21 ستمبر کا انقلاب؛ فاسد حکومت کا انہدام اور طاقتور یمن کا طلوع
تحریر: الناز رحمت نژاد
دفاع پریس کے بین الاقوامی گروپ کی رپورٹ کے مطابق: آج 21 ستمبر، مغربی ایشیاء کی تاریخِ حاضر کے ایک اہم موڑ اور یمنی عوام کے انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کی یاد دلاتا ہے۔ ایسا انقلاب جس نے انحصار کے کھوکھلے ڈھانچوں کو توڑ دیا اور اس ملک کی سیاسی خود مختاری میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

تعمیرِ نو کے وہم سے لے کر بحران کی حقیقت تک
21 ستمبر 2014ء کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2011ء کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یمن کی عوام کی ’’علی عبداللہ صالح‘‘ کے خلاف بغاوت کے بعد، ’’عبدربہ منصور ہادی‘‘ جو 1997ء سے 2011ء تک نائب کے منصب پر فائز رہے تھے، ’’المؤتمر الشعبی‘‘ اور ’’حزب الاصلاح‘‘ جیسی اہم جماعتوں کی حمایت سے صدارت کی باگ ڈور سنبھالنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کا وعدہ فوج کی تعمیرِ نو اور طرزِ حکومت کے تعین کے لیے قومی مذاکرات کا انعقاد تھا۔ تاہم عملی طور پر جو کچھ ہوا، وہ ناکارآمد ہونے کے تسلسل اور دیرینہ بحرانوں، بالخصوص ’’صعدہ‘‘ اور ’’جنوبی علاقوں‘‘ کے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی تھی۔
ہادی کے سیاسی طرزِ عمل اور قومی مطالبات کا جواب دینے میں ان کی حکومت کی ناکامی نے عوام اور حکومت کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا یہاں تک کہ بالآخر ’’انصاراللہ‘‘ اور ’’المؤتمر‘‘ پارٹی نے موجودہ صورتحال کے خلاف بغاوت کر دی اور 21 ستمبر 2014ء کو دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس عوامی بغاوت کے نتیجے میں قومی وفاق کی حکومت تحلیل ہوئی، امن و قومی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط ہوئے اور بالآخر ’’قومی نجات کی حکومت‘‘ تشکیل دی گئی جو صنعاء کے فیصلوں میں غیر ملکی اثر و رسوخ کے خاتمے کا نقطۂ آغاز تھا۔
یمن، جو 2014ء سے قبل ریاض کے ’’پچھواڑے‘‘ کے طور پر جانا جاتا تھا اور اپنے اہم پالیسیز کی تشکیل میں آزادانہ رائے نہیں رکھتا تھا، اس عوامی تحریک کے ذریعے قومی عزت و وقار کی بحالی کی جانب گامزن ہوا۔ آج علاقائی توازن میں جس ملک کو ’’طاقتور یمن‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہ اسی انقلابی بصیرت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
کامیابیاں؛ تعزسے باب المندب تک
آج، اس تاریخی دن کے دس سال بعد، یمن اب ماضی کی وہ زیرِ حمایت ریاست نہیں رہا اور خطے میں اس کے جغرافیائی اور سیاسی اہمیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
تعز اور باب المندب کی اہم شاہراہوں پر کنٹرول: یمنی عوام نے سعودی-اماراتی اتحاد کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے تعز جیسے مشکل اور اسٹریٹجک میدانوں میں، جو صنعاء کا اہم دروازہ ہے، اپنی طاقت مستحکم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس سے آگے بڑھ کر آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر پر آپریشنل کنٹرول نے یمن کو دنیا کی توانائی کی راہداریوں میں سب سے زیادہ فیصلہ کُن فریق بنا دیا ہے۔ آج کوئی بھی بحری طاقت صنعاء کی مرضی کو مدنظر رکھے بغیر یمن سے متصل پانیوں کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
انصاراللہ نے اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے خود کو ایک نیم فوجی طاقت سے ایک جدید اور مسلح فوج میں تبدیل کر لیا ہے، جس نے پریسائزڈ بیلسٹک میزائلوں اور تباہ کُن ڈرونز کے ذخیرے کے ذریعے دشمن کی فضائی برتری کو بے اثر کر دیا ہے۔
21 ستمبر کے انقلاب نے ثابت کیا کہ ’’مزاحمت‘‘ محض ایک حکمتِ عملی کا انتخاب نہیں بلکہ بقا اور ترقی کے لیے یمن کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی ہے۔ آج یمن اس مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ صرف سیکیورٹی خطرات کا جواب دیتا ہے بلکہ ’’محورِ مزاحمت‘‘ کے اہم ارکان میں سے ایک کی حیثیت سے فلسطین کے نصب العین کی حمایت میں میدان میں پیش قدمی کرنے والا ملک ہے۔
آج کا یمن، 2014ء کے انقلاب کی پشت پناہی اور ’’ناکام حکومتوں‘‘ کے دور سے گزرنے کے بعد اسٹریٹجک بلوغت حاصل کر چکا ہے اور اس نے مغربی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو عوامی تحریکوں کے حق میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ حقیقت ثابت کرتی ہے کہ ایک مؤمن قوم کی عزم و ارادے کی طاقت ہر سازش پر غالب آ سکتی ہے۔
