعدد غلط محاسبات کے باعث وہ حیران اقر ششدر ہو گیا ہے۔ دشمن مسلح افواج کی جوابی کارروائی کی صلاحیت سے حیران ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی بناوٹ نے بھی دشمن کو حیران کر دیا۔
یہ صلاحیتیں اس قدر وسیع رہی ہیں کہ کسی بھی ملک نے خود کو امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حتیٰ کہ امریکہ کے مغربی اتحادی اور نیٹو کے ارکان بھی اس جارحیت اور حملے میں امریکی صدر کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوئے۔
جنگ کے آغاز میں دشمن کو کئی حیران کُن معاملات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلا معاملہ اسلامی نظام کے لیے عوام کی موجودگی اور حمایت تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ شروع ہوتے ہی عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور نظام کا تختہ الٹ دیں گے۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس نے ایرانی عوام کی مدد کے لیے یہ فوجی حملہ کیا ہے لیکن دشمن کو اس معاملے میں حیرت انگیز صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ جنگ اور جاری جنگ کے تمام تجربات، طریقہ کار، حکمتِ عملی، ساز و سامان اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں کے ساتھ مل کر مسلح افواج کو فوجی نظریے میں اصلاح کی جانب لے گئے ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ ڈیٹرنس کی صلاحیت میں اضافہ اور کسی بھی حملے اور جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیاری کی صورت میں سامنے آیا ہے؛ ایسی ڈیٹرنس جو آج پہل اپنے ہاتھ میں لینے، پیشگی جنگ اور زیادہ وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی صلاحیت کی بنیاد پر تشکیل پائی ہے۔
