امریکہ کی بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے، جنرل اکرمی نیا

ایرانی فوج کے ترجمان نے بیش قیمت امریکی ساز و سامان کو سستے اور غیر متناسب ہتھیاروں کے مقابلے میں در پیش چیلنج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’لاگت اور فائدے‘‘ کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ کی فوجی طاقت اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
خبر کا کوڈ: 6252
تاریخ اشاعت: 16 September 2026 - 22:38 - 07December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے ’’سیرت اور عربی خطاطی‘‘ کانفرنس میں اظہارِ خیال کیا۔ یہ کانفرنس ایران میں پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی کی میزبانی میں پیغمبر اکرم (ص) کی ولادتِ باسعادت کی 1500ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں جوہری توانائی کی سابق تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی اور فارسی زبان و ادب کی اکیڈمی کے سربراہ غلام علی حداد عادل نے بھی شرکت کی۔

برگیڈیر جنرل اکرمى‌نیا

انہوں نے کہا: ایران کے ساتھ جنگ میں یہ ثابت ہو گیا کہ امریکہ ایک جائز سپر پاور کی حیثیت سے سامنے آنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ امریکہ کو ہارڈ ویئر اور فوجی طاقت کے اعتبار سے بھی اور سافٹ ویئر اور اخلاقی اعتبار سے بھی سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ اپنا مقام کھو چکا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے مزید کہا: بائے پولر سسٹم کے خاتمے کو تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد آج دنیا پہلے سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ کثیر الجہت اور ملٹی پولر سسٹم کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، دنیا مغرب اور امریکہ کی بالادستی کے دور سے نکل کر امریکہ کے بعد اور مغرب کے بعد کے ایسے نظام کی جانب بڑھ رہی ہے جس میں ممالک کو اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے حصول کے لیے زیادہ آزادیِ عمل اور خودمختاری حاصل ہو اور قومیں ایسی دنیا میں زندگی گزاریں گی جو ظلم، جبر اور جارحیت سے پاک ہو۔

انہوں نے کہا: مغربی عالمی نظام میں لذت پر مبنی فلسفے، غلبہ حاصل کرنے کے فلسفی ڈھانچے اور اعلیٰ انسانی اقدار سے عاری رویوں نے گزشتہ صدیوں کے دوران انسانیت کے لیے سنگین نتائج پیدا کیے ہیں۔ لبرلزم کی فکر اور اس پر مبنی نظام نے گزشتہ دہائیوں میں عالمی برادری اور دنیا کی محروم اور مستضعف اقوام پر انتہائی تباہ کُن اور خوفناک اثرات مرتب کیے ہیں۔ معاصر لبرل نظریات اپنی فلسفیانہ، بناوٹ اور اقداری خامیوں کے باعث انسانی معاشرے میں سلامتی اور امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مغربی نظریات، جیسے طاقت اور قومی ریاست پر مبنی حقیقت پسندی، آئیڈیلزم اور مختلف ڈھانچوں پر مرکوز توجہ نیز بین الاقوامی نظم سے متعلق خرد کے نظریات جیسے ’’بالادستی کا نظم‘‘ اور ’’عالمی نظام‘‘، جو سب مغربی لبرلزم کی فکر سے پیدا ہوئے ہیں، گزشتہ صدیوں کے دوران دنیا کی سلامتی اور انسانیت کے امن کو یقینی بنانے میں عاجز اور ناکام رہے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے مزید کہا: انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے دعویٰ کیے جانے والے اقدار اور ویتنام، افغانستان، عراق اور ایران کی جنگوں میں امریکہ کے غیر انسانی رویوں کے درمیان تضاد نے اس ملک کے منافقانہ چہرے سے نقاب ہٹا دیا ہے اور امریکہ کی شیطانی میڈیا کی سلطنت کی جانب سے بنائی اور سنواری گئی اخلاقی تصویر کو تباہ کر دیا ہے۔

جنرل اکرمی نیا نے کہا: امریکہ اپنے زوال کے دور میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ’’جارحانہ‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ رویوں کا شکار ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی قواعد، مثلاً طاقت کے استعمال اور جارحیت کی ممانعت، دیگر ممالک کے اندرونی امور میں مداخلت اور صیہونی حکومت کو ایک غاصب اور جارح حکومت کے طور پر حمایت کرنے سے لاتعلقی نے بین الاقوامی نظام میں امریکہ کے مقام کو تنزلی سے دو چار کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ ایک طاقتور اور مستحکم چہرے کی بجائے ایک بے چین، غیر متوازن اور بے قرار فریق میں تبدیل ہو گیا ہے۔

فوج کے ترجمان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دیگر ممالک کے خلاف امریکہ کے خطرات بنیادی طور پر کلاسیکی فوجی شکل سے تبدیل ہو کر ہائبرڈ خطرات بن چکے ہیں، کہا: ان خطرات میں سیاسی دباؤ، معاشی پابندیاں، انٹیلیجنس کی جنگ، سائبر حملوں اور یقیناً فوجی حملوں کا امتزاج شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا: بدقسمتی سے بین الاقوامی تنظیمیں اپنے بانیوں یعنی مغربی ممالک کی عدم توجہی کے باعث بین الاقوامی اور علاقائی اختلافات اور تنازعات کے حل میں مطلوبہ کارکردگی اور تاثیر کھو چکی ہیں۔ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی، صیہونی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قواعد اور انسانی حقوق کے قوانین کی واضح اور طویل المدت خلاف ورزی نے علاقائی اور عالمی مشکلات کے انتظام میں بین الاقوامی اداروں کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ بلاشبہ عالمگیریت کے دور اور بین الاقوامی نظام کی منتقلی کے اس مرحلے میں، جو اب بھی انارکی کی کیفیت میں ہے، سمجھدار ممالک کا باہمی تعاون عالمی سلامتی اور امن کے حصول کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ بین الاقوامی ماحول کی پیچیدگی اور فریقین، قواعد اور رجحانات میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کے باعث حکومتوں نے مختلف خطروں کا مقابلہ کرنے اور ماحول میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے دو طرفہ اور کثیر الجہت تعاون اور باہمی رابطے کی صلاحیت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیا کے خطے میں ایک فیصلہ کُن ملک اور بین الاقوامی نظام میں ایک اہم فریق کی حیثیت سے اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں بنیادی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہمیشہ مغربی ایشیا میں پائیدار سلامتی کے حصول کا خواہاں رہا ہے کہ جس میں خطے کے ممالک کی موجودگی اور ایکٹیو شرکت شامل ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جاری جنگ اور ایران کے خلاف امریکہ کی جارحیت نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ غیر ملکیوں کے ساتھ تعاون اور درآمد شدہ سلامتی خطے میں امن و سکون کی ضمانت نہیں ہے، مزید کہا: اس جنگ نے ان علاقائی ممالک کی سلامتی اور مفادات سے امریکہ کی بے اعتنائی کو ظاہر کیا جو امریکی فوجیوں کی میزبانی کر رہے تھے۔ اس جنگ میں واضح ہو گیا کہ امریکہ کی ترجیح اپنی اور صیہونی حکومت کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے نہ کہ خطے کے ممالک کی سلامتی۔

فوج کے ترجمان نے یاد دلایا: غیر متوازن ہتھیاروں، سستے ڈرونز اور ہائپرسونک میزائلوں کے ظہور نے طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے اور امریکی بیش قیمت ساز و سامان مثلاً طیارہ بردار بحری جہازوں کی مطلق برتری کو سنگین چیلنج سے دو چار کر دیا ہے۔ ’’لاگت اور فائدے‘‘ کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ کی فوجی طاقت اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

فوج کے ترجمان نے اعتراف کیا: اس حقیقت نے علاقائی فریقوں کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں تا کہ وہ تعاون اور باہمی روابط کے ذریعے طاقت کے خلاء کو پُر کریں، علاقائی سلامتی کو یقینی بنائیں اور نوآبادیاتی اور سامراجی نظریات سے دور رہتے ہوئے خطے کے تمام ممالک کے مفادات کو پورا کریں۔

جنرل اکرمی نیا نے کہا: اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف ایران کا ایک مسلمان اور برادر ہمسایہ ہے بلکہ برصغیر اور جنوب مغربی ایشیا میں استحکام کے ستونوں میں سے ایک بھی شمار ہوتا ہے۔ پاکستان اور ایران خطے کے اہم فریق ہیں اور مستقبل کے علاقائی معاملات میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا: دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تاریخی اور مذہبی اشتراک نے ہمیشہ پاکستان اور ایران کی عوام کے درمیان تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: پاکستان کو خطے کے طاقت کے ڈھانچے اور سیکیورٹی کے ماحول کا گہرا ادراک ہے اور اس نے جاری جنگ میں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کردار نے دونوں اقوام کے درمیان پہلے سے موجود تعلقات اور قلبی وابستگی کو مزید مضبوط کیا ہے۔

فوج کے ترجمان نے کہا: ہم تاریخ کے ایک حسّاس مرحلے میں ہیں؛ ایسے دور میں جب تمام مسلمان پہلے سے کہیں زیادہ خاتم النبیین (ص) کی اخلاقی سیرت اور طرزِ عمل کے نمونے کے محتاج ہیں۔ آج کی پیچیدہ اور ہائبرڈ جنگوں میں تنازعات، فوجی میدان سے نکل کر ذہنوں اور بیانیوں کے میدان تک پہنچ چکے ہیں اور تنازعات کا دائرہ انسانی ادراک اور اذہان تک پھیل چکا ہے۔

انہوں نے کہا: اپنے دور کی ہائبرڈ جنگوں کا سامنا کرتے ہوئے پیغمبر اکرم (ص) کا صبر کی حکمتِ عملی اور اس میں تدبر، تمام پیروکاروں بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ’’نفسیاتی ثابت قدمی‘‘ اور ’’فکری تحفظ‘‘ کا بہترین نمونہ ہے۔ نوجوان نسل پیغمبر اعظم اسلام (ص) کی اخلاقی اور عملی تعلیمات کی روشنی میں اپنے ملک اور عالمِ اسلام کے مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔

جنرل اکرمی نیا نے کہا: آج عالمِ اسلام کی نوجوان نسل کو انسانی سعادت اور خلیفۂ الٰہی کے مقام تک پہنچانے کے لیے اسلام کے اعلیٰ مقاصد پر گہری توجہ کی ضرورت ہے۔ مغرب کی وسیع ثقافتی یلغار جو جدید مواصلاتی اور معلوماتی ٹیکنالوجیز پر انحصار کرتے ہوئے مسلم معاشروں کے عقائد اور اعتقادات کو نشانہ بنا رہی ہے، کے پیش نظر شرک اور سامراج کی فکر کے مقابلے میں عالمِ اسلام کی فکری بیداری ایک بنیادی ضرورت ہے اور یہ اہم مقصد صرف رحمت کے پیغمبر (ص) کی اعلیٰ تعلیمات کو مضبوطی سے تھام کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں